عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// نیشنل کانفرنس ضلع سرینگر کا ایک ہنگامی اجلاس کل پارٹی ہیڈکوارٹر پر منعقد ہوا جس کی صدارت پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کی۔ اجلاس میں پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر ہوئے قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور اسے ایک خطرناک اور قابلِ تشویش واقعہ قرار دیا گیا۔اجلاس کے دوران مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر فاروقپر اس طرح کا حملہ نہ صرف ایک سینئر قومی رہنما بلکہ جمہوری اقدار پر بھی حملہ ہے۔ مقررین نے اس واقعہ کو ایک منظم سازش قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس کی غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔ اس سلسلے میں پارٹی کے صوبائی صدر ایڈوکیٹ شوکت احمد میر نے ایک قرارداد پیش کی جسے اجلاس میں موجود تمام شرکاء نے متفقہ طور پر منظور کیا۔قرارداد میں حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے سیکورٹی میں ممکنہ کوتاہی اور لاپرواہی کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا، تاکہ اس واقعے کے پس پردہ اصل محرکات کو سامنے لایا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔مقررین نے اس موقع پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طویل سیاسی خدمات اور جمہوری جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مدبر، دور اندیش، سیکولر اور عوام دوست رہنما ہیں جنہوں نے ہمیشہ ریاست میں مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے تین بار جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، مرکزی کابینہ میں وزیر رہے اور چار مرتبہ لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ وہ راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے اور عالمی سطح پر اقوام متحدہ اور جنیوا جیسے اہم فورمز پر ملک کی نمائندگی کی۔مقررین نے یاد دلایا کہ سنہ 1996 میں جب جموں و کشمیر انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا تھا، ہر طرف خوف و ہراس اور غیر یقینی کی فضا تھی، تعلیمی اور انتظامی نظام مفلوج ہو چکا تھا اور عوام شدید مشکلات کا شکار تھے، اس وقت ڈاکٹر فاروق نے جرات اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگ میں کود کر ریاست کی باگ ڈور سنبھالی اور جمہوری عمل کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اجلاس میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جان بچانے والے سیکورٹی اہلکاروں اور پارٹی عہدیداران و کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر پارٹی قیادت اور کارکنان نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیشنل کانفرنس اپنے قائد کی قیادت میں جمہوریت، اتحاد اور عوامی حقوق کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے پُرمن احتجاج درج کیا اور سازش کے پیچھے کے اصل حقائق کو عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ادھر پارٹی کی تمام اکائیوں، ضلع، تحصیل اور بلاک سطحوں پر بھی پارٹی لیڈران، عہدیداران اور کارکنان نے پارٹی کے صدرِ محترم پر ہوئے قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
پولیس تحقیقات میں جٹ گئی
عظمیٰ نیوز سروس
جموں// پولیس نے کمل سنگھ جموال کے بارے میں تفصیلی جانچ شروع کر دی ہے، جس نے فاروق عبداللہ کو یہاں ایک شادی کی تقریب میں قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔انہوں نے کہا کہ پولیس 63 سالہ جموال کے پس منظر کی جانچ کر رہی ہے، جس میں اس کے ذاتی، سماجی اور ممکنہ تنظیمی روابط شامل ہیں، تاکہ فائرنگ کے واقعے کے پیچھے محرکات کا پتہ لگایا جا سکے۔جموں کے پرانی منڈی کے رہنے والے جموال نے مبینہ طور پر پولیس کو بتایا کہ وہ پچھلے 20 سالوں سے عبداللہ کو نشانہ بنانے کے موقع کا انتظار کر رہا تھا۔ حکام نے بتایا کہ پولیس حملے سے قبل اس کی حالیہ سرگرمیوں اور حرکات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔سینئر پولیس افسران فی الحال جموال سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں، جنہوں نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ اپنی دکانوں کے کرایہ سے اپنی روزی روٹی کماتا ہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ پنڈال میں سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ملزم کس طرح ہتھیار کے ساتھ تقریب میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا۔
زیڈ پلس کیٹیگری لیڈر
این ایس جی سیکورٹی آڈٹ کرے گی
این ایس جی سیکورٹی آڈٹ کرے گی
عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// نیشنل سیکورٹی گارڈ (این ایس جی) فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملے کے بعد اپنے تمام زیڈ پلس زمرے کے ہائی رسک وی آئی پیز کا ایک جامع سیکورٹی آڈٹ کرے گا۔ حکام نے جمعرات کو کہا کہ’بلیک کیٹس’ کمانڈو فورس فی الحال نو VIPs کو ایلیٹ تحفظ فراہم کرتی ہے، جن میں عبداللہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو شامل ہیں۔معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت، فورس ٹرانزٹ کے دوران موبائل سیکورٹی فراہم کرتی ہے اور چار کمانڈوز کی ایک خصوصی کلوز پروٹیکشن ٹیم (CPT) کو تعینات کرتی ہے جب کوئی معزز کسی اندرونی مقام، جیسے کہ بینکوئٹ ہال یا کنونشن سینٹر کے اندر ہوتا ہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ جب بھی کوئی “غیر معمولی واقعہ” میں NSG کا محافظ شامل ہوتا ہے تو حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینا یا آڈٹ کرنا معیاری طریقہ کار ہے۔”سیکیورٹی آڈٹ کا عمل شروع کیا جائے گا۔ جب کہ NSG کو محافظ کی فوری حفاظت کا کام سونپا گیا ہے، یہ مقامی پولیس اور دیگر ایجنسیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پنڈال کو صاف کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی مسلح افراد داخل نہ ہوں۔”آڈٹ کو حتمی شکل دینے کے بعد، NSG اپنے نتائج سے آگاہ کرے گا اور متعلقہ مقامی پولیس حکام کو ممکنہ خامیوں کو اجاگر کرے گا۔
راجیہ سبھا میں حملے کی گونج
اپوزیش نے ریاستی درجہ منسوخی وجہ قراردی
اپوزیش نے ریاستی درجہ منسوخی وجہ قراردی
عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملہ جمعرات کو راجیہ سبھا میں سامنے آیا، اپوزیشن جماعتوں نے اس واقعے کے لیے ریاست کا درجہ منسوخ کرنے کا الزام لگایا، جب کہ مرکز نے اس کی جامع تحقیقات کا وعدہ کیا۔ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے اس مسئلہ کو اٹھایا جب ایوان کا اجلاس شروع ہوا اور کہا کہ سابق چیف منسٹر کی سلامتی کو خطرہ ہے۔انہوں نے کہا”ان کی سیکورٹی خطرے میں ہے کیونکہ جموں اور کشمیر کی ریاستی حیثیت کو منسوخ کر دیا گیا ہے،” ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب مقامی سیکورٹی اور پولیس کے انتظامات پہلے ریاستی حکومت کے پاس تھے، ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آ سکتا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ آج جموں و کشمیر کی صورتحال اس لیے ہے کہ ریاست کا درجہ ختم کرنے کے بعد سیکورٹی مرکزی وزارت داخلہ کے پاس ہے۔ امن و امان ٹوٹ چکا ہے اور اہم لیڈروں کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ کانگریس صدر نے سوال کیا کہ کیا حکومت کا ارادہ فاروق عبداللہ کو مارنا ہے؟ اگر اس کی حفاظت کا ارادہ تھا تو اسے مکمل حفاظتی حصار ملنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاست کو مکمل ریاست کا درجہ ملے گا تو لوگ محفوظ رہیں گے۔ انہوں نے مرکز سے کہا”کشمیر کے لوگ آپ کے ہاتھوں میں محفوظ نہیں ہیں،” ۔انہوں نے الزام لگایا کہ سیکولرازم، سوشلزم اور ملک کو متحد رکھنے والے لوگوں کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔جے پی نڈا نے اس موقعہ پر کہا”حکومت ہند اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے،” انہوں نے یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ملزم جسے گرفتار کیا گیا ہے، محرکات کا بھی پتہ لگایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عبداللہ کو سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے مناسب کارروائی کی جائے گی۔تاہم، نڈا نے کہا کہ اس معاملے پر سیاست کرنا درست نہیں ہے۔ اس نتیجے پر پہنچنا کہ ایسا اس لیے ہوا کیوں کہ جموں و کشمیرکو ریاست کا درجہ نہیں دیا گیا اور یہ الزام لگانا کہ ایک طرح سے اسے قتل کرنے کی سازش رچی جارہی ہے قابل مذمت ہے۔ انہوں نے 1953 میں سری نگر میں بھارتیہ جن سنگھ کے بانی سیاما پرساد مکھرجی کی پراسرار موت پر تسلی بخش جواب نہ دینے پر کانگریس پارٹی پر حملہ کیا۔نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ چودھری محمد رمضان نے بھی الزام لگایا کہ حملے کے وقت عبداللہ کو کوئی پولیس تحفظ نہیں تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابق وزیراعلی کی سیکیورٹی کو اپ گریڈ کیا جائے۔