معراج زرگر
سردیاں عجیب ڈھنگ کا برتاو کر رہی تھیں۔ دسمبر سے ہی درجہ حرارت منفی چلا گیا۔ میدانی علاقوں میں منفی تین اور منفی پانچ ڈگری کے درمیان درجہ حرارت لٹکتا رہا۔ پچھلے سال کے مقابل مگر عجیب تھا کہ نل نلیاں ابھی نہیں جمی تھیں۔ سال کے اختتامی دن تھے اور محکمہ موسمیات نے برف باری کی پیشین گوئی کی تھی۔ لوگ بہت خوش تھے کہ نیا سال برف کی سوغات لے آئے گا۔
مگرسلیمہ ہانجن کے لئے ان درجوں کا کوئی مطلب ہی نہیں تھا۔ وہ سردی کو سینٹی گریڈ میں نہیں، ہڈیوں میں لگنے والے کرنٹ سے محسوس کرتی تھی۔ اُس کے لئے سردیاں ڈگریوں میں نہیں اترتی تھیں، وہ تو بس بدن میں ایک چبھن کی طرح اترتی تھیں۔ وہ جانتی تھی کہ جب تقدیر میں کانٹے اُگ آتے ہیں تو موسم کا نام پوچھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
شہرِ خاص سے بیوپاری سے روز پچاس ساٹھ کلو مچھلیاں دو بڑے اسٹیل کے پٹاروں یا ٹبوں میں بھر کر انہیں لال چوک سے سومو گاڑی کی چھت پر چڑھاکر ترال بس اسٹینڈ پہنچا کر بیچنا سلیمہ کا معمول تھا۔ تقدیر نے ایک باولا چرسی شوہراُس کے پلے باندھ کر اُس پر احسان کیا تھا۔ اور اُس باولے چرسیے نے بیس سال کے لمبے اور تھکا دینے والے سفر میں سلیمہ کے بدن اور روح کو جنجھوڑکر اور اپنی بھوک کو مٹانے کے عوض تین بیٹیاں اور ایک بیٹا جیسے تحفے میں دئے تھے، جن کی ذمہ داری سلیمہ کی زندگی کو جہنم بنائے ہوئے تھی۔ چالیس سال کی سلیمہ کا گرمیوں میں دھوپ کی تپش سے جھلسا ہوا اور سردیوں کے تھپیڑوں سے جھریوں بھرا چہرہ ایک کرب کی علامت تھا۔
کچھ سال پہلے حکومت کی جانب سے جہلم اور ڈل میں رہنے والے ہانجیوں کے لئے باز آبادکاری کے تحت رہائش کے لئے پلاٹ دیئے گئے اور سلیمہ نے بھی بوٹ کالونی میں ایک 5 مرلہ پلاٹ قسطوں پر لیا تھا اور چند کمروں کا خوبصورت مکان بنایا تھا۔ اُسی مکان میں اس سال اپنی بڑی بیٹی کی شادی بھی کی۔ مکان اور بیٹی کی شادی کے قرضے کا بوجھ روز پچاس ساٹھ کلو مچھلیاں بیچنے کے کمر توڑ کام سے آہستہ آہستہ ہلکا پڑ رہا تھا۔ مگر اس کام میں زندگی پگھل رہی تھی۔
آج جنوری کی پہلی تاریخ جب مچھلیاں ختم کیں تو لگ بھگ شام ہوچکی تھی۔ شام کے قریب سردی بڑھنے لگی تھی۔ برف کی پیشین گوئی کے باعث ٹھنڈی ہوا ہڈیوں میں جم رہی تھی۔ وہ اپنے پرانے، نم دار کپڑوں میں اور سمٹ گئی۔ اس کے سارے بدن سے مچھلیوں کی باس آرہی تھی۔
وہ فون دیکھتی ہے۔ اسکرین مدھم ہے۔ ساڑھے پانچ بجنے والے ہیں۔ ترال سے سری نگر جانے والی آخری سومو گاڑی جاچکی ہے۔
وہ اوڑھنی ٹھیک کرتی ہے، اپنے سامان اور ٹب کو گھسیٹ کر قریب لاتی ہے۔
سومو اسٹینڈ کے چوہدری, منظوربھائی نے سلیمہ کو شام کے وقت دیکھ کر کہا،
“سلیمہ۔۔۔۔۔۔۔، ابھی تک نہیں گئی۔۔۔۔۔؟ اتنا اندھیرا تو ہو رہا ہے۔ اب کون سی گاڑی ملے گی۔۔۔۔۔”
وہ چونک کر کہتی ہے،
’’جا رہی ہوں منظور بھائی… بس ابھی کوئی گاڑی اونتی پورہ تک مل ہی جائے گی…‘‘
وہ جلدی سے نکلتی ہے، تاکہ مزید سوال نہ ہوں۔
وہ بس اسٹینڈ سے نیچےکی طرف پیدل چل پڑتی ہے۔ یخ بستہ ہوا اس کے چہرے کو کاٹتی ہے، کہرا آنکھوں میں چُبھتا ہے، اور ہاتھوں میں مچھلیوں کی بو اب تک بسی ہوئی ہے۔
وہ سوچتی ہے کہ گھر میں اس کے بچے پریشان ہونگے اور نکما شوہردروازے پر بیٹھا ہوگا۔ اور آج سبھی ایک آواز میں بولیں گے،
’’گرم سویٹر اور فرن لائے۔۔۔۔۔ کھانے کے لئے کیا لایا۔۔۔۔۔۔کوئی اچھی چیز لانی تھی۔۔۔۔؟‘‘
اس کا بدن اور سوچیں دونوں جواب دے چکے ہیں۔ ہاتھ پاؤں جواب دے چکے ہیں۔ وہ بس اسٹینڈ میں کہرے سے لپٹے ہوئے ایک ریستوران کے اندر کا دھندلا سا منظر دیکھ کر اندر ہی اندر کڑھنے لگتی ہے۔ اسے گرم روٹی اور نمکین چائےیاد آتی ہے۔ اچانک ایک سومو آتی ہے اور وہ اپنا سامان چھت پر رکھ کر پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر اونتی پورہ پہنچ جاتی ہے۔ کرایہ دیکر وہ سو روپیہ کا نوٹ اپنی مٹھی میں رکھتی ہے تاکہ سری نگر تک کا کرایہ ہاتھ میں ہی رہے۔
سردی اوربڑھ چکی ہے اور شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت سے سرد ہوائیں اور بھی ظالم بن چکی ہیں۔ وہ ہاتھ ہلاکر گاڑیوں کو رکنے کا اشارہ کر رہی ہے مگر کوئی گاڑی رک نہیں رہی ہے۔ کچھ گاڑیوں میں سیٹ بھی خالی تھے مگر ڈرائیور ایک ہانجن کو اپنے سامان اور مچھلیوں کے ٹب کے ساتھ شاید گاڑی میں جگہ دینے کو تیار نہیں۔ عجیب دنیا ہے اور عجیب دنیا کا کاروبار۔
وہ پھر سے بے بسی میں سڑک کی طرف ہاتھ بڑھاتی ہے۔
“اللہ کے واسطے روک لو… سری نگر جانا ہے۔۔۔”
کئی گاڑیاں گذر جاتی ہیں۔
آخر کار ایک بڑی سی برانڈڈ اور شاندار گاڑی رُک جاتی ہے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر ایک وجیہہ اور خوبصورت جوان شال اوڑھے پوچھتا ہے،
“کہاں جانا ہے۔۔۔۔؟
“جی۔۔۔۔۔۔وہ سری نگر جانا ہے۔۔۔۔”
آجاو۔۔۔۔۔۔۔جلدی سے گاڑی میں چڑھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔” نوجوان نے متانت کے ساتھ کہا۔
“جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
سلیمہ نے ایک نظر اپنے کپڑوں، سامان اور مچھلیوں کے ٹب پر کی اور بے بسی اور حیرت کے ساتھ شاندار گاڑی کی طرف اور وجیہہ نوجوان کی طرف دیکھا۔
نوجوان نے سلیمہ کی جھینپ کو بھانپتے ہوئے مسکراکر اُسے کہا،
” سامان پیچھے گاڑی میں رکھو اور خود بیچ والی سیٹ پہ بیٹھ جاو۔۔۔۔”
سلیمہ اندر ہی اندر بچے کی طرح خوش ہو جاتی ہے۔ گاڑی میں اچھی خاصی گرمی کی وجہ سے اُسے سکون آنے لگتا ہے مگر ساتھ ہی وہ سوچنے لگتی ہے کہ کپڑوں پر مچھلیوں کی بو سے شاندار گاڑی میں بھی باس پھیل جائے گی۔
اس کا دل کبھی مسکرا نے لگتا ہے اور کبھی مہنگی گاڑی اور اجنبی نوجوان کا سوچ کر دل بجھنے لگتا ہے۔ راستے میں نوجوان نے کوئی بات نہیں کی۔ شہر کے قریب پہنچ کر نوجوان نے سلیمہ سے پوچھا،
” آپ کو کہاں جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟”
” جی۔۔۔۔۔آپ مجھے کہیں بھی چھوڑ دیجئے۔۔۔۔میں آٹو میں چلی جاوں گی۔۔۔” سلیمہ نے گھبراکر جواب دیا۔
” اچھا۔۔۔۔۔۔رہتی کہاں ہو۔۔۔۔۔۔” نوجوان نے پھر سے پوچھا۔
” جی وہ بوٹ کالونی۔۔۔۔” سلیمہ نے ہلکے سے کہا۔
نوجوان نے تیزی کے ساتھ گاڑی بوٹ کالونی کی طرف گھمائی اور کالونی کی ایک جگہ پر سلیمہ نے رکنے کا کہا۔ نوجوان رکا اور سلیمہ نے مٹھی میں پڑا سو روپیہ کا نوٹ نوجوان کی طرف بڑھایا۔۔۔۔
نوجوان ایک انتہائی خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجا کر مخاطب ہوا،
” ان پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔اور ہاں۔۔۔۔۔۔۔یہ لوکچھ پیسے اور اپنے بچوں کے لئے اپنی مرضی کی چیزیں لے کے جانا۔۔۔۔۔”
سلیمہ اُس نوجوان کے حسین اور خوبصورت چہرے کو تکنے لگتی ہے جس چہرےپر یوسفِ کنعان کے چہرے کا گماں ہورہا تھا۔ اُس کے ہاتھ کانپنے لگے مگر اُس نے جانے کیوں ہاتھ بڑھاکر پیسے پکڑے اور آنسو پوچھنے لگی۔ نوجوان نے پھر سے مسکراکر الوداع کہا اور کہرے میں لپٹی ہوئی ہوئی دھندلی سڑک پر کہیں گم ہوگئی۔
سلیمہ نے سامان اُٹھایا اور گھر کا دروازہ کھولا۔ برآمدے کی روشنی میں ہاتھوں میں دبے پیسوں کا حساب کیا تو سب گھر والوں کے سویٹر، فرن، اور دیگر گرم ملبوسات کا انتظام ہو چکا تھا۔ بیٹا دروازے سے باہر آیا اور کسی اچھی چیز کی فرمائش کرنے لگا۔ سلیمہ نے مسکراکر بیٹے کی طرف دیکھا اور پانچ سو روپیہ تھما کر بولی،
” جاؤ بچہ۔۔۔۔۔۔۔جو اچھا لگے وہ لے کے آئو۔۔۔۔۔”
���
ترال ، پلوامہ، کشمیر
موبائل نمبر؛9906830807