عارف بلوچ
اننت ناگ//اننت ناگ کے واحد زچہ بچہ اسپتال میں کل خاتون کی موت نے ہسپتال انتظامیہ پر سوال کھڑے کئے ہیں۔24سالہ خوشبو جان زوجہ زبیر احمد بٹ ساکنہ پوشوارہ اننت ناگ نامی خاتون کی موت مبینہ طبی لاپرواہی کے باعث ہوئی جس کے بعد مہلوک خاتون کے اہل خانہ نے ہسپتال انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔متوفیہ کے شوہر زبیر احمد نے بتایا کہ انکی اہلیہ کا گذشتہ 9 ماہ سے اسپتال میں تعینات ایک ڈاکٹر کی نگرانی میں علاج چل رہا تھا،ہفتے کے روز انہیں زچگی کے لئے اسپتال میں داخل کیا گیا جس کے بعد جراحی عمل سے بچے کی تولد ہوئی،تاہم آپریشن کے چند گھنٹے بعد خاتون کی حالت بگڑ گئی اور اس نے شدید درد کی شکایت کی جس کے بعد خاتون کو گلوکوز چڑھایا گیا،تاہم حالت مزید بگڑنے کے بعد خاتون کو دوبارہ آپریشن تھیٹر میں داخل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ انفیکشن کے باعث بچہ دانی فوری طور نکالنے کی ضرورت ہے،دوسری جراحی کے بعد خاتون کو گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ منتقل کیا گیا جہاں انہیں وینٹلیٹر پر رکھا گیا اور اتوار اور پیر کے درمیانی رات کو خاتون نے آخری سانس لی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ خاتون کی موت ڈاکٹروں کی مبینہ لاپرواہی سے ہوئی ہے،لہذا غفلت برتنے والے عملے کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔اس بیچ خاتون کی موت کی خبر پھلتے ہی آبائی علاقہ میں مہلوک کے رشتہ داروں نے ہسپتال انتظامیہ کے خلاف زبردست احتجاج کیا ۔ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مشتاق نے بتایا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مقررہ وقت میں رپورٹ پیش کرے گی اور ذمہ داری طے کی جائے گی۔دریں اثنا حکومت نے خاتون کی موت کے واقعے پر باضابطہ انکوائری کا حکم دیا ہے۔ حکومت کے حکم نمبر750-JK (HME) of 2025 کے مطابق، جی ایم سی سرینگر کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عفت حسن شاہ کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے، جو اس واقعے کی تفصیلی جانچ کریں گی۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ انکوائری آفیسر پورے واقعے کے تسلسل کا جائزہ لیں اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ان کی معاونت کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکم نامے کے مطابق، انکوائری آفیسر کو 14 دن کے اندر اپنی رپورٹ اور سفارشات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ انکوائری اس وقت شروع کی گئی جب مرحومہ کے اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے اسپتال کے اندرونی انکوائری پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر صحت سے براہِ راست مداخلت کی اپیل کی تھی۔ مظاہرین نے کہا تھا کہ ماضی میں بھی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں لیکن نہ رپورٹ سامنے آئی اور نہ ہی کسی کو جواب دہ ٹھہرایا گیا۔ حکام کے مطابق، اس انکوائری کا مقصد حقائق کو سامنے لانا اور اگر کسی کی ذمہ داری بنتی ہے تو اسے طے کرنا ہے۔