عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //میرواعظِ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس Xپر ایک پوسٹ میں لائن آف کنٹرول کے اُس پار، بالخصوص راولاکوٹ اور پونچھ میں جاری بے چینی کے دوران شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔اپنی پوسٹ میں میرواعظ نے مزید کہا ’’ لائن آف کنٹرول کے اُس پار بالخصوص راولاکوٹ اور پونچھ میں جاری بے چینی کے دوران شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی جانوں کے ضیاع کی اطلاعات پر مجھے انتہائی دکھ اور صدمہ پہنچا ہے۔ میری دلی ہمدردیاں اور دعائیں تمام سوگوار خاندانوں اور اس المناک صورتحال سے متاثرہ افراد کے ساتھ ہیں۔مجھے پاکستان میں مقیم بڑی تعداد میں کشمیری ریاستی باشندگان کی نمائندگی، آئینی اور سیاسی حیثیت سے متعلق جاری مباحث پر بھی تشویش ہے۔ شناخت، نمائندگی اور سیاسی حقوق جیسے معاملات تقاضا کرتے ہیں کہ انہیں حساسیت، مکالمے اور عوام کے وسیع اعتماد کے ساتھ حل کیا جائے‘‘۔
انکامزید کہناتھا’’کسی بھی نظامِ حکومت کی مضبوطی اور اس کی حقیقی حیثیت کا انحصار بالآخر اُس کے عوام کی رضامندی، اعتماد اور بھروسے پر ہوتا ہے جس کی وہ خدمت کرتا ہے۔ ہماری مشترکہ تاریخ اور لائن آف کنٹرول کے آرپار موجود سماجی، ثقافتی اور خاندانی رشتے اس حقیقت کی یاد دلاتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے ایک حصے میں رونما ہونے والے واقعات کی بازگشت دوسرے حصے اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن تک بھی پہنچتی ہے‘‘۔میرواعظ نے مزید کہا’’میرے خاندان کا جموں و کشمیر، بشمول لائن آف کنٹرول کے اُس پار، کی سماجی، تعلیمی، دینی اور سیاسی ترقی سے ایک طویل تاریخی تعلق رہا ہے۔چونکہ مجھے مسلسل لائن آف کنٹرول کے اُس پار کے لوگوں کی جانب سے موجودہ صورتحال پر اضطراب، تشویش اور غم و غصے کے اظہار پر مبنی پیغامات موصول ہو رہے ہیں، اس لیے میں حکومتِ پاکستان اور وہاں کی مقامی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تحمل، مکالمے اور بامعنی رابطے کو ترجیح دیں اور اختلافات کو تصادم کے بجائے مشاورت اور باہمی مفاہمت کے ذریعے حل کریں، جبکہ انسانی حقوق اور انسانی جان کے تقدس کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔میں احتجاج کرنے والے تمام فریقوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ دانشمندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ دونوں فریقوں کو چاہیے کہ جلد از جلد امن اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں‘‘۔