ایس معشوق احمد
گھر میں مہمان آنے کی نوید کے بعد گھر میں جو افراتفری مچتی ہے اس کا اندازہ کچھ اہل ذوق ہی لگا سکتے ہیں، بےوقوف اس سے مستثنیٰ ہیں۔بے وقوف مہمان کی آمد کو بھی باقی معاملات کی طرح ہنسی میں ٹال کر مست اور تندرست رہتے ہیں۔میں نے کبھی کسی بے وقوف کو پریشانی اور ڈپریشن کا شکار دیکھا،نہ ہی کوئی بے وقوف غمگین ،اداس اور زندگی سے مایوس ہوتا ہے، حتٰی کہ خودکشی کرنے کا خیال بھی عقل مند کو ہی آتا ہے۔خیر بات ہو رہی تھی گھر میں مہمان آنے کی، ہم بھی کہاں بےوقوفوں کی وادی میں سیر کرنے کو نکل آئے۔مرزا کہتے ہیں جو اپنے مقصد اور مدعا سے ہٹ جائے اس سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں۔گھر میں ابھی مہمان نہیں آیا ہوتا صرف مہمان کے آنے کی نوید آئی ہوتی ہے کہ گھر کی عورتیں صفائی کرم چاری کے جون میں آتی ہیں، بکھری چیزوں کو ترتیب سے رکھا جاتا ہے ، چیزوں کا میل نکال کر انہیں صاف ستھرا اور چمکایا جاتا ہے ، بچوں کو نہلا دھلا کر بیٹھنے کے لیئے الگ کمرہ دیا جاتا ہے، کھانے کی چیزوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، پھل فروٹ اور میوہ جات کو عجیب نزاکت سے کاٹ کر رکھا جاتا ہے،چائے کے لئے دودھ کا انتظام کیا جاتا ہے، پینے کے لئے جوس کا سٹاک وافر مقدار میں رکھا جاتا ہے، روٹی ،شکر ،کھٹی اور میٹھی چیزوں کے ذخیرے پہ نظر ڈالی جاتی ہے، غرض سارے بست و کشاد کو نظر غائر سے دیکھا جاتا ہے۔یہ انتظام و انصرام تب کئے جاتے ہیں جب کسی خاص مہمان کے آنے کی نوید آئی ہو۔ مہمان کی نوعیت پہ منحصر ہے کہ انتظامات کو کہاں تک درست اور اعلی رکھا جائے۔جس طرح ادبی دنیا میں ناقدین قلمکاروں کے درمیان فرق کرتے ہیں اور اچھے تخلیق کار کے بجائے مراسم اور مروت کو پروان چڑھاتے ہیں اسی طرح مہمان اور مہمان میں بھی امتیاز اور تفاوت برتا جاتا ہے۔ اس بنا پہ نہیں کہ مہمان موٹا ہے یا پتلا، لمبا ہے یا ناٹا، بچہ ہے یا بوڑھا، عورت ہے یا مرد ، بلکہ اس بنا پر امتیاز ہوتا ہے کہ مہمان سے رشتہ کس نوعیت کا ہے۔ بردارزن آجائے تو ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کا معیار بلند رکھا جاتا ہے۔کوئی عام مہمان وارد ہو تو اتنی پروا نہیں کی جاتی۔کوئی مہمان ایسا بھی ہوتا ہے جس کی شکل دیکھ کر چہرہ متحیر ہوتا ہے۔پریشانی کے آثار اور ماتھے پہ شکن دن کے اجالے میں صاف دکھائی دیتی ہے۔ایسے مہمان کو بھی بادل ناخواستہ چائے وغیرہ پلائی جاتی ہے۔جس گھر میں لڑکا لڑکی شادی کی عمر کو پہنچ جائے اور ان کے رشتے آنے لگے ہوں اس گھر میں مہمان کی آمد پہ جو گہماگہمی اور چہ میگوئیاں ہو رہی ہوتی ہیں اور جس طرح لڑکے یا لڑکی کا بلڈ پریشر پہاڑی ندی کی طرح رکنے کا نام نہیں لیتا اس کیفیت کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جو گھوڑی چڑھے ہوں گے،کنوارے ابھی سہانے خوابوں میں جی رہے ہیں اور ان فکروں کی انہیں ہوا بھی نہیں لگی ہے۔مرزا کہتے ہیں کنوارا شاہین ہے جو پہاڑوں پر بسیرا کرتا ہے اور شادی شدہ وہ چڑا جو دن بھر گھر بنانے کے لئے تنکے جمع کرتا ہے۔
بعض شوخ مزاجوں کو اپنے مہمان اتنے اچھے نہیں لگتے جتنے پڑوس میں آنی والیوں کی آمد کی خبر خوش کن لگتی ہے۔وہ سج دھج کر اس انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ کب پڑوس کا دروازہ کھلنے کی آواز آئے۔وہ عاشق مزاج کھڑکی پہ اپنی نششت کا انتظام کرتے ہیں اور اپنی نظروں کو ہمسائیوں کے آنگن پہ ٹکائے رکھتے ہیں۔پڑوس میں مہماناں کی آمد کے بعد وہ حد سے زیادہ شریف ،ملنسار، شائستہ ، خاندانی اور اصل النسل لگنے لگتے ہیں۔پڑوس کے جس گھر میں مہمان آتے ہیں اسی دن اس گھر میں انہیں کوئی نہ کوئی کام ضرور کھینچ لاتا ہے۔ اس گلی میں گشت کرنا ان کا واحد کام رہتا ہے۔مرزا کہتے ہیں کہ کوئی حسینہ پڑوس کے گھر میں وارد ہو تو نوجوان اس گلی کے اتنے چکر لگاتے ہیں جتنے مجنون نے صحراؤں کے بھی نہ لگائے ہوں گے۔
گھر میں مہمان آنے کی سب سے زیادہ خوشی بچوں کو ہوتی ہے۔ان کو تو وہ دن عید لگتی ہے جس دن گھر میں کوئی مہمان وارد ہوتا ہے اور واقعی ان کو عیدی بھی ملتی ہے بشرطیکہ مہمان دل کشادہ ہو۔مہمان کو اللہ کی رحمت اور بھگوان کا روپ مانا جاتا ہے اور واقعی کچھ مہمان رحمتوں کا سایہ ساتھ لاتے ہیں۔ان کی گھر میں جس دن آمد ہوتی ہے اسی دن اللہ کی رحمتیں اس گھر پہ برستی ہیں۔ان کے نورانی چہرے دیکھ کر گھر والوں کا دل باغ باغ ہوتا ہے،چہرے پر رونق آتی ہے،دل میں مسرت اور ولولے پیدا ہوتے ہیں،رنجوری دور ہوتی ہے اور چاروں طرف شادمانی رقص کرنے لگتی ہے۔بعض مہمان اپنے ساتھ نحوست لاتے ہیں۔ان کی جب آمد ہوتی ہے تو گھر میں لڑائی جھگڑے،فتنہ فساد اور نفاق کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ایسے مہمانوں کی نحوست سے گھر محفوظ ہی رہنا چاہیے۔مرزا کہتے ہیں مہمان پر جان وارنے والے مہان ہوتے ہیں۔مہمان کی مہمان نوازی ایسے کرنی چاہیے جیسے فراق زدہ اپنے محبوب کی آمد پر چراغاں کرتا ہے۔
کبھی کبھار دوست بھی مہمان کے روپ میں گھر آتے ہیں۔ان کی آمد سے دل خوش اور گھر والے ناراض ہوتے ہیں۔ان کی آمد سے گھر میں ہنگامہ رہتا ہے۔چہل پہل اور ہنسی مذاق کا دور چلتا ہے۔شور وغل اور چھیڑ چھاڑ سے ماحول پر مزاح بنتا ہے۔ترتیب بے ترتیبی میں بدل جاتی ہے، چیزوں کا بکھراؤ بڑ جاتا ہے،چارجر ، کھانے پینے کی اشیاء ، کپڑے کمرے میں ادھر ادھر بکھرے پڑے رہتے ہیں۔نہ صفائی کا دھیان رکھا جاتا ہے اور نہ ہی تکلف کی پرواہ۔ہنسی مذاق ،چائے،لطیفے، پری رخوں کا ذکر اور محبوباؤں کی فکر پہ زور ہوتا ہے۔بھلے ہی معتبر، اچھے، برے، دوست، دشمن کوئی بھی مہمان کی صورت گھر آئے، رحمت ہوتا ہے۔ مہمان کوئی بھی ہو ان کی آمد سے گھر کی رونق بڑھ جاتی ہے اور یہ رونق برقرار رہنے کے لیے مہمان آنے چاہئیں۔
���
موبائل نمبر؛8493981240