عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// جموں وکشمیر کے خصوصی درجے کی بحالی نیشنل کانفرنس کا بنیادی ایجنڈا ہے اور پارٹی ہر حال میں اس مقصد کے حصول کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کل ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 اور 35 اے جموں وکشمیر اور بھارت کے درمیان آئینی اور سیاسی رشتے کی بنیاد تھے، جن کی وجہ سے 1947 میں ریاست کو ایک منفرد شناخت اور خصوصی حیثیت حاصل ہوئی تھی۔ تاہم نئی دہلی نے 2019 میں اپنے وعدوں اور یقین دہانیوں سے انحراف کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر اس خصوصی حیثیت کو ختم کردیا اور اس اہم فیصلے میں جموں وکشمیر کے عوام کی رائے لینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ جموں وکشمیر کی شناخت، خودمختاری اور خصوصی آئینی پوزیشن کے تحفظ کیلئے قربانیاں دی ہیں اور ہر دور میں عوامی حقوق کی آواز بلند کی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اپنے اصولی موقف پر چٹان کی مانند قائم ہے اور عوامی خدمت ہمیشہ اس جماعت کی اولین ترجیح رہی ہے۔انہوں نے عوام کو مختلف نعروں اور بدلتے بیانیوں کے ذریعے گمراہ کرنے والوں سے ہوشیار رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر کا سیاسی وجود ہی نیشنل کانفرنس کی مخالفت پر قائم ہے، جبکہ کچھ لوگ محض توجہ حاصل کرنے کیلئے اس جماعت کے خلاف بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔ نئی دلی کو جموںوکشمیر کے عوام کے تئیں سخت ترین پالیسی ترک کرنے کا مشورہ دیتا ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اولین فرصت میں جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیا جائے اور یہاں کے عوام کو حاصل آئینی اور جمہوری حقوق کی بحالی کیلئے بھی شروعات کی جائے۔