رمیش کیسر
راجوری//راجوری ضلع کی تحصیل نوشہرہ کے سرحدی گاؤں بیری پتن اور مینکا میں پیر کی صبح مشتبہ پاکستانی ڈرون کی سرگرمی کے بعد سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ دونوں دیہات، جو مناور توی (دریا) کے کنارے اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب واقع ہیں، میں کئی گھنٹوں تک تلاشی مہم جاری رہی۔ذرائع کے مطابق پیر کی صبح پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی جانب سے ایک مشتبہ ڈرون بھارتی حدود کی طرف آتا ہوا دیکھا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ڈرون چند منٹ تک بیری پتن اور مینکا کے اوپر منڈلاتا رہا، جس کے بعد وہ دوبارہ پاکستانی حدود کی طرف واپس چلا گیا۔ ڈرون کی اس مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع فوری طور پر سکیورٹی فورسز کو دی گئی۔اطلاع موصول ہوتے ہی فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور دونوں سرحدی دیہات کا محاصرہ کر کے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا۔
سرچ آپریشن کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ آیا ڈرون کے ذریعے علاقے میں اسلحہ، گولہ بارود، منشیات یا کوئی اور قابلِ اعتراض مواد تو نہیں گرایا گیا۔حکام کے مطابق سرچ آپریشن کئی گھنٹوں تک جاری رہا، جس دوران حساس مقامات، کھیتوں، جنگلات اور دریائی کناروں کی باریک بینی سے تلاشی لی گئی تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق تلاشی کے دوران کوئی اسلحہ، منشیات یا دیگر مشتبہ مواد برآمد نہیں ہوا۔ اس کے باوجود سکیورٹی ایجنسیاں پورے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہیں اور علاقے میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی روز سے نوشہرہ سیکٹر کے سرحدی علاقوں میں پاکستان کی جانب سے مشتبہ ڈرون سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سیکورٹی اداروں کا ماننا ہے کہ ایسے ڈرون بعض اوقات اسلحہ، دھماکہ خیز مواد یا منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، جس کے پیش نظر ہر مشتبہ سرگرمی کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔سیکورٹی حکام نے سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی قسم کی مشتبہ شے، نامعلوم پیکٹ یا غیر معمولی سرگرمی نظر آئے تو وہ اسے ہاتھ نہ لگائیں بلکہ فوری طور پر قریبی فوجی کیمپ یا پولیس کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔واضح رہے کہ ایل او سی سے متصل راجوری اور پونچھ کے سرحدی علاقوں میں ڈرون سرگرمیوں کے پیش نظر سکیورٹی فورسز پہلے ہی نگرانی کا دائرہ وسیع کر چکی ہیں اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دراندازی یا غیر قانونی سرگرمی کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔