محمد تسکین
بانہال // ضلع رام بن کی چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے گورنمنٹ مڈل سکول کرواہ، زون بانہال کے حالیہ واقعے سے متعلق نابالغ طالب علم کی وائرل ویڈیوز کو فوری طور پر سوشل میڈیا سے ہٹانے اور ان کی تشہیر روکنے کے لیے سائبر پولیس رامبن کو ہدایات جاری کی ہیں۔منگل کو جاری کیے گئے حکم نامے میں چیئرپرسن چائلڈ ویلفیئر کمیٹی رامبن نگہت غانی نے کہا ہے کہ 4 جولائی 2026 کو گورنمنٹ مڈل سکول کرواہ، بانہال کے ساتویں جماعت کے ایک طالب علم کو گرمیوں کی 15 روزہ تعطیلات سے قبل آخری تدریسی دن کلاس روم میں نیند آ جانے کے باعث سکول کے اندر ہی غلطی سے بند کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ایک مقامی راہگیر نے بچے کو بحفاظت باہر نکالا۔کمیٹی کے مطابق اس واقعے کی ویڈیوز، جن میں سکول کے احاطے میں طالب علم کے انٹرویوز بھی شامل ہیں، مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئیں، جس سے بچے کی شناخت، رازداری اور وقار کو نقصان پہنچا۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ عمل جووینائل جسٹس (کیئر اینڈ پروٹیکشن آف چلڈرن) ایکٹ 2015 اور نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (NCPCR) کی میڈیا رپورٹنگ سے متعلق ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے کہا کہ ایسی ویڈیوز کی مسلسل تشہیر سے نابالغ بچے کو عوامی تنقید، آن لائن ہراسانی، شناخت کے غلط استعمال اور دیگر نفسیاتی و سماجی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔کمیٹی نے سائبر پولیس اسٹیشن رامبن کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر ان تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس، یو آر ایل (URLs) اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی نشاندہی کرے جہاں یہ ویڈیوز موجود ہیں، اور متعلقہ پلیٹ فارمز کے ذریعے انہیں ہٹانے یا بلاک کرنے کے لیے قانونی کارروائی عمل میں لائے۔حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ نابالغ بچے کی ویڈیو ریکارڈ کرنے، انٹرویو لینے، شائع کرنے یا نشر کرنے میں ملوث افراد کے خلاف بھی جووینائل جسٹس ایکٹ 2015 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے۔چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے میڈیا نمائندوں، صحافیوں، ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز، وی لاگرز اور عام شہریوں کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ نابالغ بچوں کے انٹرویوز لینے، ویڈیوز بنانے یا انہیں سوشل میڈیا پر نشر کرنے سے گریز کریں، اگر اس سے بچے کی رازداری، وقار، سلامتی یا مجموعی فلاح و بہبود متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔کمیٹی نے سائبر پولیس کو ہدایت دی ہے کہ اس سلسلے میں کی گئی کارروائی کی رپورٹ تین دن کے اندر پیش کی جائے۔یہ ہدایت ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب چیف ایجوکیشن آفیسر رامبن پہلے ہی گورنمنٹ مڈل سکول کرواہ کے پورے عملے کو معطل کر چکے ہیں اور واقعے کی محکمانہ تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے۔