سید مصطفیٰ احمد
آج کے تیز رفتار اور انتہائی مسابقتی دور میں جہاں جسمانی بیماریوں پر فوری توجہ دی جاتی ہے، وہیں ذہنی صحت کے مسائل اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ یہ خاموش وبا ایک ایسے سیاہ طوفان کی مانند ہے جو اپنی راہ میں آنے والی ہر شے کو نگلتی جا رہی ہے۔ ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈپریشن جیسے عفریت نہ صرف ہماری نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو چاٹ رہے ہیں بلکہ پورے معاشرے کی بنیادوں کو بھی کھوکھلا کر رہے ہیں۔ اس مضمون کا مقصد اس خاموش قاتل کی طرف توجہ مبذول کرانا اور اس کے اسباب، اثرات اور ممکنہ علاج پر گفتگو کرنا ہے۔
بیماریاں عموماً دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو ظاہر ہوتی ہیں اور دوسری وہ جو نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ نزلہ، زکام، بخار، کھانسی اور فلو جیسی بیماریاں آسانی سے پہچانی اور علاج کی جا سکتی ہیں۔ ان میں معمولی احتیاط بھی مفید ثابت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس کچھ بیماریاں ایسی ہیں جو دکھائی تو نہیں دیتیں لیکن اپنے اثرات میں نہایت تباہ کن ہوتی ہیں۔ یہ ذہنی امراض کے زمرے میں آتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جسمانی بیماریوں کو ایک عام انسانی مسئلہ سمجھا جاتا ہے، لیکن ذہنی بیماریوں کا ذکر بھی بعض اوقات معیوب تصور کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص ذہنی بیماری میں مبتلا ہو تو اسے مختلف نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات اسے معاشرے سے کاٹ کر رکھ دیا جاتا ہے، گویا وہ ایک مکمل انسان ہی نہ ہو۔ حالانکہ بیماری، بیماری ہوتی ہے، اس میں تفریق کرنا انسانیت کے منافی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں دنیا بھر میں ذہنی امراض میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف عالمی اور مقامی بحرانوں نے نہ صرف انسان کی ظاہری دنیا کو متاثر کیا بلکہ اس کے باطن کو بھی شدید زخم پہنچائے ہیں۔ اس طوفان سے ہر عمر کا فرد متاثر ہوا ہے، مگر نوجوان طبقہ سب سے زیادہ اس کی زد میں آیا ہے۔ نوجوانی زندگی کا وہ مرحلہ ہے جہاں امیدیں بھی بلند ہوتی ہیں اور حساسیت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ معمولی دھچکا بھی کبھی کبھی بڑے نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔ آج کے نوجوان اسی کیفیت سے گزر رہے ہیں اور ان کی ذہنی صحت کو درپیش خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ان خطرات کی سب سے بڑی وجہ بے روزگاری ہے۔ جو نوجوان روزگار حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، وہ براہِ راست ذہنی دباؤ اور اضطراب کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔ آج کی مہنگی دنیا میں زندگی گزارنا آسان نہیں رہا۔ ایسے میں گھر بیٹھے نوجوان کی پریشانیوں کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ایک طرف اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی خواہش اور دوسری طرف خاندان کی ذمہ داریوں کا بوجھ اسے اندر ہی اندر توڑ دیتا ہے۔ تعلیم پر صرف کیا گیا وقت اور سرمایہ، معاشرے کی توقعات اور لوگوں کے طعنے اس کی ذہنی کیفیت کو مزید خراب کر دیتے ہیں۔ کشمیر میں یہ منظر عام ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان برسوں تک روزگار کے انتظار میں زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے خواب سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے لگاتے تھک جاتے ہیں جبکہ امیدیں دھیرے دھیرے مایوسی میں بدلنے لگتی ہیں۔
ایک اور اہم سبب موجودہ عالمی حالات ہیں۔ دنیا مختلف سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔ طاقت اور مفادات کی جنگ نے انسانیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان حالات میں سب سے زیادہ متاثر نوجوان ہی ہوتے ہیں۔ کوئی جنگوں کا ایندھن بنتا ہے، کوئی معاشی بحرانوں کا شکار ہوتا ہے اور کوئی بے یقینی کے اندھیروں میں بھٹکنے لگتا ہے۔ جب نوجوان اپنی آنکھوں کے سامنے امیروں کو مزید امیر اور غریبوں کو مزید غریب ہوتے دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں بے چینی اور مایوسی جنم لیتی ہے۔ یہی کیفیت رفتہ رفتہ ذہنی بیماریوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
کرپشن بھی نوجوانوں کی ذہنی صحت کو تباہ کرنے والی ایک بڑی وجہ ہے۔ سفارش اور رشوت کی بنیاد پر نااہل افراد اہم عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں جبکہ تعلیم یافتہ نوجوان دربدر پھرتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو بنیادی علمی صلاحیتوں سے بھی محروم ہو، آرام دہ زندگی گزار رہا ہوتا ہے جبکہ ایک قابل نوجوان اپنے اخراجات پورے کرنے سے بھی قاصر ہوتا ہے۔ جب نوجوان یہ دیکھتا ہے کہ قابلیت کے بجائے تعلقات اور رشوت کامیابی کی کنجی بن چکے ہیں تو اس کے اندر مایوسی اور بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ یہی کیفیت ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
فرسودہ رسم و رواج بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں پرانی اور غیر ضروری رسومات کو سینے سے لگایا جاتا ہے جبکہ تعمیری خیالات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ فضول رسموں پر بے تحاشا وسائل ضائع کیے جاتے ہیں۔ نوجوانوں کے پاس نئے خیالات اور بہتر منصوبے ہوتے ہیں، لیکن جب ان کی بات سننے والا کوئی نہیں ہوتا تو وہ معاشرے سے بدظن ہونے لگتے ہیں۔ بعض اوقات وہ اس ماحول سے فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں مگر مختلف مجبوریوں کی زنجیریں ان کے قدم روک لیتی ہیں۔ اس کشمکش کا اثر بھی ان کی ذہنی صحت پر پڑتا ہے۔
گھریلو تنازعات بھی نوجوانوں کو ذہنی بیماریوں کی طرف دھکیلنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر خاندان کے افراد نوجوانوں کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں تو شاید حالات اتنے سنگین نہ ہوں۔ افسوس کہ اکثر گھرانوں میں نوجوانوں کو بے روزگاری کے طعنے دیے جاتے ہیں اور دوسروں سے ان کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ ان کی ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ راتوں کی نیند اور دن کا سکون چھن جاتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ ذہنی بیماریوں کی گہرائیوں میں اترتے چلے جاتے ہیں۔
ذہنی بیماریوں کے اثرات بھی نہایت خطرناک ہیں۔ ذہنی دباؤ اور مایوسی کے باعث نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد منشیات کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ تقریباً ہر روز کسی نہ کسی نوجوان کی گرفتاری کی خبر سامنے آتی ہے۔ بعض نوجوان لڑکیاں بھی اس لعنت میں مبتلا پائی جاتی ہیں۔ منشیات وقتی سکون کا فریب تو دیتی ہیں لیکن بالآخر زندگی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیتی ہیں۔
اسی طرح ذہنی امراض کا ایک اور خطرناک نتیجہ خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہے۔ جب نوجوان اپنی امیدوں اور خوابوں کو بکھرتا ہوا دیکھتے ہیں تو بعض اوقات شدید مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے مایوسی کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں۔ یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ ذہنی صحت کو سنجیدگی سے لیا جائے اور متاثرہ افراد کو بروقت مدد فراہم کی جائے۔
گھریلو جھگڑے بھی ذہنی بیماریوں کے نمایاں اثرات میں شامل ہیں۔ جہاں نوجوان بے روزگاری اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوں وہاں تنازعات کا پیدا ہونا بھی فطری امر ہے۔ مسلسل تنقید، موازنہ اور طعنے نوجوانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ نتیجتاً گھروں کا ماحول کشیدہ ہو جاتا ہے اور رشتوں میں تلخی پیدا ہونے لگتی ہے۔
اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت، تعلیمی اداروں، مذہبی مراکز، سماجی تنظیموں اور خاندانوں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ مشاورت اور رہنمائی کے مراکز قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت اور جذباتی پختگی کے موضوعات کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ حکومت اور نجی شعبے کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ مذہبی اور سماجی رہنماؤں کو بھی نوجوانوں میں امید، صبر اور مثبت طرزِ فکر کو فروغ دینا چاہیے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کا دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
مختصراً، ذہنی بیماریوں کے اس طوفان کا مقابلہ صرف اجتماعی شعور، باہمی ہمدردی اور عملی اقدامات سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو محفوظ، پُرامید اور باوقار مستقبل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں آج ہی اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنا ہوگا۔ ورنہ یہ خاموش وبا آنے والی نسلوں کے خوابوں کو نگلتی رہے گی۔
�����������������