کسانوں کا حکومت اور محکمہ زراعت سے فوری مداخلت اور بروقت سپلائی کا مطالبہ
رمیش کیسر
نوشہرہ// سرحدی سب ڈویژن نوشہرہ میں ڈی اے پی کھاد کی شدید قلت نے کسانوں کو سخت مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ربیع اور خریف فصلوں کی بوائی کے اہم مرحلے پر کھاد کی عدم دستیابی کے باعث کسان شدید ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار ہیں۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں بلکہ ہر سال فصلوں کی بوائی کے دوران یہی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، مگر حکومت اور متعلقہ محکمہ اس کے مستقل حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔علاقے کے مختلف دیہات سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے بتایا کہ اس وقت دھان، مکئی اور دیگر اہم فصلوں کی بوائی جاری ہے، لیکن مارکیٹ میں ڈی اے پی کھاد دستیاب نہ ہونے کے سبب انہیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کئی کسان صبح سے شام تک مختلف کھاد مراکز اور دکانوں کے چکر لگاتے ہیں، مگر اکثر انہیں خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے۔کسانوں کے مطابق ڈی اے پی کھاد فصلوں کی بہتر نشوونما، مضبوط جڑوں اور زیادہ پیداوار کے لئے نہایت ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اگر فصلوں کو وقت پر مناسب کھاد نہ ملے تو پیداوار بری طرح متاثر ہوتی ہے، جس کا براہ راست نقصان کسانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ مقامی کسانوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اس سال فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔زرعی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ بوائی کے ابتدائی مرحلے میں ڈی اے پی کھاد کا استعمال نہایت اہم ہوتا ہے۔ کھاد کی کمی سے نہ صرف فصلوں کی افزائش متاثر ہوتی ہے بلکہ پیداوار کے معیار پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کسانوں کی آمدنی کم ہو جاتی ہے اور دیہی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کسانوں نے حکومت پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کسانوں کو ملک کی ’ریڑھ کی ہڈی‘ کہا جاتا ہے، لیکن زمینی سطح پر ان کے مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، دوسری طرف موسمی تبدیلیاں اور قدرتی آفات پہلے ہی کسانوں کو معاشی طور پر کمزور کر رہی ہیں، جبکہ اب کھاد کی قلت نے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔مقامی کسانوں نے حکومت اور محکمہ زراعت سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نوشہرہ میں ڈی اے پی کھاد کی وافر مقدار میں سپلائی یقینی بنائی جائے تاکہ کسان بروقت اپنی فصلوں کی بوائی مکمل کر سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ جلد حل نہ کیا گیا تو نہ صرف کسانوں کو بھاری مالی نقصان ہوگا بلکہ عام صارفین کو بھی مستقبل میں غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔