عظمیٰ نیوز سروس
لکھنؤ//وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ایک وقت تھا جب اتر پردیش کی شناخت قانون کے شکستہ حال نظم و نسق سے ہوتی تھی لیکن آج ریاست کے قانون و انتظامیہ کی بہتر صورتحال پورے ملک کے لیے ایک مثال بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ وہ اسی اتر پردیش سے رکنِ پارلیمنٹ ہیں۔لکھنؤ میں راشٹر پریرنا استھل کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ استھل اس نظریے کی علامت ہے جس نے ہندوستان کو خودداری، اتحاد اور خدمت کا راستہ دکھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی، پنڈت دین دیال اپادھیائے اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے عظیم مجسمے جتنے بلند ہیں، ان سے ملنے والی تحریک اس سے کہیں زیادہ بلند ہے۔وزیر اعظم مودی نے اپنی تقریر میں کانگریس اور سماج وادی پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد کانگریس نے موروثی سیاست کو فروغ دیا اور اسی طرز پر سماج وادی پارٹی نے اتر پردیش میں خاندانی سیاست کو تقویت بخشی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاست خدمت اور قربانی پر مبنی ہے۔وزیر اعظم کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں کروڑوں ہندوستانیوں نے غربت کو شکست دی ہے جو اس لیے ممکن ہو سکا کیونکہ بی جے پی حکومت نے سماج کے آخری صف میں کھڑے فرد کو ترجیح دی۔انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے پہلے جہاں تقریباً 25 کروڑ افراد ہی سماجی تحفظ کی اسکیموں کے دائرے میں تھے وہیں آج تقریبا 95 کروڑ ہندوستانی اس سیکورٹی کوچ سے جڑ چکے ہیں۔وزیر اعظم نے 25 دسمبر کو مہاراجا بجلی پاسی کے یومِ پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مہاراجا بجلی پاسی نے بہادری، بہتر حکمرانی اور شمولیت کی جو وراثت چھوڑی اسے پاسی سماج نے فخر کے ساتھ آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے اٹل بہاری واجپئی، مدن موہن مالویہ اور مہاراجا بجلی پاسی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔انشورنس اسکیموں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے ایک غریب شخص بیمہ کے بارے میں سوچ بھی نہیں پاتا تھا لیکن وزیر اعظم جیون جیوتی بیمہ یوجنا کے ذریعے آج ملک کے آخری فرد تک انشورنس تحفظ پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی، پنڈت دین دیال اپادھیائے اور اٹل بہاری واجپئی کے نظریات پر چلتے ہوئے مرکزی حکومت بغیر کسی امتیاز کے کام کر رہی ہے اور تمام طبقات کو یکساں طور پر ترقیاتی منصوبوں کا فائدہ مل رہا ہے۔تقریب کے اختتام پر وزیر اعظم نے کہا کہ راشٹر پریرنا استھل میں نصب عظیم شخصیات کے مجسمے ملک کو مسلسل تحریک دیتے رہیں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے قومی خدمت کا راستہ ہموار کریں گے۔واجپئی کی یومِ پیدائش پر منعقد اس تقریب میں بڑی تعداد میں عوامی نمائندوں، بھارتیہ جنتا پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں نے شرکت کی۔حکام کے مطابق یہ پریرنا استھل تقریباً 230 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے اور یہ 65 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس احاطے کو قومی خدمت، اقدار، ثقافتی شعور اور عوامی تحریک کو فروغ دینے والی ایک مستقل قومی وراثت کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔