جاوید اقبال
مینڈھر// پونچھ ضلع کی مینڈھر سب ڈویژن کے ڈی ڈی سی بلاک سی میں بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر کی شدید کمی نے مقامی آبادی کو سنگین مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ اسی پس منظر میں نیابت چھترال میں ایک مکمل تحصیل دفتر کے قیام کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے، تاکہ عوام کو روزمرہ سرکاری امور کے لئے دور دراز علاقوں کا سفر نہ کرنا پڑے۔بلاک سی، جو پیر پنجال رینج کے دامن میں واقع ایک پہاڑی اور دور افتادہ علاقہ ہے، 14 پنچایتوں پر مشتمل ہے۔ یہاں کی بڑی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جبکہ تعلیمی، طبی اور دیگر عوامی سہولیات یا تو ناکافی ہیں یا عام لوگوں کی پہنچ سے باہر۔ پونچھ ضلع کی مینڈھر سب ڈویژن کا رقبہ 424.69 مربع کلومیٹر سے زائد ہے اور 2011 کی مردم شماری کے مطابق یہاں تقریباً ایک لاکھ اکتالیس ہزار افراد آباد ہیں، جن میں سے 96 فیصد سے زیادہ دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔مقامی باشندوں کے مطابق خراب سڑکیں، بجلی کی بار بار بندش اور سرکاری دفاتر کی کمی انہیں معمولی انتظامی امور کے لئے بھی مینڈھر یا پونچھ جانے پر مجبور کرتی ہے۔ ریونیو سے متعلق معاملات، سرٹیفکیٹس کی تیاری اور دیگر خدمات اب بھی مینڈھر تحصیل ہیڈکوارٹر میں انجام پاتی ہیں، جو دشوار گزار راستوں کی وجہ سے کئی گھنٹوں کی مسافت پر واقع ہے۔ اس سے نہ صرف وقت اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ خواتین، بزرگوں اور کم آمدنی والے افراد کے لئے یہ سفر مزید کٹھن بن جاتا ہے۔سماجی کارکن تنویر اقبال قریشی نے کہا کہ کسی بھی سرکاری دستاویز یا دستخط کے لئے پورا دن اور خطیر رقم خرچ ہو جاتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ علاقے میں صحت مراکز، ہائر سیکنڈری اسکولوں اور پینے کے پانی و بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی کمی اس مطالبے کو مزید مضبوط بناتی ہے۔قریشی کے مطابق منریگا، پی ایم اے وائی اور دیگر سرکاری اسکیمیں بھی اکثر دور دراز بستیوں تک مؤثر طریقے سے نہیں پہنچ پاتیں، جس سے مستحق افراد محروم رہ جاتے ہیں۔ اسی لیے مقامی آبادی ایک علیحدہ کمیونٹی ڈیولپمنٹ بلاک اور بلاک سی میں مکمل تحصیل دفتر کے قیام کا مطالبہ کر رہی ہے، تاکہ انتظامی خدمات لوگوں کی دہلیز تک پہنچ سکیں۔عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ محض سیاسی یقین دہانیاں کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔