حکومت سے نجی شعبے میں ملکیت ، جائیداد یا کاروبار کی منتقلی کو نجکاری کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت حکومت نفع نقصان کے عمل سے دستبردار ہوجاتی ہے ۔اس عمل ، جس میں عوامی سطح پر تجارت کرنے والی کمپنی کو چند لوگوں کے زیر سرپرستی رکھا جاتا ہے ، کو نجکاری کہا جاتا ہے۔ کسی بھی کمپنی یا ادارے کی نجکاری کے بعداسٹاک مارکیٹ میں مذکورہ کمپنی کے اسٹاک کا لین دین نہیں ہوتا ہے اور عام لوگوں کو ایسی کمپنی میں حصص لینے سے روک دیا جاتا ہے۔ ایسی ہرکمپنی ’لمیٹڈ‘ کا نام چھوڑ دیتی ہے اور اپنے نام کے آخر میں ’پرائیویٹ لمیٹیڈ‘ کا استعمال شروع کرتی ہے۔
نجکاری کا مقصد کمپنی کی کارکردگی کو بڑھانا اور اس کو مقصدیت پرلانا ہوتا ہے ۔ ہندوستان 1991 کے تاریخی اصلاحات کے نتیجے میں نجکاری کی راہ پر ہے جسے نئی اقتصادی پالیسی یا ’ایل پی جی پالیسی‘ بھی کہا جاتا ہے۔مرکزی حکومت نے24جولائی1991کو نئی ماڈل اقتصادی اصلاحات کو اپنانے کا اعلان کیا جس کو لبرلائزیشن،پرائیوٹائزیشن اینڈ گلوبلائزیشن یا ایل پی جی کہا جانے لگا۔ اُس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا رائو اور اُن کے وزیر خزانہ ڈاکٹرمن موہن سنگھ کو اس ایل پی جی پالیسی کا موجد قرار دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد ملک کو اقتصادی ترقی کی راہ پر ڈالنا اور زیادہ سے زیادہ زر مبادلہ کمانا ہے۔
نجکاری کی تعریفیں کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اس کے تحت کسی بھی سرکاری، نیم سرکاری یا سرکاری ایجنسیوں کے زیر انتظام ادارے کو نجی ملکیت میں دے دیا جائے۔نقصان میں رہنے والے اداروں کی نجکاری سے عموماً ادارے کی کارکردگی اور خدمات میں بہتری آتی ہے اور ادارہ کچھ عرصے میں منافع بخش بن جاتا ہے۔لیکن منافع بخش ادارے کی نجکاری ملک کے لیے گھاٹے کا سودا ہوتی ہے اور اس کو حکمرانوں کی بدعنوانی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔
ابھی حال ہی میں ملک کی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اپنا تیسرا بجٹ پیش کیااور تب سے مذکورہ میزانیہ کے بارے میں تبصرے اور تجزیئے جاری ہیں۔وزیر خزانہ کے پیش کردہ بجٹ کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں تقریباً سبھی پبلک سیکٹر یونٹوں کو منجمد رکھا گیا ہے ۔واقف کار حلقے کہتے ہیں کہ یہ ملک میں بہت بڑے پیمانے پر نجکاری کا عندیہ ہے۔مذکورہ حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ وزیر خزانہ نے جو بجٹ پیش کیا اُس میں نجکاری کو فروغ دینے والی کئی باتیں شامل ہیں جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکومت نے مختلف شعبوں میں ’’اصلاحات‘‘ کی جو پالیسی اپنا رکھی ہے وہ نہ صرف جاری رہے گی بلکہ اُس میں مزید تیزی آئے گی۔ حکومت کا یہ طرز عمل جراتمندانہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ ملک کے کسان پہلے ہی زرعی ’’اصلاحات‘‘ کیخلاف کھڑے ہیں اور غیر جانبدار ماہرین بھی ’’اقتصادی اصلاحات‘‘ کو لیکر حکومت کی مخالفت کررہے ہیں ۔
ماہرین بھی نجکاری کو انتہائی دلیری والی اصلاحات قرار دیتے ہیں کیونکہ کمپنیوں کے مالکانہ حقوق کی دستبرداری سے حکومت معیشت میں زیادہ دخل اندازی کے اہل نہیں رہتی ہے اور اس سے نجی شعبے میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا ’’ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا (آئی ڈی بی آئی) کے علاوہ ، ہم سال 2021-22 میں سرکاری شعبے کے دو بینکوںاور ایک عام انشورنس کمپنی کی نجکاری کرنے کی تجویز کرتے ہیں۔ اس کے لئے قانون سازی میں ترمیم کی ضرورت ہوگی اور میں ترمیمات اس سیشن میں ہی پیش کرنے کی تجویز پیش کرتی ہوں‘‘۔وزیر خزانہ کا یہ بیان اس بات کا برملا اعلان تھا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے ملک کے اندر جس نجکاری کے عمل کا آغاز کیا اُس پرنہ صرف عمل جاری ہے بلکہ اس میں تیزی بھی لائی جارہی ہے۔
حکومتی سطح پر کہا جارہا ہے کہ نجکاری کے ذریعے اصلاحات عمل میں لاکر اصل میں انسانی زندگی کے ہر شعبے کو جدید تقاضوں پر استوار کیا جارہا ہے۔سرکاری سطح پر یہاں تک دعویٰ کیا جارہا ہے کہ نجکاری اصل میں اُن نئے تقاضوں کو پورا کرنے کا عمل ہے جس پر ملک کو چلاکرجدید ترقی کی منازل طے ہونگی۔تاہم ناقدین نجکاری کو ملک کے مسائل کے سامنے حکومت کا سرنڈر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو حکومت ملک کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہے وہی نجکاری جیسے اقدامات کے ذریعے اصل میں اپنی ذمہ داریاں کسی اور کے کاندھوں پر ڈالتی ہے۔ نجکاری کے عمل کو محدود نہ کیا گیا تو ناقدین کے مطابق اس سے نظام حکمرانی تاجروں کے ہاتھ میں چلا جائے گا اور تاجر کا واحد مقصد منافع کا حصول ہوتا ہے اور وہ چاہے ملک کو بیچ کر ہی کیوں نہ ملے۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ پبلک سیکٹر بینکوں کو بھی نجکاری کے دائرے میں لایا جائے حالانکہ سابق واجپائی حکومت نجکاری کیلئے اس حد تک نہیں گئی تھی ۔اب جبکہ حکومت نے نجکاری کی راہ پر اپنے سفر کو تیز تر کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو اُسے چاہئے کہ نیرو مودی جیسے تاجروں اور صنعت کاروں کے چنگل میں نہ پھنسے۔اس ضمن میں متعلقین کی اضافی چوکسی اس لئے ضروری ہے کیونکہ کورونا سے پیدا صورتحال کی وجہ سے ہر ملک کی طرح بھارتی معیشت کو بھی جس طرح کا شدید دھچکہ پہنچا ہے اُس سے ایک مخصوص اقتصادی صورتحال پیدا ہوئی ہے جس میں مذکورہ قسم کے لٹیرے صنعت کاری اور سرمایہ کاری کے نام پر مزید متحرک ہوتے ہیں۔ چونکہ تاجر تومنافع کے پیچھے ہوتا ہی ہے اب اگر اس کے اندر بددیانتی بھی پیدا ہوگئی تو وہ مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔نجکاری کو لیکرسیاسی سطح پر حکومت کو جس تنقید کا سامنا ہے، وہ سیاسی نوعیت کی ہوسکتی ہے لیکن حزب اختلاف کا مخصوص تاجروں اور صنعتکاروں کیخلاف بار بار آواز اٹھانا اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ حکومت نے نجکاری کیلئے مخصوص سرمایہ کاروں،صنعتکاروں اور تاجروں کا ہی انتخاب کیا ہے ،جو بہرحال ایک مثبت عمل نہیں ہے اور اگر اس سلسلے میں حزب اختلاف کے الزامات پر اعتبار کیا جائے تو آنے والے وقت میں ملک کی بھاگ ڈور کسی لگی لپٹی کے بغیر مخصوص صنعتکاروں کے ہاتھوں میں ہوگی ۔
گذشتہ واجپائی حکومت نے نجکاری کو محدود رکھتے ہوئے کچھ شعبوں کو ’’اسٹریٹجک‘‘قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذکورہ شعبہ جات میں نجکاری نہیں ہوگی۔ان ’’اسٹریٹجک شعبوں‘‘ میں ریلوے اور دفاع شامل تھے۔ وزیر خزانہ سیتا رمن نے اپنی حالیہ بجٹ تقریر میں اسی پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ’’آتمانیربھر پیکیج میں ، میں نے (گذشتہ سال) اعلان کیا تھا کہ ہم سرکاری شعبے کے کاروباری اداروں کی اسٹریٹجک تعین کرنے کی پالیسی لے کر آئیں گے۔ میں ایوان کو یہ بتاتے ہوئے خوش ہوں کہ حکومت نے مذکورہ پالیسی کو منظور کرلیا ہے۔ یہ پالیسی تمام غیر اسٹریٹجک اور اسٹریٹجک شعبوں میں تعین کاری کے لئے ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔ ہم نے چار ایسے شعبے رکھے ہیں جو اسٹریٹجک ہیں جہاں کم سے کم سی پی ایس ای (سنٹرل پبلک سیکٹر انٹرپرائزز ، جنہیں پی ایس یو بھی کہا جاتا ہے) کو برقرار رکھا جائیگا اور بقیہ میںنجکاری کی جائے گی‘‘۔
اصولی طور دیکھا جائے تو نجکاری ایک بہتر اور مثبت اصلاح کاری کا عمل ہے جس سے شعبہ ہائے زندگی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد ملے گی اور معیشت ترقی کی منازل طے کرکے معاشی طور فارغ البال ممالک کی صف میں آجائے گی۔تاہم اس کے عملی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو ناقدین کو اس میں نقائص کے انبار نظر آرہے ہیں۔سوشلسٹ طبقہ اس کو سرمایہ دارانہ نظام کی نئی صورت قرار دیتا ہے تو عوامی حلقے عام گھریلو خریداری کرتے وقت محض سروس کے نام پر لٹنا نہیں چاہتے ہیں۔غرض جتنے مُنہ اُتنی باتیں، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ نجکاری سے کئی ممالک کی مالی و اقتصادی صورتحال کلی طور تبدیل ہونے میں مدد ملی ہے ،لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس کیلئے کسی بھی ملک کو پہلے کئی سیڑھیاں چڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے، بالفاظ دیگر ایسے اقدامات یا اصلاحات سے قبل ملک کو کئی منازل طے کرنے پڑتے ہیں پھر کہیں جاکر ان کے مثبت نتائج بر آمد ہوتے ہیں۔پھر جہاں سیاست کا نام کسی پالیسی کی محض مخالفت یا حمایت کرنا ہو، وہاں منطق کے بجائے آواز کی شدت کو پیمانہ مانا جاتا ہے، بلا وہ آوازپروپگنڈا سے ہی کیوں نہ پیدا ہوتی ہو، اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا جاتا ہے۔ نجکاری کو لیکر بھی آج کل ایسا ہی شور سنائی دے رہا ہے۔کوئی اس کے حق میں پروپگنڈا سے کام لے رہا ہے تو کوئی مخالفت میں۔اس بیچ اگر کوئی متاثر ہوا ہے تو وہ حقائق ہیں، جو پروپگنڈا کے شور میں جیسے گم ہوکر رہ گئے ہیں،اور حقائق چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ مخصوص شعبہ جات میں اصلاحات عملانے کی منزل تک پہنچنے کیلئے ابھی ملک کو کافی کام اور وقت درکار ہے۔
����������