گرمی میں بجلی کٹوتی سے پریشان عوام میں شدید غم وغصہ
عظمی نیوز سروس
سرینگر//شدید گرمی کی لہر نے جہاں کشمیر کے عوام کا سانس لینا دوبھر کر دیا ہے، وہیں غیر اعلانیہ اور طویل بجلی کٹوتیوں نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ ایک طرف سرکار 3 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کی دستیابی کے بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے، تو دوسری طرف میٹر والے علاقوں سمیت وادی کے کونے کونے میں اندھیرا راج کر رہا ہے۔ نہ کوئی شیڈول، نہ کوئی اطلاع… بس اچانک بلیک آؤٹ نے عوامی بے چینی میں اضافہ کر دیا ہے۔ مختلف اضلاع کے شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں بجلی کی دستیابی سال کی بلند ترین سطح پر ہے، مسلسل اور بغیر اطلاع کی جانے والی لوڈ شیڈنگ نے نظامِ بجلی کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مختلف علاقوں، جن میں مکمل طور پر میٹر شدہ علاقے بھی شامل ہیں، کے صارفین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے بجلی کی فراہمی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ روزانہ کئی کئی گھنٹوں تک بجلی غائب رہنے سے گھریلو معمولات درہم برہم ہو گئے ہیں، تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں جبکہ طلبہ کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔جواہر نگر کے ایک صارف جنید احمد نے کہا کہ موسم سرما کے بعد اب گرم میں بھی لوگوں کو بجلی کی عدم دستیابی نے پریشان کر رکھا ہے کیونکہ جھلستی گرمی میں اچانک دن و رات بجلی اچانک بند کردی جاتی ہے جس سے لوگوں کا حال بے حال ہوجاتا ہے ۔کرالہ پورہ کے رہائشی محمد شاہد کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں کئی برس قبل مکمل میٹرنگ کی جا چکی ہے اور صارفین باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود روزانہ طویل غیر اعلانیہ کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق بجلی بند کرنے سے قبل نہ کوئی اطلاع دی جاتی ہے اور نہ ہی متعلقہ محکمہ کسی قسم کی وضاحت پیش کرتا ہے، جس کے باعث شدید گرمی میں شہری سخت پریشانی سے دوچار ہیں۔اسی طرح گلاب باغ کے رہائشی اختر حسین رینہ نے کہا کہ بجلی کی فراہمی کا کوئی مقررہ نظام باقی نہیں رہا۔ ان کے بقول اگر کسی تکنیکی خرابی یا ہنگامی صورتحال کے باعث بجلی بند ہو تو عوام اسے سمجھ سکتے ہیں، لیکن روزانہ کی بنیاد پر بغیر کسی شیڈول کے کی جانے والی کٹوتیاں ناقابلِ برداشت بنتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یا تو بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جائے یا پھر باقاعدہ لوڈ شیڈنگ شیڈول جاری کیا جائے تاکہ لوگ اپنی روزمرہ زندگی کی منصوبہ بندی کر سکیں۔غیر اعلانیہ کٹوتیوں پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت جموں و کشمیر کو مرکزی شعبے کے بجلی منصوبوں سے تقریباً 2,108 میگاواٹ جبکہ ریاستی ملکیت کے منصوبوں سے تقریباً 1,063 میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے۔ اس طرح مجموعی مقامی دستیابی 3,100 میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اس کے علاوہ قومی گرڈ سے تقریباً ایک ہزار میگاواٹ بجلی بھی حاصل کی جا رہی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت جموں و کشمیر میں بجلی کی مجموعی طلب تقریباً 2,088 میگاواٹ ہے، جس میں سے 916 میگاواٹ کشمیر اور 1,172 میگاواٹ جموں کو فراہم کی جا رہی ہے۔ محکمہ بجلی کے مطابق گرمیوں کے موسم میں جموں خطے میں بجلی کی طلب 1,500 سے 1,600 میگاواٹ کے درمیان رہتی ہے، جبکہ کشمیر میں مختلف اوقات میں یہ طلب 900 سے 1,200 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے، اسی بنیاد پر دونوں خطوں میں بجلی کی تقسیم کی جاتی ہے۔دوسری جانب کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈکے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ محرم الحرام کے ایام میں شیعہ اکثریتی علاقوں میں مجالس اور عزاداری کے اجتماعات کے پیش نظر وہاں نسبتاً بہتر بجلی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے باعث وادی کے بعض دیگر علاقوں میں اضافی کٹوتیاں کرنا پڑ رہی ہیں۔تاہم یہ وضاحت بھی عوامی ناراضگی کم نہ کر سکی۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر مجموعی طور پر تین ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی دستیاب ہے تو وادی کے مختلف علاقوں میں اس پیمانے پر غیر اعلانیہ بجلی بندشوں کی کوئی معقول وجہ نہیں بنتی۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی فراہمی میں شفافیت لانے کے لیے غیر اعلانیہ کٹوتیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور باقاعدہ لوڈ شیڈنگ شیڈول جاری کیا جائے تاکہ شہری، طلبہ اور کاروباری طبقہ اپنی سرگرمیوں کی مناسب منصوبہ بندی کر سکے۔اس معاملے پر کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ کے چیف انجینئر کا مؤقف جاننے کے لیے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے رابطہ قائم نہیں ہو سکا۔( مشمولات یو این ایس)