مینڈھر//طوفانی بارشوںکے باعث ایک سال قبل مکان سے محروم ہوجانے والا مینڈھر کے دھرانہ علاقے کا نور محمد آج تک سرکاری امداد کا منتظر ہے تاہم نہ ہی اسے امداد ملی اور نہ ہی کسی سرکاری معاونت والی سکیم سے فائدہ پہنچایاگیا۔ ایک سال قبل محلہ چھنی میں نو ر محمد ولد محمد شیر کا مکان طو فانی بارشو ں کی وجہ سے گر گیا جس کے بعد اسے یہ بتایاگیاکہ اسے پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت مکان تعمیر کرنے کیلئے امداد مل سکتی ہے لیکن آج تک وہ اس سکیم سے فائدہ کی غرض سے محکمہ دیہی ترقی اور محکمہ کے ملازمین کا پیچھا کرتے کرتے تھک چکاہے مگراسے انصاف نہیں ملا۔نو ر محمد کا کہنا ہے کہ اس نے کئی چکر دیہی تر قی کے دفتر اور ملا زمین نے گھرو ں کے کا ٹے لیکن آج کل کرکے اسے ہر بار ٹال دیاگیا اور محکمہ کے ملازمین اس سکیم کے تحت اسی کو فائدہ دیتاہے جو انہیں کمیشن دے ۔انہو ں نے کہا کہ ان کے پا نچ بچے اور دو چھو ٹی چھو ٹی بچیا ں ہیں جن کا وہ مز دوری کر کے پیٹ پا ل رہاہے ۔متاثرہ شخص کاکہناتھاکہ اس کی عمر ڈھلتی جارہی ہے اور بیماریوں نے بھی گھیرا تنگ کردیاہے ،اتنے پیسے بھی نہیں کہ اپنا علاج کرواسکوں ،مکان کی تعمیر تو دور کی بات ہے ۔اس کاکہناہے کہ اس کے پاس ملازمین کو رشوت دینے کیلئے بھی کچھ نہیں اوریہی وجہ ہے کہ اس کے مکان کی تعمیر کو منظوری نہیں دی گئی نہیں تو ایسے لوگوں کے مکان بھی بن رہے ہیں جن کے پاس پہلے سے ہی رہنے کیلئے گزاراتھا۔نور محمد کاکہناہے کہ اس کے ساتھ حددرجہ کی ناانصافی کی گئی اور اسے ٹینٹ کیلئے بھی نہیںپوچھاگیا کیونکہ وہ غریب شخص ہے ۔انہوںنے کہاکہ اگر دیگر لوگوں کو پی ایم اے وائی سکیم کافائدہ دیاجاسکتاہے تو پھر اسے کیوں نہیں جبکہ وہ اس کا حقدار بھی ہے ۔ نور محمد کے مطابق وہ ایک ٹوٹے ہوئے کمرے میں زندگی بسر کررہاہے اور معلوم نہیں کہ یہ بھی کب گر جائے ۔ اس نے ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ اس کے ساتھ انصاف کیاجائے ۔اس ضمن میں جب متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ افسر سے بات ہو ئی تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس معاملے کا کوئی پتہ نہیں ، البتہ معلوم کرکے کارروائی کی جائے گی۔