عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//بدھ کی دیر شام سری نگر کے لال چوک علاقے میں بڈشاہ پل سے ایک نامعلوم شخص نے مبینہ طور پر دریائے جہلم میں چھلانگ لگا دی۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی، جبکہ ایس ڈی آر ایف اور ریور پولیس کی ٹیموں کو تلاش اور بچاؤ آپریشن شروع کرنے کے لیے کام میں لگا دیا گیا۔دریں اثنا، فوری طور پر اس شخص کی شناخت اور اس واقعے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکت ہے کہ چند ہفتے قبل اسی پل سے ایک غیر مقامی لڑکے نے دریائے جہلم میں چھلانگ لگائی تھی جس کی لاش بعد میں 6روز بعد برآمد کی گئی تھی ۔
ادھرسری نگر کے مہجور نگر علاقے کے ایک32 سالہ شخص نے مبینہ طور پر خود کو آگ لگا کر خودکشی کی کوشش کرنے کے بعد بدھ کے روز دم توڑ دیا۔ متوفی کی شناخت زید امین ولد محمد امین خان ساکن مہجور نگر سرینگر کے طور پر ہوئی ہے، دریں اثناء پولیس کی جانب سے اس افسوسناک اوردلدوز واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔اس دوران سری نگرکے نورباغ علاقے میں اسوقت تشویش کی لہردوڑ گئی ،جب یہاں ایک نوعمر لڑکی کو مردہ پایاگیا۔حکام نے بتایا کہ منگل کو نورباغ کے مبارک کالونی علاقے میں ایک15 سالہ لڑکی مردہ پائی گئی۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ واقعہ کے فوراً بعد لڑکی کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا، متوفی لڑکی مبارک کالونی نورباغ کی رہائشی بتائی جاتی ہے اور وہ اپنے گھر میں لٹکی ہوئی پائی گئی، دریں اثنا، پولیس نے واقعے کا نوٹس لے کر مزید تفتیش شروع کردی ہے۔ادھر جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع کے رانی پورہ علاقے میں بدھ کو ایک 28 سالہ نوجوان ایک مدرسے کے باہر لٹکا ہوا پایا گیا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ نوجوان نے مبینہ طور پر دارالعلوم کے باہر خود کو لٹکانے کے بعد موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ متوفی بھی مدرسے کا طالب علم تھا، پولیس نے واقعے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔