عظمیٰ نیوز سروس
بیونس آئرس/فٹ بال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑی لیونل میسی نے اپنے کیریئر کے ایک اہم ترین فیصلے سے پردہ اٹھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہیں اسپین کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے کی پیشکش ہوئی تھی، لیکن انہوں نے اپنے وطن ارجنٹائن سے وفاداری کو ترجیح دی۔میسی محض 13 سال کی عمر میں روزاریو (ارجنٹائن) سے بارسلونا منتقل ہو گئے تھے اور وہیں لا ماسیا اکیڈمی میں تربیت حاصل کی۔ اسی بنیاد پر اسپین کے پاس انہیں اپنی قومی ٹیم میں شامل کرنے کا حقیقی موقع موجود تھا۔ اسپین کو ورلڈ کپ جتوانے والے کوچ ونسینٹ ڈیل بوسکی نے انکشاف کیا کہ فیڈریشن نے میسی کو قائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میسی جیسے کھلاڑی کی کوچنگ کرنا ایک خواب ہوتا، لیکن میسی نے اپنے ملک کی محبت میں اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔
چونکہ میسی کی پوری جوانی اسپین میں گزری تھی، اس لیے ہسپانوی حکام کے لیے یہ ایک منطقی کوشش تھی۔انٹر میامی کے اسٹار میسی نے ‘مائیرو ڈی اٹراس’ پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اپنے اس فیصلے کی وجوہات بیان کیں۔میرا دل ہمیشہ ارجنٹائن کے ساتھ تھا۔ اگرچہ میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اسپین میں گزارا، لیکن ارجنٹائن سے میرا تعلق کبھی کمزور نہیں ہوا۔ایک وقت ایسا بھی تھا جب ارجنٹائن کو فائنلز میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور ناقدین یہ سوال اٹھاتے تھے کہ اگر میسی اسپین کی طرف سے کھیلتے تو شاید وہ زیادہ آسانی سے ٹائٹل جیت لیتے ۔ لیکن میسی نے کبھی اپنے فیصلے پر افسوس نہیں کیا۔