انجینئر محمود اقبال
20 ویں صدی کے اردو کے مقبول ترین شاعر فیض احمد فیضؔ 13 فروری،1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔فیض، عصر جدید کے ’’غالب‘‘تھے۔ اردو والے انکے یوم پیدائش پر بھلا انہیں کیسے بھول سکتے ہیں؟آج ذکرِ یار ہو ہی جائے؟مہدی حسن کی جادوئی دُھن میں؟
گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ، کہ گلشن کا کاروبار چلے
فیض اگر آج بقیدحیات تواپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ آج کے زمانہ میں ہند پاک میں ’’کاروبارِگلشن ‘ ‘ اپنے عروج پر ہے۔ ’’گلِ تر‘‘ کا بھی اور ’’گلِ مُر‘‘کا بھی۔یقیناً آپ ’’گلِ تر‘‘ کو سمجھتے ہونگے، اگر ’’گلِ مُر ‘‘ کو سمجھنا ہے تو ایک شعر حاضرِ خد مت ہے۔
وہ حسن، جو کبھی گل کی طرح کھِلا تھا
وقت کی ایک ہی آندھی میں گلِ مُر ہوگیا
آسان الفاظ میں عرض ہے کہ ایک تو وہ جو آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے کہ ’’مرجھانا‘‘۔مگر فیض کے نزدیک ’’گلِ مُر‘‘ اس حسن کی نمائندہ ہے جو ظلم کے ہاتھوں مرجھا تو جاتا ہے مگراپنی خوشبو باقی رکھتا ہے۔یہی فیض کی انقلابی رومانیت کا جوہر و زیورہے۔وقت بڑا ہی بے درماں ہے۔وقت بھی بدل گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ محبت بھی۔ محبتیں، نفرتوں میں بدلتی جا رہی ہیں۔نفرتوں کے بازار گرم ہیں۔وہ آندھیاں چلی رہی ہیں کہ خدا کی پناہ ۔۔۔سماجی بھی اور سیاسی بھی۔محبتوں کے خواب نفرتوں کے خواب بنتے چلے جارہے ہیں۔فیض کا پیدائشی نام چوہدری فیض احمد ہے،جب انہوں نے شاعری شروع کی اور شہرت ملنے لگی تو فیضؔ ، تخلص اختیار کرلیا ا ور آگے چل کر ادبی دنیا میں فیض احمد فیض کے نام سے آخری دم تک اردو ادب کو فیض یاب کرتے رہے۔بتایا جاتاہے کہ30 کی دہائی میں فیض کی ملاقات ایک باوقار برطانوی خاتون ایلس جارج سے دلی میں ہوئی تھی۔دونوںمیںدرس و تدریس، ذہنی ہم آہنگی،تعلیم، ترقی پسند خیالات، اقدارِ مشترک تھیں۔یہ ملاقاتیںرفتہ رفتہ رنگ لائیںاور دوستی محبت میں بدل گئی۔اکتوبر 1941میںسری نگر میں دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ایلس جارج ،ایلس فیض بن گئی اور ’’کاروبار گلشن ‘‘کا آغاز ہوا ۔ دونوں کے آنگن میں دو رنگ برنگے پھول ، سلیمہ اورمنیزہ کھلے ۔ جو آگے چل کر سلیمہ ہاشمی اور منیزہ ہاشمی کے نام سے ادبی دنیا میں دونوں نے اپنی الگ الگ پہچان بنائی۔ سلیمہ جی نے ایک معروف مصورہ ، دانشور اور تعلیمی منتظم کے طور پر اپنی پہچان بنائی تو منیزہ جی نے ایک نامور میڈیا شخصیت اور پروڈیوسر کے طور پراپنے ماں باپ کا نام روشن کیا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کہتے ہیں کہ’’ فیض کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کے خیالات کی سنجیدگی، شخصیت کا توازن اور شعری اعتدال ہے۔ ‘‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اردو کے ممتاز پروفیسر، محقق، نقاد، شاعر، ادیب اور استاد پروفیسر آل احمد سرور، فیض کی شاعری پر رقمطراز ہیں کہ ’’فیض کی شاعری میں انگریزی ادب کے ایک خوشگوار اثر، جدید انسان کے ذہن اور ایشیائی تہذیب کے قابل قدر عناصر کی قوس قزح جلوہ گر ہے۔‘‘ فیض کا پورا کلام کئی سو صفحات پر مشتمل ہے ۔ نقش فریادی، دست صبا، زندان نامہ، دست تہ سنگ، سروادی سینا، شام شہر یاراں، مرے دل مرے مسافر اور غبار ایام، فیض کے اہم مجموعہ ہیں۔فیض کے والد محترم کا نام خان بہا و سلطان محمد خاں تھا اور ان کے ممتاز درسی اور ادبی اساتذہ میں شمس العلماء سید میر حسن ،پروفیسر یوسف سلیم چشتی، احمد شاہ پطرس بخاری، صوفی غلام مصطفی تبسم، مولوی محمد شفیع، ڈاکٹر تاثیر، ، مولانا عبد المجید سالک،مولانا چراغ حسن حسرت اور پنڈت ہری چند اختر کے نام قابل ذکرہیں ۔ فیض کی ابتدائی تعلیم سیالکوٹ ہی کی ہے ۔ انہوں نے ایم اے او کالج امرتسر میں 1933 سے 1940تک اور ہیلی کالج لاہور میں1940 سے 1942 تک تدریسی فرائض بھی انجام دیئے تھے۔ فوج میں لیفٹیننٹ کرنل کے طور پر جون، 1942سے دسمبر، 1946 تک خدمات انجام دیں تھیں۔ پاکستان میں وہ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ اور ’’امروز‘‘ کے ایڈیٹر بھی رہے ہیں۔فیض کی زندگی کا سب نازک موڑ وہ تھا جب انہیں مشہور زمانہ را ولپنڈی سازش کیس میں مارچ،1951 میں گرفتار کرلیا گیا تھا اور ضمانت پر رہائی اپریل1955 میں ملی تھی۔ انہیں اس سازش کیس سے مکمل بریت ستمبر1955 میں نصیب ہوئی تھی۔ پاکستان میں جب پہلا مارشل لگا تو فیض دوبارہ دسمبر 1958 میں گرفتار ہوئے اور بالآخر اپریل1959 میں انہیں زنداں سے مکمل نجات ملی۔’’ زنداں نامہ‘‘ اسی دور کی یادگار ہے جب وہ پُکار اٹھے۔
متاع ِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خون ِ دل میں ڈبوئی ہیں انگلیاں میں نے
زباں پہ مُہر لگی ہے تو کیا ،کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقۂ زنجیر میںِ زباں میں نے
فیض کا جرم کیا تھا؟ یہ تو پتہ نہیں لیکن انکی اپنے وطن سے محبت دیکھئے۔ ؎
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سَر اُٹھا کے چلے
ان کی حب الوطنی کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ ہندوستان کے پہلے ممتاز وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے فیض صاحب کو ہندوستان میں قیام کرنے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی وائس چانسلر شپ کی پیشکش کی تھی ،لیکن فیض صاحب نے شکریہ کے ساتھ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ فیض کو ہندوستان سے بھی محبت تھی، وہ یہاں بھی بہت مقبول تھے۔ انہوں نے ہندوستان کے کئی دورے بھی کئے تھے۔ ’’شام شہر یاراں‘‘ میں ڈھاکہ سے واپسی پر فیض صاحب کہتے ہیں کہ بات ’’اَن کہی‘‘ ہی رہ گئی:
ان سے جو کہنے گئے تھےفیض جاں صدقہ کئے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات، سب باتوں کے بعد
’’شام شہر یاراں ‘‘میں فیض نے اپنے وکیل حسین شہید سہروردی، جنہوں نے راولپنڈی سازش کیس میں ان کے مقدمے کی وکالت کی تھی، انکی مدح میں سپاسنامہ پیش کیا تھا کہ:
ہر دن ہو ترا لطف زباں اور زیادہ
اللہ کرے، زور بیاں اور زیادہ
غمِ جاناں اور غم دوراں ایک ہی تجربے کے دو پہلو ہیں۔شبنم مجید کی آواز میں فیض کی یہ نظم سننے سے تعلق رکھتی ہے جو ’’ دست تہِ سنگ‘‘ میں شامل ہے:
مجھ سے پہلی سی محبت، مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
نابغۂ روزگار شاعر فیض احمد فیض کو قدرت نے گونا گوں خوبیوں سے مالا مال کیا تھا وہ ایک عبقری تھے۔ اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی، روسی، عربی اور فارسی زبان بھی وہ روانی سے بولتے تھے۔ باغ و بہار، یاروں کے یار اور مُر نجان مُر نج شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے لیکر سوشلزم تحریکوں کے داعی اور ْروح رواں بھی رہے۔ وہ کشمیری نژاد پاکستانی تھے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اور سابق سویٹ یونین کے تعلقات کشیدہ تھے، فیض صاحب ماسکو میں مقبول تھے اور کم از کم کچھ حد تک تعلقات کو بہتر بنانے میں انہوں نے مدد بھی کی تھی۔ 1962ء میں ماسکو نے فیض صاحب کو’’ لینن امن انعام‘‘ سے نواز تھا۔ کچھ عرصے تک فیض نے بیروت میں یاسر عرفات کے انگریزی میگزین’’ فلسطیننا‘‘،کی ادارت بھی کی تھی۔ 1982ء میں وہ لبنان کی خانہ جنگی کی وجہ سے دوبارہ پاکستان لوٹ آئے تھے۔ 1964ء میں فیض صاحب کی پہلی واپسی، اپنے وطن میں ہوئی تھی اور وہ ذوالفقار علی بھٹو سے بہت قریب ہو گئے تھے۔ بھٹو صاحب نے اپنی وزارتِ خارجہ کے دور میں فیض صاحب کو حکومت میں بہت سے اعلیٰ عہدوں سے بھی نوازا تھا۔فیض پر کئی پر وقار انعامات کی بارش بھی ہوئی۔1976میں’’لوٹس انعام برائے ادب‘‘، 1962میں’’لینن امن انعام‘‘۔ان کے علاوہ پاکستان کے ’’نشانِ امتیاز‘‘ سے بھی وہ نوازئے گئے تھے۔
آنجہانی وزیراعظم ہند اٹل بہاری واجپائی جی نے دورہ پاکستان کے دوران فیض صاحب سے بھی ملاقات کی تھی اور دورہ ہند کی دعوت دی تھی۔جس کے جواب میں 1981میں فیض نے دلی کا دورہ کیا تھا اور واجپائی جی سے ملاقات اور دعوت کے لئے شکریہ ادا کیا تھا۔فیض سے اس وقت ایک صحافی نے شاید بڑا احمقانہ سوال کیا تھا۔آپ کا آخری پیغام کیا ہے؟فیض نے بر جستہ کہا !’’نفرت کے زمانے میں محبت کاہنر‘‘بات کو کہے ہوئے چار دہائیاں گزرگئی ہیں اور اب تو اس زمانہ میںدن بدن نفرتوں کے بازار ہی بازار کھلتے جارہے ہیں۔ کیوں نہ ہم اردو والے ’’محبت کا ہنر‘‘ سیکھ لیں؟فیض کے طفیل ہی سہی؟بہانہ بھی ہے اور تقاضہ وقت بھی؟محبت کی آس لگائے بیٹھنے کے بجائے، اپنے ہم وطنوں پر محبتیںنچھاور کرنے والے بن جائیں؟ لینے کے بجائے دینے والے بن جائیں؟اینٹ کا جواب بھینٹ سے دیں؟ جس طرح غالب کے خطوط اردو ادب کا ایک نادر سرمایہ ہیں، اسی طرح فیض کے خطوط بھی نابغہ روزگار کی یادگار ہیں ۔اس دور کی آب بیتی اور جگ بیتی کے عکاس ہیں۔فیض کے زیادہ تر خطوط اپنی رفیق حیات ایلس ہی کے نام ہیں۔ایلس جی رفیق حیات بن کر،رفیق راہ بھی رہیں۔اردو سیکھی ۔ ایلس جی نے آخر ی دم تک فیض کے اچھے برے وقت میں انکا ساتھ دیا تھا اور گھر سنبھالا تھا۔ فیض جیل سے ، خطوط میں بیٹیوںکو چھوٹی نظمیں ،کہانیاں اور نصیحتیں لکھا کرتے تھے،تاکہ جیل کی سخت زندگی کی کہانی گھر تک نہ پہنچ پائے۔فیض صاحب کا انتقال 20 نومبر، 1984کو 73 سال کی عمر میں لاہور میں ہوا۔ایک چراغ تھا کہ گل ہوگیا!مگر انکی فکر، جہاں بینی اورشاعری رہتی دنیا تک روشنی بکھیرتی رہے گی۔ فیض کے ہم عصر، مخدوم کے بقول، ’’میرا پیغامِ محبت ہے جہاں تک پہنچے‘‘۔ فیض کی یاد میں فیض ہی کا قطعہ!
دوستو ، قافلۂ درد کا اب کیا ہوگا
اب کوئی اور کرے پر ورشِ گلشنِ غم
دوستو ، ختم ہوئی دِ یدئہ تر کی شبنم
تھم گیا شورِ جنوں، ختم ہوئی بارشِ سنگ
(رابطہ۔6309727951)