میاں لال الدین ترالوی مرحوم راجوری کے ترالہ گجراں نامی گاؤںکے گجر چوہان قبیلے کے عظیم روحانی بزرگ،مستند عالمِ دین اور خطۂ پیر پنچال کی مشہور و معروف شخصیت گذری ہے۔صحیح تاریخِ پیدائش تو دستیاب نہیں ہو سکی، البتہ سینہ بہ سینہ چلنے والی روایتوں کے مطابق مرحوم کی پیدائش ۱۸۸۰ ء کے عشرے میں میاں عبد الکریم عرف سائیں چھلا کے ہاں راجوری قصبہ سے پندرہ کیلو میٹر کے فاصلے پر جانبِ مشرق موجودہ بدھل روڈ پر ترالہ گجراں میں ہوئی ۔ترالہ گجراں کا چوہان قبیلہ اس خطہ کا بڑا باعزت اور اثر رسوخ رکھنے والا شریف اور دیندار قبیلہ ہے، جس کے اکابرین کے جنوبی ہندوستان کے گجرات و کاٹھیاواڑ علاقے میں خود مختار راجواڑے قائم تھے ۔البتہ قوموں کے عروج و زوال اور نقلِ مکانی کی روایت کے مطابق اس قبیلہ کے اسلاف بھی مکافاتِ عمل کا شکار ہوکر کاٹھیاواڑ سے نقلِ مکانی کر کے سندھ و پنجاب کے میدانوں سے ہوتے ہوئے تاریخی شاہراہ نمک (موجودہ مغل روڈ)کے راستے بھمبر و نوشہرہ ہوتے ہوئے پندرہویں صدی عیسوی کے اوائل میں خطۂ پیر پنچال کے راجوری علاقے میں داخل ہوئے اور اپنا مسکن کوٹ دھیڑہ و سنکاری اور بعد ازاں ترالہ و سانوں کوٹ کو بنایا۔یہ قبیلہ قدیم الایام سے دین دار اور صوفی منش رہا ہے ۔آپ کے والد گرامی میاں عبدالکریم عرف سائیں چھلا ولد میاں فقیر کئی نسلوں سے صاحبِِ طریقت و حاملِ شریعت چلے آرہے ہیں۔وہ ابتدائے نوجوانی میں حصولِ علم و معرفت کی شوق میں پنجاب کے مشہور علمی و روحانی مرکز ملتان چلے گئے تھے ، جہاں برس ہا برس تک حصولِ علمِ دین کے ساتھ بزرگانِ ملتان سے معرفت و طریقت کے روحانی فیوض بھی حاصل کئے ۔سینہ بہ سینہ چلنے والی خاندانی روایات کے مطابق میاں عبد الکریم نے ملتان کے گرم ترین صحراؤں و میدانوں میں سخت ترین چلہ کشی کر کے روحانی تربیت و معرفت کی منزلیں طے کیں ۔اس کے باعث ملتان کی روایتی گرمی کی وجہ سے آپ کا رنگ کافی حد تک مائل بہ سیاہی ہوگیا تھا۔ملتان سے اپنے وطن واپس آکر بھی آپ کا زیادہ وقت جنگلوں و پہاڑوں کے دامن میں چلہ کشی اور عبادت و ریاضت میں گذرتا تھا اور دنیا سے آپ کو ذرا بھی لگاؤ نہ تھا ۔اس وجہ سے خاندان کے بڑے لوگوں نے انہیں پیار سے سائیں چھلا کے نام سے پکارنا شروع کر دیا ۔ بنابریں محکمۂ مال کے ریکارڈ میں بھی یہی نام درج ہو گیا، اس لئے آپ اصلی نام کے بجائے اسی توصیفی نام سے مشہور و مقبول اور زبانِ زد خاص و عام ہو گئے۔
میاں لال الدین میاں عبد الکریم کا نہایت چہیتا ،خوبصورت و خوب سیرت اور ذہین بیٹا تھا جسے والدین نے چھوٹی عمرمیں قبیلہ قریش کے روحانی بزرگ و عالم دین میاں عطا محمد اور ان کے بیٹے مولوی محمد عثمان قریشی کی درسگاہ موضع سانوں کوٹ میں داخل کر دیا جہاںمیاں عطا محمد قریشی اور ان کے فرزند مولانا محمد عثمان قریشی سے عربی و فارسی و حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی ۔اُنیسویں صدی کے اوائل میں خطۂ پیر پنچال کے سانوں کوٹ کی بستی میں مولانا محمد عثمان قریشی کی مشہور اور اس خطہ کی واحد اقامتی درسگاہ ہوا کرتی تھی، جہاں اس خطہ کے دور دراز علاقوں سے طالبانِ علمِ نبوت آکر اپنی علمی پیاس بجھاتے تھے ۔ میاں لال الدین مرحوم نے اس درسگاہ میں علم دین کے ساتھ ساتھ علم روحانی اور تزکیہ و تربیت بھی حاصل کی جس کی وجہ سے آپ اس خطہ میں پابند شریعت روحانی بزرگ سمجھے جانے لگے اور بلا لحاظ مذہب و ملت عامۃ الناس کے دلوں میں آپ کا بے حد احترام و عزت ہے ،جو ان کے مقبول عند اللہ ہونے کی علامت ہے۔
میاں لال الدین مرحوم نے ڈوگرہ مہاراجہ پرتاپ سنگھ کا عہد اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ،ڈوگرہ حکمرانوں کے جبر و استبداد کے علاوہ ان کے مقامی و علاقائی منصب داروں اور راجوری کے سود خور مہاجنوں کے استحصالی حربوں اور سودی نظام و جاگیردارانہ خرابیوں اور عامۃ الناس کی زبوں حالی و کسمپرسی و فاقہ کشی کا عینی مشاہدہ کیا تھا، جس کی وجہ سے ڈوگرہ شخصی حکمرانوں اور ان کی خرابیوں کے متعلق نفرت و بیز اری آپ کے رگ و ریشے میں سمائی ہوئی تھی ۔اس لئے اس خطہ میں ڈوگرہ حکمرانی اور ان کے منصب داروں کے جور و جبر اور اسلامی اقدار کے احیائے اقامت کی جب بھی کوئی تحریک اُٹھی تو میاں لال الدین مرحوم نے اس میں ہر اول دستے کا رول ادا کیا اور بلا خوف و خطر آتشِ نمرود میں کود پڑے ۔ ۱۹۱۴ ء میں جب ایک مردِ قلندر اور انقلاب کا نقیب مولانا عبدالرحمٰن ٹاٹوی مرحوم اس خطہ میں آیا اور اس خطہ کی مساجد کو بند اور مسلمانوں کی زبوں حالی کا مشاہدہ کیا تو اس کا خمیر پھڑک اُٹھا اور اس نے اس خطہ میں قیام کرکے مسلمانوں کو جگانے اور ان کی لام بندی کا پختہ تہیہ کر لیا ۔ میاں لال الدین مرحوم ان دنوں نوجوان صحت مند تھے ،اس لئے آپ کے استاد مولانا محمد عثمان قریشی نے آپ کو مولانا عبد الرحمٰن ٹاٹوی کا گائڈ بنا کر راجوری خطہ کے مشرقی زون دھار ساکری ،کنڈی بدھل ،گندہ خواص علاقوں میں بھیج دیا۔مولانا عبد الرحمٰن ٹاٹوی میاں لال الدین کے ہمراہ ان علاقوں کا تفصیلی دورہ کر کے مسلمانوں کی زبوں حالی،ڈوگرہ منصب داروں و جاگیر داروں کے مظالم و جبری بیگار کا اچھی طرح مشاہدہ کرکے مسلمانوں کو بتایا کہ تمہاری موجودہ خستہ حالی ،غربت و تنگ دستی کی واحد وجہ دین سے دوری اور ڈوگرہ غلامی کا پھندا ہے ۔اس لئے اُٹھو اور جبر و غلامی کی ان مصنوعی زنجیروں کو کاٹ دو ۔اس وقت راجوری کے لڑی میدان کی تاریخی جامع مسجد مقفل تھی، اس میں اذان نماز با جماعت اور عیدین وغیرہ نمازوں پر بھی پابندی تھی۔اس لئے مولانا عبد الرحمٰن ٹاٹوی نے ایک دن سارے خطہ راجوری کے مسلمانوں کو کال دی کہ وہ بروز جمعہ قافلوںں کی صورت میں جامع مسجد لڑی میدان میں پہنچ کر مسجد کو واگذار کریںاور نماز جمعہ ادا کریں ۔اس موقع پر میاں لال الدین اورر ان کے خاندان کے تمام اہم و ذی عزت لوگوں نے مولانا محمد عثمان قریشی اور میاں لال الدین کی قیادت میں ایک بڑے قافلے کی صورت میں اس مہم میں حصہ لیا اور مسجد کو واگذار کروا کر اس میں جمعہ کی نماز ادا کی۔اس مسجد کی دو بارہ قفل بندی تک آپ اپنے اُستاد مولانا محمد عثمان قریشی کی قیادت میں اپنے علاقے کے مسلمانوں کے ایک بڑے قافلے کی جلوس کی صورت میں قیادت کرتے ہوئے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے آتے رہے ۔تا آنیکہ راجوری کے سود خور مہاجنوں اور مہاراجہ کے مخبروں کی مسلسل شکایتوں کے باعث لڑی میدان کی یہ مسجد دوبارہ مقفل کر کے اس پر مسلح پہرہ بٹھا دیا اور اس علاقے کے بہت سارے سرکردہ مسلمانوں کو گرفتار کرواکے سب جیل ریاسی و سنٹرل جیل جموں میں مقید کردیا جب کہ مولانا عبد الرحمٰن ٹاٹوی لاہور کی طرف واپس چلے گئے ۔البتہ دوسری دفعہ ۲۱؍جنوری ۱۹۳۲ ء کو جب اس خطہ کے سر کردہ احباب نے اس مسجد کو دوبارہ واگزاری و آباد کاری کا بیڑہ اُٹھایا تو اس موقع پر بھی میاں لال الدین مرحوم نے اپنے اُستاد مولانا عثمان قریشی کی قیادت میں بھر پور رول ادا کیا ۔ چنانچہ وزیر وزارت سردار تیرتھ سنگھ نے بعد نماز جمعہ فائرنگ کروا کر ۲۵؍مسلمانوں کو شہید اور درجنوں کو زخمی کر کے قیامتِ صغریٰ برپا کردی۔ اس موقع پر میاں لال الدین بھی زخمیوں میں شامل اور ڈوگرہ فوجیوں کومطلوب تھے جس کی وجہ سے وہ بعض دیگر ساتھیوں کے ساتھ روپوش ہوکر لار کشمیر ،میاں نظام الدین لاروی مرحوم کے پاس چلے گئے اورڈوگرہ فوجیوں کی آپ تک رسائی نہ ہو سکی، البتہ ان کے اُستاد ،مولانا عثمان قریشی ،قاضی منصور آف سیم سمت ،منشی اللہ دتہ آف دوداسن ،چودھری سخی محمد اوانہ ، سردار شکر دین کملاک،مولوی کریم الدین ،میاں محکم دین ، چودھری وزیر علی ،مرزا حبیب اللہ نمبر دار فتح پور حاکم شاہ آف چھوا راجوری اور دیگر بہت سارے حریت پسندوں کو گرفتار کر کے سب جیل ریاسی اور سنٹرل جیل جموں میں قید با مشقت میں ڈال دیا ۔آل جمو ںو کشمیر مسلم کانفرنس راجوری کی تشکیل کے بعد مسلم کانفرنس کے صدر شیخ عبداللہ،چودھری غلام عباس اور اللہ رکھا ساغر جب راجوری تشریف لائے اور راجوری قصبہ کے وسط میں ایک بڑا جلسہ منعقد ہوا تو آپ نے اس تاسیسی اجلاس میں اپنے علاقے کے ایک بڑے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے شرکت کی اور مسلم کانفرنس کی باقاعدہ رُکنیت حاصل کر لی، اگرچہ بعد میں شیخ صاحب کی قلا بازیوں کے باعث مسلم کانفرنس کے بطن سے نیشنل کانفرنس کا ظہور عمل میں آیا اور عبد العزیز شال اور ان کے بعض ساتھیوں کی کوششوں سے اس تنظیم کا نظم بھی راجوری میں قائم ہو گیا ،مگر میاں صاحب مرحوم بدستور ۱۳؍اپریل ۱۹۴۸ ء تک باضابطہ طور پر مسلم کانفرنس کی ملی و تحریکی سر گرمیوں کے ساتھ وابستہ رہے۔
۱۹۴۷ ء کے وسط میں جب راجوری خطہ میں ڈوگرہ راج کے خلاف تحریک مزاحمت منظم ہوکر فیصلہ کُن موڑ پر پہنچی تو اس وقت آپ نے مولانا محمد اسمٰعیل ذبیح ،چودھری سخی محمد اوانہ ،سردار شکر دین کملاک ،چودھری علی محمد ذیلدار آف دیول سردارجلال الدین آف کنڈی ،خواجہ محمد شریف بدھلوی،سردار کالا خان اور چودھری میراں بخش وغیرہ کے ساتھ مل کر دھار ساکری و ریحان سے لے کر بدھل اور گول گلاب گڑھ تک اس خطے کو مہاراجہ ہری سنگھ کے تسلط سے آزاد کرانے میں اہم رول ادا کیا ۔آپ نے نومبر۱۹۴۷ ء کے اوائل میں اپنے کنبہ کے باعث سرکردہ احباب کے ساتھ جرال خاندان کی جاگیر موضع کرائیاں میں میجر عطاء محمد کے گھر قیام پذیر گوریلہ فوج کے کمانڈر کیپٹن رحمت اللہ منہاس اور چودھری غلام نبی دھنوری کے ساتھ ملاقات کر کے راجوری شہر کو حتی الامکان پر امن طور پر باہمی صلاح و سمجھوتے کے تحت فتح کرنے پر مشاورت میں حصہ لیا تھا، اس وقت آپ کے ہمراہ مقدم سجاول اس کا جواں سال فرزند مقدم حبیب اللہ چودھری محمد رفیق اور چوہان قبیلہ کے بعض سرکردہ لوگ بھی شامل تھے ۱۳؍نومبر ۱۹۴۷ ء کو راجوری قصبہ کو فتح کرنے کے بعد بڑی تعداد میں ہندو برادری کے لوگ شہر سے بھاگ کر راجوری کے نواحی دیہات پلمہ ،نگروٹہ،کوٹ دھیڑہ ،سنکاری،دھار ساکری اور ریحان وغیرہ میں منتقل ہو گئے تھے ۔اس موقع پر آپ نے مسلمانوں کو سمجھایا کہ یہ علاقہ اب ڈوگرہ راج سے آزاد ہو چکا ہے ۔غیر مسلم رعایا بھی ہماری طرح اس ریاست کی پشتینی باشندہ ہے، اس لئے انہیں جان و مال اور عزت و ناموس کا تحفظ فراہم کرنا ہم مسلمانوں کی بنیادی ذمہ دارری بنتی ہے، اس حوالے سے آپ نے مذکورہ علاقوں میں مولانا محمد عثمان قریشی کے برادرِ اصغر مولانا میاں محمد حسین کی سر براہی میں امن کمیٹیاں قائم کیں جن کی بنیادی ذمہ داری آپسی اتحاد ،غیر مسلموں کی جان و مال اور عملات کا تحفظ شامل تھا ۔۱۳؍اپری ۱۹۴۸ ء کے بعد ہندوستانی فوج نے راجوری علاقے پر قابض ہو کر زبردست تباہی مچائی جس کے باعث میاں صاحب کے تمام رہائشی مکانا ت ، مسجد اور گاؤ کانے وغیرہ کو مع اثاثہ جات نذرِ آتش کر دیا جب کہ آپ اپنے علاقے کے لوگوں کے ساتھ پیر پنچال کی اپنی ڈھوک روپڑی اور بیلہ میں چلے گئے اور امن قائم ہونے کے بعد میاں نظام الدین لاروی،خواجہ غلام رسول کاراور چودھری محمد شفیع کھٹانہ کی مداخلت و معاونت کے باعث اکتوبر ۱۹۴۸ ء میں روپڑی ڈھوک سے واپس ترالہ تشریف لائے۔اگست ۱۹۶۵ ء میں ایک دفعہ پھر اس خطہ میں آپ نے میدانِ کارزار میں اپنے برادری اور علاقے کے نوجوانوں کو اس تحریک میں شامل کر کے کنڈی بدھل علاقے میں اہم رول ادا کیا مگر افسوس کہ معاہدۂ تاشقند کے باعث ییہ تحریک ہائی جیک ہو کر سازشوں کا شکار ہو گئی ع
یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا
مرحوم میاں صاحب کی قرآن و حدیث اور فقہ پر گہری نظر تھی چونکہ انہوں نے باقاعدہ میاں عطا محمد قریشی اور مولانا محمد عثمان قریشی کی درس گاہ میں رہ کر تعلیم حاصل کی تھی لیکن اس کے باوجود وہ علماء کا بہت احترام کرتے اور مختلف دینی و نزاعی مسائل میں مقامی و ضلعی علماء سے فتویٰ لے کر فیصلہ کرتے تھے ۔وہ بھر پور دینی فہم و فراست کے حامل روحانی بزرگ انتہائی نیک سیرت ،پابندِ شریعت ،متحمل مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی بصیرت کے بھی حامل تھے ۔وہ عامۃ المسلمین کو دینی امور اور فرائض و واجبات کی پابندی کی تلقین کرتے رہتے تھے ۔عمر کے آخری حصے میں چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود بیساکھیوں یا دو آدمیوں کا سہارا لے کر مسجد میں نمازِ باجماعت ادا کرنے کی پابندی کرتے رہے ۔رمضان میں ہمیشہ اُن کا معمول تلاوتِ قرآن پاک اور ذکر واذکار رہتا تھا ۔ اس کے علاوہ پورا رمضان اپنی زبان سے دوسرا کوئی لفظ ادا نہیں کرتے تھے ۔
(مضمون نگار چیئرمین الہدیٰ ایجوکیشنل ٹرسٹ راجوری ہیں)
فون نمبر7006364495