آمدِ سال نو
رفتہ رفتہ سالِ نو، آیا تو ہے
عصرِ حاضر محروم ہستی ہوجائیگا
پیش گوئیاں ہونگی پھر سامانِ دید
جھلکیاں اپنی یہ کچھ دکھلائیگا
لالہ کاری اب اسکی ہوگی پیشِ دید
بے بال و پر ہوکے بھی یہ اُڑ جائیگا
لمحہ لمحہ یہ بدل لیگا پھر روپ
گاہ راحت پھر گاہ الم لے آئیگا
چھوڑ کر سب پیچ ہائے خم میاں
دوشِ عالم پہ یہ رکھ کر یاسگی
جشنِ رحلت اپنا منائیگا آپ ہی
عُمر کم ہونے کی ہوگی پاسگی
آنے والے کل میں گرہوں انتخاب
جیت ہوگی بس اُسی کی لاجواب
بانٹ دے غُریا میں جو دس دس ہزار
جیت ہوگی اسطرح ممکن جناب
سالِ رفتہ کا وطیرہ چھوڑئے
پھر اصولِ سلف سے خود کو جوڑئے
عصرِ حاضر کا تقاضہ ہے یہی
نسلِ نو، کو اپنی جانب موڑئے
نسل نو، کو یہ بتادو صاف صاف
شکست خوردہ شام اب جانے کو ہے
پھر فروزاں ہوگی یاں شمعِ حیات
قلبِ انساں کچھ نیا پانے کو ہے
تہہ دل رکھیو نہ کچھ کین و ملال
ہوگا غارت مُلک سے جاہ و جلال
گر اصولِ سلف پہ ہم چل پڑیں
پھر نہیں ہوگا کوئی بھی زیرِ زوال
خوشی لائے نہ لائے سالِ نو، گر
خلق اُس بات سے ڈرتی نہیں ہے
رہیگا باغ ہستی پھر بھی تاباں
طبع حساس آہ بھرتی نہیںہے
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469
دعائے سال نو
لبوں پہ دعاہے سدا یہ خدا سے
سلامت رہے یہ چمن ہر بلا سے
نیا دن نیا سال اس کی جبیں پر
چمکتا رہے بن کے سورج حسیں تر
مبارک نئے سال کی ہر کرن ہو
منور در وبام ہر اک چمن ہو
نہ پلکوں پہ ہوں غم کے کوئی ستارے
ادھورے رہیں اب نہ سپنے ہمارے
دعا ہے خدا سے خلوص ندا سے
اخوت، محبت رگِ جاں بسا دے
الٰہی محبت دلوں میں جگا دے
شجر آشتی کا کوئی یاں کھلا دے
وطن کے بشر کا یوں چمکے ستارہ
فروزاں رہے ہر فلک پہ ہمارا
تری رحمتوں کی یوں ہم پہ جھڑی ہو
کوئی رہ نہ اب زندگی کی کڑی ہو
معینؔ اب کے بھی ہو نیا سال اپنا
جہاں میں رہے اوج ہر حال اپنا
معین فخر معین ؔ
موبائل نمبر؛003443837244
انصاف کا گھر
رات کی خاموشی میں
میرا ضمیر جاگا
خیالات کے جنگلوں میں
ایک پڑاؤ ڈالا میں نے
دنیا داری کی اندھی روشنیوں سے پرے،
میں آخرت کی دھیمی راہوں پر
لمحہ لمحہ خود کو تکتا رہا۔
میرے عمل کی آگ
کبھی دھیمی پڑتی، کبھی بھڑکتی
اور میرا شعور
پرواز کی کوشش میں زخم خوردہ ہوا
کبھی خیالوں کی تپش
اندر سے مجھے پگھلاتی
کبھی امید کی کوئی کرن
دور سے آواز دیتی
میں نے چاہا
کہ دل کے زخموں کو دھو ڈالوں
مگر خود ہی ان پر
نئی خراشیں لگا بیٹھا
مایوسی کے لمحات میں
صلح کا کوئی رستہ نہ ملا
اور سفر کا رخت اٹھا کر
میں پھر نکل پڑا
دور افق پر
ایک شعلہ جلتا نظر آیا
ایک ہاتھ میں مشعلِ عدل
دوسرے میں عَلم انصاف
میں نے دیکھا
وہ نور پھیلاتا ہوا بڑھتا گیا
اور جب میں اس کے قریب پہنچا
تو احساس ہوا
وہ کوئی دوسرا نہیں تھا
وہ میں ہی تھا
میرا اندر
میرے انصاف کا گھر
جہاں نہ گناہ ہے نہ ناانصافی
بس ایک سچ
ایک روشنی
ایک قرار
یاور حبیب ڈار
بٹہ کوٹ ہندوارہ ،کشمیر
موبائل نمبر6005929160