سرینگر//نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سرینگر میں’ محکمہ انسانیت ، معاشرتی علوم اور انتظام ‘(Department of Humanities, Social Sciences & Management)نے ’بیلڈنگ اے سٹارٹ اپ‘ کے عمل پر ورچیول لیکچر کی میزبانی کی۔ تقریب کی صدارت این آئی ٹی کے ڈائریکٹر پروفیسر راکیش سہگل نے کی جو مہمان خصوصی تھے جبکہ ورچیول لیکچر زِپ کو اینٹرٹیمنٹ کمپنی کے ڈائریکٹر محمد یونس بڈھو (ACS)نے دیا۔ اس موقعہ پر پروفیسر راکیش سہگل نے کہا کہ ایسے پروگرام کرنے کا مقصد نئے سٹارٹ اپ شروع کرنے میں طلاب کوکیسے کام کرنا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ ’مناسب رہنمائی اور تحقیق کے بعدمناسب تجارت شروع کرنے کیلئے کامیاب تاجر مناسب حل ڈھونڈسکتا ہے‘۔ ڈاکٹر سہگل نے کہاکہ ’طلاب کیلئے مستقبل میں ایسے مزید سیشن منعقد کرنے کی ضرورت ہے اور میں مذکورہ شعبہ کی اس بات کیلئے سراہنا کرتا ہوں جنہوںنے ایسے بازار سے واقفیت سے متعلق پروگرام منعقد کئے۔ این آئی ٹی کے رجسٹرار قیصر بخاری نے کہا کہ سٹارٹ اپ سے متعلق تصور ایک اہم قدم ہے اور ایسے پروگرام سٹارٹ اپ کو موثر بنانے کیلئے اہم ہے۔ انہوںنے کہاکہ ’سٹارٹ اپ کا نظریہ اورلوگوں کی ضرورت تجارتی منصوبہ سے زیادہ اہم ہے‘۔ بڈھو Zipcho Entertainment companyکے ڈائریکٹر ہیں اور کوالیفائڈ کمپنی کے سیکریٹری ہیں جبکہ وہ بھارت کی انسٹی ٹیوٹ آف کمپنی سیکریٹریز کے ایسوسی ایٹ ممبر بھی ہیں اور انہیں متعلقہ شعبہ میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔ طلاب سے تبادلہ خیال کے دوران بڈھو نے کشمیر میں سٹارٹ اپ کیلئے مواقع اور چلنجوں پر مفصل روشنی ڈالی ۔ انہوںنے کہاکہ بازار کو پرکھنا اور جاننا کامیابی کی کنجی ہے اور اگر نئے سٹارٹ اپ اس بارے میں نہیں سوچتے تو ان کی کوششیں ضائع ہیں‘۔ مقررین نے نئے سٹارٹ اپ کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ مقامی اور علاقائی بازاروں کی کھوج کریں اور طلاب پر زور دیا کہ جس کے بارے میں انہیں کچھ معلوم نہیں، وہ چیز شروع نہ کریں۔ لیکچر کے اختتام پر ہیومنٹیز سوشل سائنس اینڈ منیجمنٹ شعبہ کے سربراہ پروفیسر عبدل لمن نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور این آئی ٹی کے ڈائریکٹر پروفیسر سہگل کا ایسے پروگراموں کے انعقاد کرنے پر سراہنا کی۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر محمد رفیق نے کی جبکہ عملہ کے ممبران، ریسرچ سکالرں اور طلاب نے شرکت کی۔