لندن//برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے ’’کرائسٹ چرچ میں دہشت ناک دہشت گردانہ حملے‘‘ پر نیوزی لینڈ کے عوام کے ساتھ انتہائی گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ مے کے مطابق، ’’میری ہمدریاں ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں جو تشدد کے اس بیمارکن عمل سے متاثر ہوئے۔‘‘روسی صدر ولادی میر پوتین کے بقول، ’’نماز کے لیے جمع ہونے والے پر امن لوگوں پر حملہ سفاکی، بربریت اور دہشت خیز ہے۔‘‘ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے نام اپنے پیغام میں صدر پوٹن نے مزید کہا، ’’مجھے امید ہے کہ ذمہ داروں کو انتہائی سخت سزا دی جائے گی۔‘‘جرمن چانسلر انجیلا مرکل کا کہنا تھا کہ جرمنی نیوزی لینڈ کی عوام کے ساتھ ان کے ایسے ساتھی شہریوں کی پر امن طریقے سے اپنی مساجد میں عبادت کرتے ہوئے، نسل پرستانہ نفرت پر مبنی حملے میں ہونے والی ہلاکتوں پر، شدید غمگین ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہے۔یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹْسک نے اس حملے کو ’’نیوزی لینڈ سے ملنے والی خوفناک خبر‘‘ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ’’یہ وحشیانہ حملہ . . . نیوزی لینڈ کی عوام کی اس برداشت اور شائستگی میں کمی نہیں لا پائے گا، جس کے لیے وہ شہرت رکھتے ہیں۔‘‘نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اس واقعے کو ’’نیوزی لینڈ کا ایک تاریک ترین دن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ بات اب واضح ہے کہ اس حملے کو صرف ایک دہشت گردانہ حملہ‘‘ ہی کہا جا سکتا ہے۔فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے اس ’نفرت انگیز حملے‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کسی بھی طرح کی شدت پسندی کے خلاف ہے۔نیٹو کے سربراہ ڑینس اسٹولٹن برگ کے مطابق امریکی سربراہی میں قائم یہ اتحاد ’’آزاد معاشروں اور مشترکہ اقدار کے دفاع میں اپنے دوست اور پارٹنر ملک نیوزی لینڈ کے ساتھ کھڑا ہے‘‘۔ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز کے بقول ’’ہمارے معاشروں کو تباہ کرنے کے خواہش مند متعصب اور شدت پسندوں‘‘ کے اس حملے کے بعد ان کی ہمدردیاں نیوزی لینڈ کے متاثرین کے ساتھ ہیں۔
حملہ آور کون تھا؟
ویلنگٹن// آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے نیوزی لینڈ کی مسجد پر حملہ کرنے والے شخص برینٹن ٹارنٹ کو دائیں بازو کا ایک دہشت گرد قرار دیا ہے۔نیوزی لینڈ کے پولیس کمشنر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلوی پولیس یا سکیورٹی اداروں کے پاس اس شخص کے بارے میں کوئی تفصیلات یااطلاعات نہیں تھیں۔حملہ آور جس نے سر پر لگائے گئے کیمرے کی مدد سے النور مسجد میں نمازیوں پر حملے کو فیس بک پر لائیو دیکھایا، اپنے آپ کو اٹھائیس سالہ آسٹریلین برینٹن ٹارنٹ بتایا۔ اس فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح النور مسجد کے اندر مرد، عورتوں اور بچوں پر اندھادھند فائرنگ کر رہا ہے۔نیوزی لینڈ کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے کے سلسلے میں پولیس نے ایک گھر پر چھاپہ مارا ہے۔ملک کی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ واضح طور پر ایک دہشت گرد حملہ ہے۔اپنی ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ کرائسٹ چرچ کی مساجد میں جو بھی ہوا ہے وہ ایک نا قابلِ قبول عمل ہے اور ایسے واقعات کی نیوزی لینڈ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جو لوگ اس حملے میں متاثر ہوئے ہیں وہ ہمارے اپنے ہیں اور نیوزی لینڈ ان کا اپنا ملک ہے۔
ملکہ برطانیہ کا حملے پر رنج و غم کا اظہار
لندن//ملکہ برطانیہ ملکہ الزبتھ نے نیوزی لینڈ کرائسٹ چرچ میں ہونے والے دلخراش واقعہ پر اپنے ’’گہرے رنج وغم‘‘ کا اظہار کیا ہے۔بربنائے عہدہ ملکہ نیوزی لینڈ کی سربراہ بھی ہیں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’مجھے آج کرائسٹ چرچ میں رونما ہونے والے واقعات پر انتہائی دکھ ہوا ہے۔ شہزادہ فلپ اور میں خود اس واقعہ میں اپنے پیاروں کو کھونے والوں کے ساتھ تعزیت کرتے ہیں۔‘‘انھوں نے فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مرہم پٹی کرنے والے ایمرجنسی سروسز کے اہلکاروں اور امدادی رضاکاروں کی خدمات کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں میری تمام دلی دعائیں اہالیاں نیوزی لینڈ کے ساتھ ہیں۔
دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں: سعودی عرب
ریاض// سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے نگران ذرائع نے مملکت کی جانب سے جنوبی نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں نماز جمعہ کے دوران نمازیوں پر فائرنگ کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس حملے میں دسیوں نمازی شہید اور زخمی ہوئے تھے۔دفتر خارجہ کے ذرائع نے یہ بات زور دے کر کہی کہ سعودی عرب دہشت گردی کی تمام شکلوں اور حالتوں کی مذمت کرتا ہے۔ یہ مذمت دہشت گردی کرنے والے کے رنگ، نسل اور مذہب سے بالا تر ہو کر کی جاتی ہے کیونکہ مملکت سمجھتی ہے کہ دہشت گرد کا کوئی وطن اور مذہب نہیں ہوتا۔بیان میں سعودی عرب کی جانب سے مذاہب کے احترام کی اپیل کرتے ہوئے فائرنگ کے نتیجے میں لقمہ اجل بننے والوں کے لواحقین سے تعزیت اور نیوزی لینڈ کی دوست حکومت اور عوام کے لئے نیک خواہشات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا بھی کی گئی ہے۔
حملے میں ایک سعودی شہری زخمی
درایں اثنا نیوزی لینڈ میں سعودی سفارتخانے نے تصدیق کی ہے کہ کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر کئے جانے والے دہشت گرد حملوں میں ایک سعودی شہری بھی زخمی ہوا ہے۔ٹویٹر پر سفارتخانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم جنوبی جزیرے کرائسٹ چرچ نماز کے دوران مسجدوں پر ہونے والے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ اس حملے میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد وشمار تفصیل دیکھتے ہوئے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فائرنگ سے ایک سعودی شہری بھی زخمی ہوا ہے۔
مسجد حملے میں زخمی ہونے والا سعودی نوجوان
سفارتخانے نے نیوزی لینڈ میں موجود سعودی شہریوں کو احتیاط اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ اور حکومت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے غیر ضروری گھروں سے نکلنے سے گریز کیا جائے۔ سفارتخانے نے ہنگامی صورت میں رابطے کے لئے ایک نمبر بھی اپنے شہریوں کو بھیجا ہے۔
نیوزی لینڈ میں اب تک ہونے والے دہشت گردی کے بڑے واقعات
واشنگٹن// جنوب مغربی بحرالکاحل کے جزیرہ نما ملک نیوزی لینڈ تیسرے بڑے شہر کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد میں 15 مارچ کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کو اب تک دنیا نیوزی لینڈ کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا ا?رڈن نے ان حملوں کو دہشت گردی قرار دیا ہے جب کہ کئی سیاست دانوں نے اسے ملک کا سیاہ دن بھی قرار دیا ہے۔ماضی میں برطانوی سلطنت کے زیر تسلط رہنے والے اس ملک کو دنیا کی پر امن ترین ممالک میں بھی شمار کیا جاتا ہے، جہاں دہشت گردی کے واقعات قدرے کم رونما ہوتے ہیں۔تاہم ایسا بلکل بھی نہیں کہ نیوزی لینڈ میں کبھی کوئی نامناسب واقعہ پیش نہ ا?یا ہو یا اسے بھی دہشت گردی کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔نیوزی لینڈ کی گزشتہ 70 سالہ تاریخ میں کئی نامناسب واقعات پیش ا?ئے، تاہم حیران کن طور پر کسی بھی نامناسب اور دہشت گردی کے واقعے میں کبھی بھی اتنے زیادہ افراد ہلاک نہیں ہوئے جتنے 15 مارچ کو مساجد پر کییگئے حملوں میں لوگ جاں بحق ہوئے۔گزشتہ 70 سال میں 15 مارچ 2019 کا کرائسٹ چرچ واقعہ نیوزی لینڈ کا دہشت گردی کا سب سے بڑا، ہولناک اور ڈراؤنا واقعہ ہے جس میں 50 سے زائد مسلمان لقمہ اجل بنے۔اس ہولناک واقعے سے قبل 2007 میں نیوزی لینڈ کے اندر بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ سرگرمیاں ہونے کی اطلاع پر حکومت تحرک میں ا?ئی تھی۔2007 میں نیوزی لینڈ پولیس نے ملک بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے پیش نظر بڑے پیمانے پر انسداد دہشت گردی گرفتاریوں کی مہم شروع کی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے قبل ہی 2 درجن کے قریب مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے بڑے پیمانے پر اسلحہ و بارود برا?مد کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔پولیس کی ان گرفتاریوں کو سماجی تنظیموں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا اور پولیس پر الزام لگا کہ اس نے غیر قانونی طریقے سے عام اور بے قصور افراد کو بھی گرفتار کیا ہے۔بعد ازاں 2011 میں نیوزی لینڈ کی عدالت نے 2007 میں گرفتار کیے گئے 13 افراد کو بے قصور قرار دیتے ہوئے اپنے حکم میں کہا کہ پولیس نے غیر قانونی طور پر گرفتاریاں کیں۔پولیس کی ان کارروائیوں کے بعد 2008 میں نیوزی لینڈ کے ایک چھوٹے طیارے کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔
‘مساجد پر حملے سے 8 برس قبل المناک سانحہ کی تاریخ تازہ ہوگئی‘
ویلنگٹن// نیوزی لینڈ پولیس ایسوسی ایشن کے صدر نے کرائسٹ چرچ شہر میں مساجد پر حملے کو 8 برس قبل زلزلے کے بعد دوسرا بڑا المناک سانحہ قرار دے دیا۔این زیڈ ہیرلڈ میں شائع رپورٹ کے مطابق ایسوسی ایشن کے صدر کریس کاہیل نے کہا کہ ’8 برس قبل زلزلے سے تقریباً 185 افراد ہلاک ہو گئے تھیاور خونریزی کے اس واقعہ نے ایک مرتبہ پھر زخم تازہ کردیا‘۔انہوں نے سانحہ کرائسٹ چرچ میں پولیس کی کارکردگی سے متعلق کہا کہ ’جو پولیس اہلکار واقعہ کے بعد وقوعہ پر پہنچے وہ پیشہ وارانہ صلاحیت کے حامل تھے لیکن میرا خیال نہیں کہ پولیس اہلکاروں کو ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’مساجد پر حملہ المناک ہے، تمام ہی افسران کے لیے واقعہ پیشہ وارانہ تاریخ میں ایک بڑا اور مشکل ترین مرحلہ ہے‘۔کریس کاہیل نے کہا کہ ’سانحہ کی نوعیت ایسی ہے کہ تمام وہ افسران جو کسی بھی درجے پر خدمات پیش کررہے ہیں، وہ لازمی طور پر ذہنی آسودگی کے لیے مشاورت کریں‘۔سانحہ کرائسٹ چرچ میں اپنے عزیز و اقارب سے محروم ہوجانے والی خاتون نے روہانسے لہجے میں کہا کہ ’مساجد پر حملے میں، میں نے اپنے دادا ابو کو کھویا اور اب ان کے بغیر مستقبل کے بارے میں سوچ کر خوفزدہ ہوں‘۔ون نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے یاسمین علی نے بتایا کہ ’یقین نہیں آتا کہ نیوزی لینڈ میں سنگ دلی کا واقعہ پیش آسکتا ہے جس نے مجھے اپنے قریبی رشتے داروں کی محبت سے محروم کردیا‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’وہ رشتے دار جنہیں 19 سال سے جانتی تھی، آج وہ نہیں رہے، شہید ہونے والوں میں وہ بھی تھے جو میری منگنی کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے‘۔یاسمین علی نے تعجب کا اظہار کیا کہ ’نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ شہر میں چھوٹی چھوٹی کمیونیٹی رہائش پذیر ہیں جو شفقت اور محبت سے رہتے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ’سمجھ نہیں آتا کہ کوئی ہمیں کیوں اس طرح تکلیف پہنچا سکتا ہے، ہم نے آپ کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا تو کیوں آپ ہمارے سے ایسا برتاو کررہے ہیں‘۔