سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری کے سب ڈویژن نوشہرہ کے گاؤں راجل میں اس وقت خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی جب گاؤں سے گزرنے والی آبپاشی نہر اچانک شگاف کا شکار ہو گئی۔ نہر کے ٹوٹتے ہی پانی کا تیز بہاؤ قریبی رہائشی مکانات میں داخل ہو گیا، جس کے باعث املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔مقامی لوگوں کے مطابق پانی اس قدر تیزی سے گھروں میں داخل ہوا کہ اہلِ خانہ کو سنبھلنے کا موقع تک نہ مل سکا۔ گھروں کے اندر موجود گھریلو سامان مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس سے متاثرہ خاندانوں کو لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ متاثرین نے بتایا کہ اناج، فرنیچر، بستر، برقی آلات اور دیگر قیمتی اشیاء پانی میں بھیگ کر ناکارہ ہو گئیں۔
علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا کہ نہر کی حالت طویل عرصے سے خستہ تھی اور اس بارے میں کئی بار محکمہ آبپاشی کو شکایات درج کرائی گئی تھیں، مگر بروقت کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ان کے مطابق پیر کے روز اسی خستہ حال نہر میں پانی چھوڑا گیا، جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی اور پانی سیدھا رہائشی علاقوں میں داخل ہونے لگا۔دیہاتیوں نے اپنے طور پر پانی کا رخ موڑنے اور شگاف کو بند کرنے کی کوشش کی، لیکن تب تک کافی نقصان ہو چکا تھا۔ واقعے کے بعد مشتعل دیہاتیوں نے نوشہرہ میں محکمہ آبپاشی کے دفتر کے باہر شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے محکمہ پر لاپرواہی کا الزام عائد کرتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔احتجاج کرنے والوں نے متاثرہ خاندانوں کو فوری معاوضہ دینے کا بھی مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر جلد از جلد مرمت کا کام شروع نہ کیا گیا، نقصانات کا تخمینہ لگا کر معاوضہ فراہم نہ کیا گیا تو وہ اپنی تحریک کو مزید تیز کریں گے۔دریں اثنا، واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چوہدری کے دفتر کی جانب سے ایک خط جاری کیا گیا، جس میں معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ خط میں ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو ریڈ کراس کے ذریعے فوری امدادی معاونت فراہم کی جائے۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آبپاشی نہروں کا باقاعدہ معائنہ کیا جائے اور انہیں مضبوط بنانے کے مستقل اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔