ہماری دینی تعلیمات میں یہ بات بالکل واضح الفاظ میں درج ہے کہ سب سے اچھا انسان وہ ہے، جس سے دوسرے انسانوں کو فائدہ پہنچے،اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہ انسان ہے جو اُس کی مخلوق کے ساتھ بہتر سلوک کرے،نیز قرآن مجید نے بھی کسی ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ جب ہم اس تناظر میں اپنے معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تویہ دیکھ کر افسوسناک ہورہا ہے کہ آج کا انسان زندگی کےہر معاملے میںریا کاری ،خود غرضی اور منفعت پرستی کا پرستار بن گیا ہے،جس کے نتیجے میں اب صحت کا شعبہ بھی ایک مقدس پیشےکے بجائے ایک منافع بخش کاروباری شعبہ بن گیا ہےاور علاج و معالجہ کامعاملہ دن بدن مہنگا اور پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
یک غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد جب کسی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اُس کے لئےیہ بیماری محض جسمانی تکالیف کا باعث نہیںبنتی بلکہ یہ اُس کے لئے ایک معاشی بوجھ بھی بن جاتی ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں کی فیس،بے شمار ٹیسٹوں کے اخراجات اور ادویات کی قیمتیں اس کے لئے بارِ عذاب بن جاتی ہیںاور نتیجتاً عام مریضوں کے لئے علاج و معالجہ کروانا ناممکن ہو جاتا ہے۔اب اگر سرکاری ہسپتالوں اور طبی مراکزپر نظر ڈالیںتو مریضوں کے اژدھام کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے، جیسے معاشرے کا ہر فرد کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہے۔چنانچہ وہ غریب مریض جو پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج و معالجہ کروانے کی قوت نہیں رکھتے ہیں،اُن سرکاری طبی مراکز کی طرف رُخ کرلیتے ہیں،جن میں حکومت کی طرف سے بڑی تعداد میںڈاکٹروں اور دوسرے طبی عملے تعینات ہوتے ہیں ،تاکہ ان مریضوں کا علاج و معالجہ ہوسکے۔لیکن ان سرکاری طبی مراکز کی صورت حال دیکھ کر بھی انسان مایوس ہوجاتا ہے،کیونکہ ان طبی مراکز پر تعینات زیادہ تر ڈاکٹرز اپنی ذمہ داری، ایمانداری سے انجام نہیں دیتےہیں۔ روزانہ بہت سارے غریب مریض سرکاری ہسپتالوں کے عملے ، ڈاکٹروں کی غفلت ، دوائوںکی عدم دستیابی اورکئی دوسری وجوہات کی بناءپر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔اگرچہ بعض ڈاکٹر صاحبان واقعی انتہائی نیک ،رحم دل اور پُر خلوص ہوتے ہیں اور مریضوں کی ہر طرح مدد کرتے رہتے ہیں ،لیکن اکثریت اُن ڈاکٹروں کی ہے جواپنے فرائض سے انتہائی کوتاہی برت رہے ہیں۔
سرکاری طبی مراکز میں علاج کرانے پر مجبور غریب مریضوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ طبی عملہ اُن کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھتے ہیں او رایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان طبی مراکز کا سارا دارو مدار محض عملے کے ہی مرہون ِ منت ہے۔ زیادہ تر غریب و بے بس مریض اکثر وبیشتر ناتجربہ کار ڈاکٹروںکے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ سرکاری ہسپتال اور طبی مراکز میں تعینات ایسے ڈاکٹر اور طبی عملہ کے ناروا اور غیر ہمدردانہ رویوںکو دیکھ کرعوام تعجب ہورہا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے مقدس پیشے کو کیا سے کیا بنا کر رکھ دیا ہے؟الغرض اس سارے معاملے کو درست کرانے کی اہم ذمہ داری حکومت پر ہی عائد ہوتی ہےاوراس کا بنیادی فریضہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بہتر طبی بنیادی سہولیات فراہم کرے۔
چنانچہ سرکاری طبی مراکزمیں سہولیات کی کمی، عملے کی قلت اور مناسب نگرانی کے فقدان کی بات بھی زبان ِ زد عام ہے۔ اگر حکومت ان ہسپتالوں کی بہتری پر توجہ دے، جدید سہولیات فراہم کرے اور عملے کی تربیت کو یقینی بنائے تو بہت حد تک عام مریضوں کا علاج و معالجہ احسن طریقے سے ہونا ممکن بن سکتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہےکہ صحت کے شعبے میں شفافیت اور احتساب کا نظام مضبوط ہو،اور جس کسی طبی مرکز میں کوئی ڈاکٹر یا طبی عملہ مریضوں کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے،ناروا سلوک روا رکھتا ہے یاعلاج و معالجہ کے نام پر اُن کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوں، اُن کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ جبکہ عوام پر بھی لازم ہےکہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیںاوراپنی صحت کی حفاظت کے بارے میں شعور پیدا کریں۔لہٰذاگر ہم سب مل کر صحت کے نظام میں بہتری کے لئے کام کریں ۔ حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرے، صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اپنے پیشے کی اصل روح کو سمجھیں اور عام لوگ بھی اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کریںتو اس ساری صورت حال میں بہتری آسکتی ہےاور اگراب بھی ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا توغریب مریضوں کے لئے علاج و معالجہ کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔