بہ نذرِ روح رساؔبھدوارہی
گر چھوڑ کے رساؔ جائے اَبد ،اِک بار بھدوارہؔ آجائے
وہ دیکھ کے ہشت وبُو دنیا فریبِ وطن ہی کھا جائے
وہ آکے مقامی شعرا کو سو بار بلاوا بھیجے گا
کہہ دیگا اُن سے ہموطنو! اِک بزمِ سخن یاں ہوجائے
کیلاشؔ کے دامن میں بستی فروسِ پرس کی تانی ہے
اِک بہار یہاں پر جو آیا تازیست یہیں کا ہوجائے
طوفانِ حوادث نے اِک دن تاریخ یہاں کی بدلی تھی
تھا پاس روانی میں اُس کے اِک ناگؔ سلامت رہ جائے
اِس جاء کو نسبت کلہنؔ نے کشمیر نما ہے دے ڈالی
منظر یہاں کے پدریؔ کا خودمات بہشت کو دے جائے
آمیز ہیں نیروؔ کے جل میں فکر و نظر کے پیمانے
محظوظ جو شاعر اِن سے ہو منظورِ نظر کیا ہوجائے
ہے مجھ کو شکایت یہ اُدبا سے، کچھ مقام رساؔ کو پہچا نو
جو اُس کی نگاہ سے شعر کہئے شہکارِ زمانہ ہوجائے
یہ شعر رساؔ کا ضامن ہے دریائے لطافت ہے اِس میں
’’اُس وقت تیرا کیا لازم ہے جب تم پہ میرا دل آجائے‘‘
شائقینِ غزل سب کہتے تھے جانبازؔ کو اکثر محفل میں
کہتی ہے طبعِ نازا بھی کچھ کلامِ رساؔ پھر ہوجائے
عُشاق میں کیسے بھولونگا بدید رساؔ جب دیکھا ہے
تقلید سخن جو اُس کی کرے معروف زمانہ ہوجائے
یہ بات ہے ساٹھ کی دہائی کی جب آغازِ سُخن تھا اپنا بھی
اُس دور میں میں نے سوچا تھا اِک شعر رساؔ سا ہوجائے
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469
الزامات
شاکی
گھر کے کاموں سے اگر مل گئی۔ ہو نجات
ہم پہ بھی نظرِ کرم فرمایئے حضرات
وقتِ تلف ہی کراتے ہو تم غیروں کا
تم کو فرض یاد آتا ہے جب کام ہو اپنوں کا
کہیں خواہشیں ہیں فرعون کی سی بھی
لیتے ہو رشوت اور حق سمجھتے ہو رفعیتں بھی
تم نے تو صرف عبادت کو فرض سمجھا ہے
باقی کاموں کو تو نہ لایقِ عرض بھی سمجھا ہے
ہماری حالت بھی کہاں ملتی ہے کسی جگنو سے
اور مشکیزہ کہاں ہوتے ہیں کسی خوشبو سے
مشکی عنہ
فرض یاد دلاتےہو ہمارا جب کوئی کام ہو تمہارا
یوں دنوں میں کہاں جاتی ہے یہ بیداری؟
کاش کوئی آواز اُٹھائی ہوتی،کچھ احساس دلایا ہوتا
آج تم میری عبادت نہ طلب کرتے تیرے کام کیلئے
آج تم جگنو بھی نہ بنتے روشنی کی آس کے لئے
یہ حقیقت ہے اِسے جان لو پیارے
ہم خطا کار ہیں اگر تم بھی گناہ گار ہو سارے
ناصر حسین
دراس، لداخ
موبائل نمبر؛7889386531