بلال فرقانی
سرینگر//وادی میں زلزلہ خطرات کے حوالے سے جاری سائنسی تحقیق نے ایک نئے اور تشویشناک پہلو کو اجاگر کیا ہے، جس کے مطابق یہاں کی مٹی اور زیرِ زمین پانی کی صورتحال کسی بھی بڑے زلزلے کے دوران تباہی کی شدت کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بظاہر پْرسکون دکھائی دینے والی زمین درحقیقت ایک ’خاموش خطرہ‘ بن چکی ہے۔یہ انکشاف انڈین انسٹی چیوٹ آف سائنس ،بنگلورو میں ڈاکٹر آف انجینئرنگ اور ریسرچ ایسو سی ایٹ ایاز محمد ڈار کی حالیہ تحقیق’’کشمیر وادی میں زلزلہ خطرات، شمال مغربی ہمالیہ میں ایک خاموش بحران‘‘ میں سامنے آیا ہے۔ تحقیق میں وادی کشمیر کو ایک حساس’’ سیسمک زون‘‘ قرار دیتے ہوئے متعدد پوشیدہ خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔تحقیق کے مطابق کشمیر’’حوض نما وادی‘‘ کی زمین زیادہ تر نرم، ڈھیلی اور جھیلوں و دریاؤں سے بننے والی تلچھٹی مٹی پر مشتمل ہے، جسے ’کریوا گروپ‘ کہا جاتا ہے۔
اس قسم کی مٹی زلزلے کے جھٹکوں کے دوران اپنی مضبوطی کھو دیتی ہے اور ’لیکویفیکشن‘(زمین کا گیلاہو جانا)کے عمل کا شکار ہو جاتی ہے، جس میں زمین ٹھوس حالت سے مائع جیسی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عمارتوں کی بنیادیں بیٹھ سکتی ہیں اور سڑکیں و دیگر ڈھانچے شدید نقصان اٹھا سکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق وادی میں زیرِ زمین پانی کی سطح غیر معمولی طور پر کم گہرائی پر واقع ہے، جو گرمیوں میں تقریباً 1.5 سے 4 میٹر اور سردیوں میں 1.75 سے 6 میٹر کے درمیان رہتی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے زمین مسلسل سیراب رہتی ہے، جو زلزلے کے دوران’ مٹی کو گیلا کرنے‘ کے امکانات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔سرینگر، بارہمولہ اور کپواڑہ جیسے اہم شہری علاقوں میں مٹی کے تجزیئے سے معلوم ہوا ہے کہ یہاںمائع بننے کی صلاحیت’زیادہ‘ سے’بہت زیادہ‘ سطح تک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ درمیانی درجے کے زلزلے بھی ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر زمینی بگاڑ پیدا کر سکتے ہیں۔تحقیق میں 2001 کے گجرات کے زلزلے کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس دوران زمین میں دراڑیں، ریت کے فوارے اور زمین کے پھیلاؤ جیسے مناظر دور دور تک دیکھے گئے تھے۔ اسی نوعیت کے اثرات کشمیر میں بھی متوقع ہو سکتے ہیں، جہاں مٹی اور پانی کا امتزاج خطرے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔وادی کشمیر ماضی میں شدید سیلابوں کا سامنا کر چکی ہے، خصوصاً 2014 کا تباہ کن سیلاب، جس نے نہ صرف انسانی و مالی نقصان پہنچایا بلکہ زیرِ زمین پانی کی سطح کو بھی متاثر کیا۔
ماہرین کے مطابق سیلاب کے بعد زمین کی ساخت میں تبدیلی زلزلے کے اثرات کو مزید شدید کر سکتی ہے۔تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ اور جدید تعمیراتی اصولوں سے انحراف خطرات کو بڑھا رہا ہے۔ نرم اور پانی سے بھرپور زمین پر تعمیر کی جانے والی کثیر المنزلہ عمارتیں زلزلے کے دوران زیادہ نقصان اٹھا سکتی ہیں، خصوصاً جب وہ زلزلہ مزاحم ڈیزائن کے مطابق نہ ہوں۔ محقیقین کا کہنا ہے کہ کشمیر’ وادی طاس‘میں زلزلوں کی نسبتاً کم تعداد دراصل ایک’خطرناک خاموشی‘ کی علامت ہے، جہاں زیرِ زمین توانائی جمع ہو رہی ہے اور کسی بھی وقت بڑے زلزلے کی صورت میں خارج ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں زمین اور پانی کا موجودہ نظام تباہی کے اثرات کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مٹی اور زیرِ زمین پانی کی جامع سائنسی جانچ، مائع پانی جیسے زونوں کی نشاندہی، اور زلزلہ مزاحم تعمیراتی کوڈز پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔