جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر قصبہ اور اس کے ملحقہ دیہی علاقوں میں بغیر لائسنس آٹو رکشہ چلانے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے باوجود متعلقہ محکمے کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی، جس سے حادثات کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق بیشتر آٹو رکشہ ڈرائیوروں کے پاس نہ تو درست ڈرائیونگ لائسنس ہے اور نہ ہی گاڑیوں کے مکمل کاغذات۔ اس کے علاوہ تین مسافروں کی گنجائش والے آٹو رکشوں میں چھ چھ سواریاں بٹھائی جا رہی ہیں، جو نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ مسافروں کی جانوں کو بھی شدید خطرے میں ڈال رہی ہے۔شہریوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ کم عمر لڑکے آٹو رکشے چلاتے نظر آتے ہیں، جنہیں ٹریفک قوانین اور سڑک پر گاڑی چلانے کے بنیادی اصولوں کا بھی علم نہیں ہوتا۔ ایسے ڈرائیوروں کی موجودگی سے راہگیروں، مسافروں اور دیگر گاڑی سواروں کی جان کو ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے۔عوامی حلقوں نے ٹریفک پولیس اور متعلقہ محکمہ پر عدم توجہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو صورتحال اس قدر خراب نہ ہوتی۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر چلنے والے آٹو رکشوں کے خلاف کوئی مستقل مہم نظر نہیں آتی، جس کی وجہ سے یہ رجحان دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔مقامی باشندوں نے ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر خصوصی مہم شروع کر کے بغیر لائسنس، بغیر کاغذات اور کم عمر ڈرائیوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد ہی اس سنگین مسئلے کا واحد حل ہے، تاکہ کسی بڑے جانی نقصان سے پہلے سڑکوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔