رمیش کیسر
نوشہرہ //نوشہرہ سب ڈویژ ن میں جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی برانچ قائم نہ ہونے کے باعث طلباء اور والدین کو مسلسل سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ علاقہ مکینوں اور طالب علموں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکار کی طرف سے اب تک نوشہرہ میں بورڈ کی برانچ نہ کھولنا ایک سنگین لاپروائی ہے، جس کا خمیازہ سب سے زیادہ طلبہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔مقامی طلباء کا کہنا ہے کہ بورڈ سے متعلق کسی بھی سرکاری کام، جیسے مارک شیٹ میں ترمیم، اسناد کی تصدیق، نقل حاصل کرنا یا دیگر ضروری دستاویزات کی کارروائی کے لئے انہیں مجبوراً سندربنی یا جموں جانا پڑتا ہے۔ یہ سفر نہ صرف وقت ضائع کرتا ہے بلکہ مالی بوجھ کا سبب بھی بنتا ہے، اور بعض اوقات کئی دنوں تک کام بھی حل نہیں ہو پاتا۔طالب علم محمد ظہور، مشتاق احمد اور جسویر سنگھ نے بتایا کہ ان کی دسویں جماعت کی مارک شیٹ میں والد یا والدہ کے نام غلط درج ہوئے تھے۔ ان غلطیوں کی تصحیح کے لئے انہوں نے گزشتہ چھ مہینوں سے سندربنی اور جموں میں واقع بورڈ کے دفاتر میں بارہا کاغذات جمع کروائے، مگر اس کے باوجود ابھی تک ان کے نام درست نہیں کئے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کئی مرتبہ طویل سفر کرکے دفاتر کے چکر لگا چکے ہیں، مگر ان کا مسئلہ حل نہ ہوسکا۔طلباء نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر نوشہرہ میں بورڈ کی برانچ ہوتی تو وہ یہ تمام کام آسانی کے ساتھ مقامی سطح پر ہی انجام دے سکتے تھے اور وقت، پیسہ اور محنت کا ضیاع نہ ہوتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی لیڈرشپ کی عدم دلچسپی اور لاپرواہی کے باعث آج بھی نوشہرہ جیسے اہم سب ڈویڑن کو بنیادی تعلیمی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔طلباء اور والدین نے حکومت اور متعلقہ حکام سے پْرزور اپیل کی ہے کہ نوشہرہ میں جموں و کشمیر سٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی برانچ جلد از جلد قائم کی جائے تاکہ ان کے مسائل میں کمی آسکے اور آئندہ نسلوں کو ایسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔