جب کو ئی آپ کےسامنے ہاتھ پھیلائے، آپ سے مدد مانگے، آپ کو اپنا مددگار سمجھے تو یقین مانئے کہ اللہ رب العزت کی طرف سے آپکو ایک عظیم اور اہم موقعہ نصیب ہورہا ہے کہ آپ بار گاہ ِ خداوندی میں اپنے گناہوں ، کوتاہیوں، لغزشوں اور نافرمانیوں کا کچھ بوجھ اپنے کندھوں سے اتارنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ نے اِس عظیم موقعے کو کھو دیا تو حقیقتاً آپ نے زندگی کے جینے کا مقصد کھو دیا اوراِس کے بعد آپ اک چلتی پھرتی زندہ لاش کی مانند ہیں، جس کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یعنی انسان ہوکر بھی انسانی زندگی گزارنے کا موقعہ نصیب نہیں ہوتا۔
ہمارے معاشرے میں یہ بات بالکل عیاں ہے کہ ہم اکثر اوقات ایسے موقعوں پر تکبر، غرور اور انا کا شکار ہوجاتے ہیں اور یوں ہم گناہوں کی ایسی دلدل میں دھنس جاتے ہیں ،جس سے نہ صرف اپنا نقصان نہیں کرتے ہیں بلکہ سماج کو ایک ایسی ناقابل ِ رحم سمت میں لیجانے کا کام کرتے ہیں جس سمت پر جاکر رسوائیوں اور ہلاکتوں کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ احقر نے اِس موضوع پر لکھنا اِس لئے مناسب سمجھا کیونکہ اِس موضوع سے جڑی ایک دردناک کہانی آپ کے سامنے پیش کرنے جا رہا ہوں، جس سے ہم سب کو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ ہمارا اصلی چہرہ کیا ہے اور ہماری اوقات کیا ہے۔ یوں تو ظاہراًہم سب خود کو ہر لحاظ سے صاف شفاف اور پاکدامن شخصیت کے طور معاشرے میں پیش کرنے کی جستجو میں نظر آتے ہیں۔ ہمارے لباس مہنگے، ہمارے الفاظ معیاری، ہماری سوچ اعلیٰ، ہماری فکرمندی متاثرکن، لیکن سچ مانیے اور حق جانیئے تو یہ سب ہمارا ایک ظاہری روپ ہے جبکہ عملی دنیا میں ہم ہر لحاظ سے خستہ حال ہیں، ہمارے لباس ناپاک، ہمارے الفاظ ناشائستہ، ہماری سوچ ناپاک، ہماری فکر مندی میں دوغلاپن اور ہمارے ذہن زہر آلود ہیں۔ہمارے اِس دوغلے پن کی پول کھولنے کیلئے علاقہ گول کے سنگلدان ماولکوٹ کی رہنے والی رحمت نامی اک بیوہ خاتون کی داستان ِ الم کافی ہے جو معذوری کی حالت میں دَر دَر کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں۔ ہر در پر دستک دے کر انصاف کی بھیک مانگ رہی ہے لیکن نہ تو انتظامیہ اِس معذور بیوہ خاتون کو انصاف دلانےمیں میں کوئی جائز قدم اٹھارہی ہے اور نہ ہی سماج کے ٹھیکیداراس مجبور، لاچار اور ظلم و جبر کی شکار بیوہ کوکسی قسم کی مدد کرنے میں سنجیدہ ہیں۔حد تو یہ ہے جو چند عناصر خود کو سماج سدھاریا سماج کے فلاح وبہبودی کے ٹھیکیدار سمجھتے ہیں، وہ اِ س بیوہ خاتون کی مدد کرنے کی بجائے موصوفہ کی اِس قدر دلاآزاری کے مرتکب ہورہے ہیں کہ انسانیت نام جیسی شے چُلو بھر پانی میں ڈوب جانے کو ترجیح دے رہی ہے۔
ہمارے نام نہاد سماج سدھار کے کچھ صاحبان اخلاقی طور اِس قدر گراوٹ کا شکار ہونگے کبھی سوچا بھی نہیں سکتا۔ لیکن متاثرہ بیوہ خاتون کی آب بیتی اور داستان ِ غم رُوبرو سننے کے بعد یہ حقیقت ایک کھلی کتاب کی طرح دیکھنے کو مل جاتی ہے کہ سماج کا عام انسان جن لوگوں کو سماج سدھار سمجھے بیٹھے ہیں، وہ حقیقتاً سماج کیلئے زہر ِ قاتل ہیں اور سماج میں پنپ رہی بے شرمی ، بد اخلاقی اور بدتمیزی کی جڑ ہیںاور اخلاقی اور انسانی طورپر انتہا کی حد تک گرے ہوئے ہیں۔ رحمتہ بیگم کہتی ہے کہ چند برس قبل اُس کا سہاگ اُجڑ گیا اور وہ اپنی دو بچیوں کو لیکر زندگی کے مشکل دور میںبُری طرح پھنس گئی ہے۔ اُسے آس تھی اُس کے اپنے رشتہ داراُس کی اور اُس کی دو معصوم بچیوں کی پرورش کریں گے اور اِس مشکل وقت میں اُس کے دُکھ درد میں شریک ہونگے لیکن رحمتہ بیگم کا یہ خیالاُس کے لئےمحض ایک گمان ثابت ہوااور ہر آنے والا دن رحمتہ بیگم کیلئے مصیبتوں کے پہاڑ لیکر آتا ہے ۔ اِدھر سہاگ کیا اُجڑ گیا ،اُدھر رحمتہ کے دیور نے اُس کا جینا محال کردیا، اُس سے زمین جائداد چھینی گئی ،اُس کو تنگ طلب کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔مصیبت کے یہ ایام تو رحمتہ بیگم ایک کچے آشیانے میں جیسے تیسے بسر کر ہی رہی تھی لیکن دیوراُسے اِس آشیانے سے بھی محروم رکھنے پر بضد ہے۔بقولِ اس بیوہ خاتون کے آئے روز نئے نئے حربوں سے اُسے ہراساں کیا جارہا ہے۔اِس غیر انسانی اور غیر اخلاقی رویے سے تنگ آکر رحمت بیگم نے انتظامیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ انتظامیہ نے عام درخواست کنندگان کی طرح رحمتہ بیگم کی شکایت پر بھی تحقیقات شروع کر دی،جبکہ متاثرہ خاتون معذور ہے اور روز روز دفاترکے چکر لگانا اُس کے بس کی بات نہیں۔ رحمتہ بیگم چلتی ہیں تو اُس کے پاؤں لڑکھڑاتے ہیں لیکن رحمت بیگم کے حوصلوں کو سلام ہے کہ ایسے حالات میں بھی اُس نے حالات سے لڑنے اور اپنے حق کو حاصل کرنے کا جذبہ ٹھنڈا نہ پڑنے دیا ،وہ لڑکھڑاتے پاؤںسے اپنے جائز حق کے حصول کی جنگ آج بھی لڑ رہی ہے۔ ایس ڈی ایم گول نے متاثرہ خاتون کی روداد کو سنااوریقین دہانی کراکرگھر بھیج دیاکہ ’’آپ کا مسئلہ جلد از جلد حل کیا جائے گا ، جو بھی کوئی شخص آپ کو ستا رہا ہے ،آپ کی زمین جائداد کو ہڑپنے کی کوشش کر رہا ہے،اُس کے خلاف کارروائی کی جائے گی ‘‘۔اِدھر ایس ڈی ایم گول غیاث الحق کی یہ دریا دِلی اطمنان بخش ہے لیکن اُدھر متعلقہ پٹواری کا بیوہ خاتون کے اِس معاملے پر سرد مہر ی افسوسناک ہے۔ متعلقہ پٹواری نے متاثرہ خاتون کی معذوری کو نظر انداز کرکے اُسے پھر سے تحصیل صدر مقام جانے کی ڈیوٹی لگا دی ہے، جو کہ ہمارے سماج کے کھوکھلے پن کا کھلا ثبوت ہے۔ انسانیت کا تقاضا ہے کہ متعلقہ پٹواری فرائض منصبی کی انجام دہی سے ذرا اُوپر اٹھ کر سماج کے ایسے دبے کچلے لوگوں کے کام آتے ۔یاد رہے ایک ملازم کو اپنے فرائض انجام دینے کے عوض ہی تنخواہ ملتی ہے لیکن بحیثیت انسان ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ سماج کے لاچار و مجبور لوگوں کی مدد سے ہماری آخرت سنور جاتی ہے۔اس لئے کبھی کبھار انسان کی کوشش رہنی چاہیے کہ انسانیت کو زندہ رکھنے اور اپنی آخرت کو سنوارنے کیلئے بھی تھوڑا سا کام کیا جائے ۔قابل ِ غور ہے اور انتہائی افسوسناک بھی کہ متاثرہ خاتون انتظامیہ کے سامنے انصاف کی بھیک مانگ کر خالی تو نہیں نکلی لیکن اُن بلند قامت مغرور اور تکبرسے ڈیزائن شدہ دروازوں سے ذلیل ہوکر نکالی گئی، جن دروازوں پر’’سماج سدھار‘‘ کی تختیاں لٹکی ہوتی ہیں۔ راقم کو چند روز قبل ہی متاثرہ خاتون کی اچانک ملاقات نصیب ہوئی، احقر ایک چھوٹی سے دکان پر اپنے چند دوستوں کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا ۔ ہم میں سے ایک دوست متاثرہ خاتون کی کچھ مدد کر چکا تھا، خاتون نے اُس کو دیکھا اور اُسے بلایا، ساتھی نے جلدی سے متاثرہ خاتون کا ہاتھ تھاما اور اُسے دکان پر لے آیا اور ہم سب ساتھیوں سے کہا کہ اِس مجبور خاتون کی مدد کرو، اِس پر ظلم ہورہا ہے ۔اتنے میں متاثرہ خاتون نے ہاتھ پھیلائے اور نم دیدہ آنکھوں سے چیخ چیخ کر ہمارے اُس ساتھی کو خوب دعائیں دینے لگی ۔ ہم سب ساتھیوں نے خاتون سے اُن کی روداد جاننی چاہی تو وہ روتے ،بلکتے اور تڑپتتے اس خاتون نے اپنی روداد بیان کرتے ہوئے سماج کی ایسی بھیانک تصویر ہمارے سامنے پیش کردی کہ ہم سب ساتھی شرم سے پانی پانی ہوگئے اور خود سے ہی سوال کرنے لگے کیا ہمارے سماج میں اخلاقی گراوٹ اِس حد تک پہنچی ہے کہ ہم اب بیواؤں ، مجبوروں اور لاچاروں کی مدد کرنا تو دور، اُن کی عزت کرنے سے بھی قاصر ہیں ، کیا ہم ایسے ہی سماج میں رہنے والی مخلوق ہیں ؟جس سماج میں بیواؤں ،مجبوروں اور مفلسوں کیساتھ اِس قدر بد اخلاقی سے پیش آیا جاتا ہے۔اپنی روداد میں جس نام نہاد لیڈر کے غیر مہذب ، غیر اخلاقی اور ناشائستہ رویے کا استعمال کرنے والے کانام متاثرہ خاتون نے ظاہر کیا، اُس کا ذکر کئے بغیر خاتون کی ساری روئیداد آپ سبھی قارئین کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرنے جا رہا ہوں، اِس اُمید کے ساتھ کہ ہم سب ایک صحتمند اور باعزت سماج کی تکمیل کیلئے فکر مند اورمتحد ہو جائیں ۔
خاتون نے گدھ نما لیڈر کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’’ اک دفعہ میں بے حد اُمید و آس لگائے اپنے ہی علاقہ سنگلدان کے مقامی لیڈر کے پاس گئی اور اُسے کہا کہ میں مصیبت میں مبتلا ہوں،مجبورہوں، لاچار ہوں،بیوہ ہوں،میرا کوئی پرسان حال نہیں ہے اِس لئے میری کچھ مدد فرمائیے !اُس پر نام نہاد لیڈر اور سماج سدھار عناصر نے جو کچھ کہاوہ انتہائی غیر مہذب اور غیر اخلاقی تھا،خود کو سماج سدھار اور لیڈر کہلانے والے اُس شخص نے جواباً متاثرہ خاتون سے یہ کہا کہ’’ ہم بیواؤں کی مدد نہیں کرتے بلکہ اُن کی شادیاںکرتے ہیں‘‘۔رحمتہ بیگم کے مطابق جب میں نے اُس لیڈر کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے سنے، تو میری پاؤں سے زمین کھسک گئی اور میں سوچوں کی دنیا میں کچھ دیر کیلئے غرق ہوئی اور خود کو کوسنے لگی کہ کیا ضرورت پڑی تھی ایسے بے حیا اور بد اخلاق انسان کے پاس آنے کی۔ میں نے ہمت جٹائی اور لڑکھڑاتے پاؤں سےباہر نکلی اور چند میٹر دور آکر بیٹھ گئی۔ رحمتہ بیگم نے آنسوؤں بہاتے ہوئے کہا کہ لیڈر موصوف کا یہ رویہ دیکھ کر میں انتہائی دُکھی ہوئی اور میں نے محسوس کیا یہ گدھ نما لیڈر تو میرے اُس ’دیور ‘سے بھی گرا ہوا ہے ۔وہ تو مجھے سے میری زمین جائداد چھین رہا ہے لیکن اِس شخص جو خود کو لیڈر کہلاتا پھرتا ہے ،نے میری عزت ِ نفس پر ایسی ٹھیس پہنچا دی ، ایسا زخم دیا جو مرتے دم تک ہرا رہے گا۔ متاثرہ خاتون نے کہا :میں نے گویا پہلی بار انسان کے روپ میں ’’درندہ ‘‘دیکھا تھا اور میں اب بہت ڈر چکی ہوں ۔اب کسی سے مدد مانگنے میں بھی ڈر محسوس ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میں معذوری حالت میں خود ہی دفاترکے چکر کاٹنے پر مجبور ہوں۔میں نے خود کو ہی خود کا سہارا بنا دیا ہے، کسی پر اعتبار اب گویا عزت کو نیلام کرنے کے مترادف لگ رہا ہے۔ افسوس صد افسوس ! کہ ہمیں اللہ نے ایسے رہبر عطا کئے جو ہماری عزتوں کو تار تار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ خیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت عطا کرے اور عوام کو ایسے رہبروں کی رہبری سے محفوظ رکھے۔آمین!
یاد رکھئے! ایسے نام نہاد لیڈر اور سماج سدھار کے ٹھیکیدار ’’سماج ‘‘کی بربادی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ ایسے لیڈران کو پہچانیں،اِن کی چوڑی چکنی باتوں پر اِن کی حوصلہ افزائی سے باز رہیں، اِن کی اصلیت کو جانچیں، انہیں پرکھیں۔یہاں ناچیز ایس ڈی ایم گول غیاث الحق صاحب سے مودبانہ و مخلصانہ گزارش کرتا ہوں کہ متاثرہ خاتون کے مسئلے پر ایک بار پھر سے نظر ثانی کی جائے، جس طرح آپ نے پہلی دفعہ معاملے کو ہنگامی بنیاد پر سلجھانے کیلئے متاثرہ خاتون کو انصاف دلانے کی کوشش کر کے انسانیت کےباحیات ہونے کا ثبوت پیش کیا، اِس میں مزید جان ڈالنے کیلئے ایک بار پھر سے متاثرہ خاتون کی مدد فرمایئے اور اللہ کے ہاں اپنے سرخروئی کا سامان پیدا کریں، ان شا اللہ !رب العزت آپ کو اِس کے عوض عظیم انعام سے نوازیں گے۔
آخر میںسنگلدان کے اُن تمام لیڈران کے گوش گزار یہ بات کرتے ہوئے اجازت چاہوں گا کہ آپ کے ہوتے ہوئے آپ کے اپنے علاقے میں مجبوروں ، مفلسوں اور بیواؤں کی اِس قدر تذلیل آپ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے اور آپ کی نااہلی کا ثبوت بھی پیش کرتی ہے۔ آپ سے میرا سوال ہے کہ کیا آپ کا کام صرف ووٹ مانگنے وقت ہی اِن غریبوں کے گھر جانا ہوتاہےاور پھر جب انہیں کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو اُن سے منہ پھر لیتے ہیںاور اُن سے ملنے میں اپنی توہین سمجھتے ہیں؟خدارا ذرا بتایئے،ان مفلس اور لاچار لوگوں سے ملنے یا اُن کی بات سُننےسےکیا آپ کی حیثیت اور تشخص پر کسی قسم کا زک پہنچتا ہے ؟ کیاآپ کو غریبوں کی مدد کرنا اور اُن کے ساتھ چل کر اُن کے مسائل کو حل کرنے میں شرم آتی ہے ؟کیا آپ کو مجبوروں ، مفلسوں اور بیواؤں کے مسائل کو نظر انداز کرنے اور اِن کی تذلیل کرنے میں فخر محسوس ہوتا ہے ؟اگر ایسا ہے تو برائے مہربانی آئندہ کیلئے سماج سدھار اور لیڈری کےفلسفے سنانے اور سمجھانے سے ضرور گریز کیجئے گا کیونکہ اِ س غیر اخلاقی اور انسانیت سوز رویے سے ’’لیڈری ‘‘جیسا لفظ استعمال کرنا گویا لیڈری کی توہین ہے اور کسی غیر مہذب شخص کیلئے کسی معیاری لفظ کا غیر مناسب استعمال بھی کسی المیہ اور سانحہ سے کم نہیں ہوتا ہے۔کیونکہ اِس سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ سماج میں ایسے بھی لیڈر موجودہ ہیں جو مجبوروں اور لاچاروں کی تذلیل کو ہی لیڈری سمجھتے ہیں۔
گول،رام بن
9797110175/7780918848