جاوید اقبال
مینڈھر // قصبہ مینڈھر میں جاری نالیوں کی تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث گزشتہ کئی دنوں سے پینے کے صاف پانی کی سپلائی شدید متاثر رہی، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پانی کی فراہمی معطل ہونے سے گھریلو نظام درہم برہم ہو گیا اور لوگوں کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لئے دور دراز علاقوں سے پانی لانا پڑا۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام کے دوران پانی کی پائپ لائنوں کو نقصان پہنچنے سے سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ متعدد محلوں میں کئی دن تک نل خشک رہے، جس سے خواتین، بزرگوں اور بچوں کو خاص طور پر دشواری پیش آئی۔ بعض افراد نے گھریلو استعمال کے لئے نجی ذرائع سے پانی خریدنے پر بھی مجبور ہونے کی شکایت کی۔صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے محکمہ جل شکتی نے فوری طور پر متحرک ہو کر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے۔ اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر مجید چوہدری کی نگرانی میں محکمہ کی گاڑیاں اور عملہ متاثرہ علاقوں میں روانہ کیا گیا۔
پانی کے ٹینکروں کے ذریعے گلی محلوں میں جا کر گھروں تک پینے کا صاف پانی پہنچایا گیا تاکہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔محکمہ ذرائع کے مطابق یہ عارضی بندوبست اس وقت تک جاری رہے گا جب تک متاثرہ پائپ لائنوں کی مرمت مکمل نہیں ہو جاتی اور سپلائی نظام بحال نہیں ہو جاتا۔ متعلقہ انجینئرنگ عملہ بھی موقع پر موجود رہ کر نقصانات کا جائزہ لے رہا ہے اور مرمتی کام کو تیزی سے مکمل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔محکمہ جل شکتی کی اس بروقت اور منظم کارروائی سے شہریوں کو بڑی حد تک راحت ملی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم نہ کیا جاتا تو صورتحال مزید گھمبیر ہو سکتی تھی۔ شہریوں نے اس اقدام کو ذمہ دارانہ اور قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔علاقہ مکینوں نے اے ای ای مجید چودھری اور محکمہ جل شکتی کے فیلڈ اسٹاف کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی عوامی مسائل کے حل کے لیے اسی طرح سنجیدگی، تیزی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جاتا رہے گا، تاکہ بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
سرحدی گاؤں سیال میں پینے کے پانی کی شدید قلت
عام لوگ شدید مشکلات کا شکار، سپلائی مستقل کرنے کی یقین دہانی
رمیش کیسر
نوشہرہ // سب ڈویژن نوشہرہ کے سرحدی گاؤں سیال کے رہائشیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے علاقے میں پینے کے صاف پانی کی سپلائی کو مستقل بنیادوں پر بحال کیا جائے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پانی کی غیر مستقل اور انتہائی کم فراہمی کے باعث گاؤں کے مکین گزشتہ کئی برسوں سے سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔گاؤں والوں کے مطابق پانی کی سپلائی یا تو کئی کئی دن معطل رہتی ہے یا پھر بہت کم مقدار میں فراہم کی جاتی ہے، جو آبادی کی ضرورت کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ نتیجتاً لوگوں کو پینے اور گھریلو استعمال کے لئے صاف پانی میسر نہیں آتا اور انہیں دور دراز ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔مقامی خواتین نے بتایا کہ پانی کی قلت کا سب سے زیادہ اثر گھریلو نظام پر پڑتا ہے۔ انہیں روزانہ لمبا فاصلہ طے کر کے پانی لانا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف وقت اور محنت ضائع ہوتی ہے بلکہ صحت کے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ بزرگوں اور بچوں کو بھی اس صورتحال میں شدید پریشانی کا سامنا ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس مسئلے کو کئی بار متعلقہ حکام کے سامنے اٹھایا، مگر اب تک کوئی مستقل حل سامنے نہیں آیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ گاؤں سیال میں پانی کی سپلائی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے، خراب پائپ لائنوں کی مرمت کی جائے اور باقاعدہ شیڈول کے تحت وافر مقدار میں صاف پانی فراہم کیا جائے۔اس حوالے سے جب متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ معاملے کی جانکاری حاصل کر رہے ہیں اور کوشش کی جائے گی کہ گاؤں میں پانی کی سپلائی کو مستقل اور بہتر بنایا جائے۔ مکینوں نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت ان کے دیرینہ مسئلے کو سنجیدگی سے لے کر جلد عملی اقدامات کرے گی، تاکہ بنیادی ضرورت یعنی صاف پانی کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔