بیوپار منڈل کا شفاف انکوائری کا مطالبہ، ناقص تعمیر نہ روکی گئی تو احتجاج کرنے کا انتباہ
جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر قصبہ میں نکاسی آب کے نظام کی تعمیر و مرمت کے دوران مبینہ طور پر غیر معیاری میٹریل کے استعمال اور سرکاری وسائل کے ضیاع پر دکاندار طبقہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس معاملے پر صدر بیوپار منڈل بلرام شرما اور جنرل سیکریٹری خورشید احمد خان نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق پرانی ایک فٹ چوڑی نالی کے اوپر لنٹر ڈالنے کا کام شروع کیا گیا تھا، تاہم قریبی دکانداروں نے مبینہ ناقص تعمیر کو دیکھتے ہوئے کام رکوا دیا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ انہیں اندیشہ ہے کہ غیر معیاری تعمیر مستقبل میں کسی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری اور شفاف انکوائری کرائی جائے، بصورت دیگر وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔بیوپار منڈل کے صدر بلرام شرما نے الزام لگایا کہ متعلقہ محکمہ کے بعض افسران کی غفلت کے باعث لاکھوں روپے کے سرکاری فنڈز ضائع ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زمینی سطح پر نہ تو کسی ذمہ دار افسر کی موجودگی دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی کام کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پورا کام محض دو یا تین مزدوروں کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے، جس سے معیار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔مقامی تاجروں اور شہریوں نے کہا کہ لنٹر ڈالنے کے لئے استعمال ہونے والا میٹریل بھی مبینہ طور پر غیر معیاری ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ موقع پر معائنہ کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور کام کو تکنیکی اصولوں کے مطابق شفاف انداز میں مکمل کیا جائے۔دکاندار طبقہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری انکوائری نہ کی گئی اور ناقص تعمیر کو نہ روکا گیا تو وہ احتجاجی مظاہروں کا راستہ اختیار کریں گے، جس کی ذمہ داری متعلقہ محکمہ اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ عوامی حلقوں نے بھی سرکاری فنڈز کے تحفظ اور معیاری تعمیر کو یقینی بنانے کے لئے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔