جاوید اقبال
مینڈھر // قصبہ مینڈھر میں ڈی ٹی ڈی سی کوریئر آفس سے بڑی مقدار میں نشہ آور ادویات برآمد ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 5,57,500 روپے بتائی جا رہی ہے۔ ضبط کی گئی ادویات میں پریگابالین 300 ملی گرام اور ٹیپینٹاڈول 100 ملی گرام شامل ہیں، جو عام طور پر درد کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہیں، تاہم نوجوانوں میں ان کا غلط استعمال تیزی سے ایک سنگین سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ڈرگ انسپکٹر کے مطابق یہ ادویات غیر قانونی طور پر کوریئر کے ذریعے منتقل کی جا رہی تھیں۔ اس انکشاف کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کے پیچھے ایک منظم نیٹ ورک سرگرم ہو سکتا ہے جو نشہ آور ادویات کی غیر قانونی سپلائی میں ملوث ہے۔ کارروائی کے دوران دونوں اقسام کی ادویات کو موقع پر ہی ضبط کر کے سرکاری تحویل میں لے لیا گیا جبکہ متعلقہ محکموں کو بھی فوری طور پر اطلاع دی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ پریگابالین اور ٹیپینٹاڈول جیسی ادویات اگرچہ طبی نسخے کے تحت مخصوص بیماریوں کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان کا استعمال نشے کے طور پر کر رہی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق ان ادویات کا بے جا استعمال دماغی و جسمانی صحت پر خطرناک اثرات مرتب کر سکتا ہے، جن میں لت، اعصابی مسائل اور دیگر پیچیدگیاں شامل ہیں۔ڈرگ انسپکٹر نے بتایا کہ اس طرح کے واقعات معاشرے میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کی واضح نشاندہی کرتے ہیں، جس کے سدباب کے لئے فوری اور سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نشہ آور ادویات کی غیر قانونی فروخت اور ترسیل کو روکنے کے لیے نگرانی کے نظام کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام اس بات کا سراغ لگا رہے ہیں کہ یہ کھیپ کہاں سے بھیجی گئی، کس کے لئے منگوائی گئی تھی اور اس کے پیچھے کون سے افراد یا گروہ ملوث ہیں۔ پولیس، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر اس پورے معاملے کی جانچ میں مصروف ہیں تاکہ اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔مقامی شہریوں نے اس کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان نسل کو منشیات کے جال سے بچانے کے لئے اس طرح کی کارروائیاں نہایت ضروری ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کو بھی منشیات کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی مہم چلانی چاہیے تاکہ معاشرے کو اس بڑھتے ہوئے خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔