میندھر//مینڈھر میںچل رہے مختلف نجی تعلیمی اداروں کی طرف سے چھوٹی گاڑیاں جن میں ماروتی وین، ایکو اور آٹوشامل ہیں ، میں ایک ساتھ کئی درجن بچوں کو سوار کیا جاتا ہے ۔کئی والدین نے اس پر برہمی کا اظہار کیا کہ ایک طرف ان سکولوں کے منتظمین بچوں سے بس نام پربھاری فیس وصول کررہے ہیں اور دوسری طرف ان کو بھیڑ بکریوں کی طرح گاڑیوں میں بھراجاتاہے جس سے حادثات کا خطرہ بھی رہتاہے ۔ اگر چہ ان گاڑیوں میں سات بچوں تک کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے لیکن ان میں ایک درجن سے زائد بچوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بھردیاجاتاہے جس سے بچوں کی زندگیوں سے کھلواڑ ہورہا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان سکولوں کے منتظمین بچوں سے بس فیس کے نام پر بھاری فیس وصول کررہے ہیں لیکن بدلے میں انہیں ایسی گاڑیوں میں سوار کیا جاتا ہے جن میں بچوں کو آنے جانے میں ذہنی و جسمانی تکالیف برداشت کرناپڑتی ہیں۔ان میں ایسی گاڑیاں بھی ہیں جو قواعد و ضوابط کی پرواہ بھی نہیں کرتی لیکن اس کے باوجود بھی ان سکولوں کے منتظمین بچوں کے لئے ایسی گاڑیاں دستیاب رکھتی ہے ۔کئی والدین نے بتایاکہ انہیں دو دو ہاتھوں سے لوٹاجارہاہے اور کوئی اس پر کارروائی نہیں کررہا۔اگر چہ وضع کردہ اصولوں کے مطابق پرائیویٹ سکولوں کیلئے بڑی اورآرام دہ بسیں ہونی چاہیے لیکن شہر و گام میں کئی ایسے سکول ہیں جن کے چلانے والے تمام تر قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ رہے ہیں۔ والدین نے بھی اس طرح کی من مانیوں پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ محکمہ تعلیم کو اس کی طرف دھیان دینا چاہیے اور ایسے سکولوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے جو من مانیاں کررہے ہیں۔ کئی والدین نے بتایا کہ جب چھوٹی گاڑیوں میں سوار ہوکر ان کے بچے واپس گھروں کو پہنچتے ہیں توان کو جان کے لالے پڑے ہوتے ہیں کیونکہ چھوٹی گاڑیوں میں بیٹھنے سے انہیں تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔