سرینگر// صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے نے منگل کو کہا کہ کشمیر میں کسی بھی طرح کے لاک ڈاؤن کو نافذ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور انتظامیہ’’ جان بھی جہاں بھی‘‘ کی منطق کوعملا رہی ہے۔سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران صوبائی کمشنرنے کہاکہ گذشتہ سال جانیںبچانے کیلئے لاک ڈاؤن کیا گیا تھا کیوں کہ وائرس اور اس کے طرز عمل کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔انہوں نے کہا’’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ، لاک ڈائون ختم کیا گیا اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اقدامات کئے گئے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال ، کوئی سیاحت نہیں تھی اور معیشت کو بہت نقصان پہنچا تھا،تاہم’’ جیسے جیسے وقت گذرتا گیا ، ملک بھر میں کورونا ضوابطے تیارکئے گئے جس میں ماسک پہننا ، سانٹیزرز استعمال کرنا اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا جیسے حفاظتی اقدامات شامل ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں فی الوقت 7300 مثبت کیس ہیںاورکشمیر میں اب تک 1300 اموات ریکارڈ کی جاچکی ہیں۔صوبائی کمشنرنے کہا’’اموات کی شرح 1.47 ہے جبکہ مجموعی طور پر ، 90ہزار کورونا مثبت کیس اب تک سامنے آئے ہیں جن میں سے 80ہزار کے قریب صحتیاب بھی ہوئے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں 28 لاکھ افراد کے ٹیسٹ کئے گئے ہیں ،جن میں سے 20 لاکھ ریپڈ اینٹیجن اور باقی ’’آر ٹی سی پی آر ‘‘کے ذریعہ ؎ کئے گئے ہیں۔ پی کے پولے نے کہا کہ یہ ایک تبدیل ہونے والا وائرس ہے جس کے بارے میں’’ہمیں زیادہ معلومات نہیں ہیں،فی الحال ہم کو کورونا ضوابط پر عمل پیرا ہونا چاہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں خدشات ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبائی کمشنر نے کہا ’’ کسی بھی قسم کا لاک ڈائون لگانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے کیونکہ انتظامیہ ’’جان بھی اور جہاں بھی ہے ‘‘کے نعرے پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں 1500 بستر دستیاب ہیں جن میں سے صرف 30 فیصد پر بیمار ہیں جبکہ کشمیر کے 37 فیصد اسپتالوں میں آکسیجن کی مناسب سہولت موجود ہے ۔ پولے نے مزید کہا کہ وادی میں صورتحال تشویشناک نہیں ہے۔