کشمیر میں قربانی کے جانوروں کی قلت کا خدشہ
سرینگر//عیدالاضحی سے قبل کشمیر میں گوشت بیوپاریوں اور حکومت کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عید کیلئے تمام ضروری اشیاء اور مویشیوں کا مناسب ذخیرہ موجود ہے جبکہ مٹن ڈیلروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا اور پنجاب سے مویشیوں کی آمد سے متعلق مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔فوڈ، سول سپلائز اینڈ کنزیومر افیئرز کے وزیر ستیش شرما نے گذشتہ روزکہا کہ حکومت نے عیدالاضحی سے پہلے ہی ضروری تیاریوں کا آغاز کیا ہے تاکہ کسی قسم کی قلت پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اشیائے ضروریہ کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو متحرک کیا گیا ہے۔وزیر نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال اور لاجسٹک مسائل کے پیش نظر حکومت نے پیشگی تیاری کی پالیسی اپنائی ہے۔
انہوں نے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی کی بھی وارننگ دی۔دوسری جانب کشمیر مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومتی دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ زمینی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری معراج الدین نے کہا کہ اس سال عید سے قبل ڈیلروں کے ساتھ کوئی باقاعدہ میٹنگ نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے سپلائی، قیمتوں اور مویشیوں کی نقل و حمل سے متعلق ابہام برقرار ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے پنجاب حکومت کو خطوط بھیجے جانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے، لیکن ڈیلروں کو اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق پنجاب سے مویشیوں کی آمد میں تاخیر اور رکاوٹوں کے مسائل اب بھی حل نہیں ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ عیدالاضحی کے موقع پر کشمیر میں مٹن اور قربانی کے جانوروں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے، جبکہ وادی میں زیادہ تر مویشی پنجاب اور دیگر شمالی ریاستوں سے لائے جاتے ہیں۔