عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// سرینگر//پوری دنیا بشمول اْمت مسلمہ اس وقت ایک نہایت مشکل اور تباہ کن دور سے گزر رہی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے عوام شدید اور خطرناک بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی نے لوگوں کی معاشی اور اقتصادی حالت پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں، اور کاروباری و تجارتی سرگرمیاں روز بروز متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال اسرائیل اور امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں اور ایران کے خلاف بلاجواز جنگی ماحول کا نتیجہ ہے۔ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس صڈرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بیروہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ متعدد مسلم ممالک اس تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، جہاں خونریزی اور قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع جاری ہے، جس پر پوری انسانیت اور امن پسند ممالک کو شدید تشویش لاحق ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر مسلم ممالک میں اتحاد، یکجہتی اور اتفاق موجود ہوتا تو امریکہ اور اسرائیل کو مسلمانوں پر اپنی بالادستی قائم کرنے کا موقع نہ ملتا۔ انہوں نے زور دیا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ممالک متحد ہو کر اسلام دشمن عناصر کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں، جو ان کی نااتفاقی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ 1919 میں اسرائیلی یہودیوں کو عارضی طور پر فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دی گئی، لیکن بعد میں امریکہ کی حمایت سے اصل فلسطینی آبادی کو طاقت کے زور پر دبایا گیا اور ان پر شدید مظالم ڈھائے گئے۔