کبھی کبھی انسانی عظمتوں کے متعلق لکھنا بھی ایک کار دارد والا معاملہ ہوتا ہے۔ مگر جب عظمتوں کے نقوش خود صاحب ِ عظمت کے گواہ ہوں تو کیا کیجئے۔ اور کچھ عظمتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا انکار کسی دشمنی، مخالفت، مسلکی یا فر قہ و ارانہ اختلاف کی صورت میں بھی ناممکن ہوتا ہے۔مولانا نور احمد ترالی کی بڑائی اور عظمت گویا تبلیغ و ترویج و اشاعت ِ دین کے باب میں ایک اصول ایمان کا درجہ رکھتی ہے۔دین ِ اسلام کی بے پناہ خدمت اور نفاذِ شریعت کے ضمن میں بے دریغ قربانیوں کاجب بھی ذکر آئے گا، مولانامرحوم کی ذات قرطاس ِ شعور پہ خیمہ زن ہوتی رہے گی۔ مولانامرحوم کا یہ خاصہ رہا ہے کہ آپ نے علاقہ ترال میںاشاعت و تبلیغ دین کے کام کو جس منہج اور جس اسلوب کے ساتھ کامیابی کے زینے پہ کھڑا کرکے دکھایا ، اس کی مثال ہر ایک تہذیب یا قوم یا علاقہ میں شاذو نادر ہی ملتی ہے۔ مولانامرحوم نے تبلیغ و ترویج اور اشاعت دین کے وصف کو بالکل ہی ایک نئے انداز میں متعارف کرایا اور اسے ایک اداراہ جاتی شکل دی۔وہ اپنی ذات میں خود ایک ادارہ تھے اور ان کا قد اپنے ہم عصر علمائے حق میں اس ایک خاص وصف کی وجہ سے اس قدر اونچا تھا کہ اسکا تقابل اور انکار ناممکنات میں سے ہے۔
مرحوم مولاناؒنے دور فتن اور مصائب میں بکھری ہوئی امت کے چھیتڑوں اور دریدہ اور زنگ آلود ٹکڑوں کو اپنی حکیمانہ اور بصیرت افروز کوششوں سے جس کامیابی کے ساتھ ایک ہی لڑی میں پرویا ،اسکی مثال کوئی دوسری نہیں۔ قرین قیاس ہے کہ وہ اس فن ِ خدائی میں یکتا تھے۔یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ اس کارگاہِ شیشہ گری میں کہیں ان کے ہاتھ لہو لہان ہوئے تو کہیں ان کے دل پہ صد ہا ضربیں آئیں، کبھی اپنوں نے دامن چھڑایا تو کبھی غیروں نے طعنے دئے۔ مگر جب وقت رخصت ان کے تئیں ملت کے بکھرے اجزاء کو یکجا کرنے کی آفریدگاری کو یاد کرتے ہیں تو ان کے اس عظیم کارنامے کے آگے اپنے اور غیر سبھی قدم بوسی کرتے نظر آئے۔ وہ ملت کی بکھری ساخت کو بچانے اور دین میں داخلی اور خارجی خطرات کو بھانپ کر ان کا مداوا کرنے کے چمپئن تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے عظیم والد بزرگوار کے بعد بھی علاقہ ترال کے دینی تشخص کو برقرار رکھنے اور اسے ایک غیر معمولی مقام دینے میں کامیاب رہے۔
دین ِ اِنسانیت کہیے یا اِسلام…جو آج بھی اپنی آفاقی اِنطباق والی پاکیزگی اور طہارت کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے، اپنے آفاقی پیغام میں اِنسانی خدمت کیلئے ہر ذی نفس کو دعوت دیتا ہے۔دراصل یہ وہ واحد دین ہے جو ایک مکمل ضابطہ حیات ہونے کیساتھ ساتھ اِنسان کو روحانی ترقی اور مودّت بین ا لناس کے زندہ و جاوید اصول فراہم کرتا ہے۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ مولانا مرحوم نے شریعت کے اِنہی اِلہامی، آفاقی اور انبیائی اصولوں کی روشنی میںتفکرکیا ، اِن کی منصوبہ بندی کی اور ان کی عمل آوری کیلئے اِنفرادی اور اِجتماعی سطحوں پر عظیم قربانی دی کیونکہ خالقِ کائنات ہر زمانے میں اور موافق و نا موافق حالات میں اپنے بندوں میں سے کسی ایک چہیتے بندے کو شریعت کے اصولوں اوراِن کے نفاذ کیلئے چُن لیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اِس فہرست اِنتخاب میں ہم ہر دہر میں کسی نہ کسی فعال اور پاکباز بندے کو پاتے ہیں۔اللہ رب العزت کُلّی دعوتِ اِسلامی اور تبلیغ کیلئے اپنے خاص ا لخاص بندگان کو ذمّہ داری سونپتے ہیں، اور وقت کی ضرورت اور اہمیت کے پیشِ نظر بارگاہِ ایزدی کچھ خاص بندوں کو شریعت کے اساسی اصولوں کی پاسداری کرنے کیلئے منتخب فرماتے ہیں۔مولانا مرحوم کو اللہ نے واقعتا اپنے دین کی پاسداری کے لئے چن لیا تھا۔
مولانا مرحوم 1942کو ایک ولی کامل اور عظیم عارف باللہ حضرت مولانا نورالدین ترالی ؒ کے گھر میں پیدا ہوئے اور اپنے عظیم والد کی آغوش ِ تربیت میں رہے۔ یہ وہ آغوش ِعلم اور عرفان تھی جو خال خال ہی کسی خوش نصیب کو میسر آتی ہے۔ یہ آغوش ِعلم کیمیا گر کی وہ بھٹی تھی جس کی تپش میں پک کر مس خام کندن بن جاتی ہے۔1961میں مولانا مرحوم کو مدینۃ العلوم حضرت بل سری نگرمیں دینی تعلیم کے حصول کے لئے داخل کیا گیا۔ جہاں سے مولانا مرحوم نے مولوی فاضل کی سند حاصل کی۔ اس دوران وہ کئی اکابر علما کی صحبت و تربیت میں رہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ اپنے والد بزرگوار کی کامل نگاہ و توجہ میں رہے۔ 1966 میں دسویں کا امتحان پاس کرکے1968 میں بحیثیت ایک سرکاری مدرس تعینات ہوئے۔ مگر صرف پانچ سال کے عرصے کے بعد اپنے والد اور راہبر کے کہنے پر سرکاری ملازمت سے کنارہ کش ہوئے اور مدرسہ تعلیم الاسلام ترال سے منسلک ہوکر مدرسے کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ مولانا مرحوم کی زیر نگرانی مدرسہ تعلیم الاسلام ترال نے شاندار ترقی کی اور ان ہی کی قیادت میں دارالعلوم نور الاسلام، اورینٹل کالج ترال، مدرسہ جامعۃ البنات اور اس سے منسلک اقامت گاہ اور مدرسہ تعلیم الاسلام ترال ہائیر اسکنڈری اسکول برائے طلباء کا قیام ممکن ہو سکا۔ مولانا مرحوم کی ہی زیر نگرانی دارالعلوم نور الاسلام کے احاطے میں ایک شاندار جامع مسجد کی تعمیر کی گئی۔ مولانا مرحوم کا دین کی سرخروئی اور اس کے اظہار ِ کل کے لئے کام کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ انسانی عقل اور ارادہ اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ان کا کام اور دائرہ عمل کسی کرامت سے کم نہیں۔ بقول ایک غم زدہ مقرر کے جو مولانا مرحوم کے جنازے کے وقت ہزاروں لوگوں کی ڈھارس بندھا رہے تھیـ ’’لوگو۔۔۔۔!! گواہ رہنا کہ مولانا مرحوم اپنا کام کرکے اور اپنی مکمل ذ مہ داری نبھانے کے بعدہم سے رخصت ہوئے ہیں‘‘ ۔
حضرت مولانا نور الدین ترالی ؒکی حیات میں ہی وہ وعظ و تبلیغ کا کام انجام دیتے رہے اور اپنے والد بزرگوارکے آخری ایام میں امامت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ اور کس قدر عظمت و شان کا مقام ہے کہ حضرت مولانا نور الدین ترالیؒ جیسے عارف باللہ اور ولی کامل نے مولانا موصوف کی اقتداء میں سینکڑوں نمازیں پڑھیں اور مولانا موصوف کے خطبات سنے۔ مولانا مرحوم بحر خطابت کے شنادر تھے۔ وہ رموز اسرار شریعت اور قران و حدیث کے حوالوں پر ایک ایسی موحدانہ اور طاقتور دسترس رکھتے تھے کہ ان کا سامع ایک وجد اور ایک مقناطیسیت کے زیر اثر رہتا تھا۔ در اصل یہ ان کی عالمانہ پختگی اور خطابانہ مہارت کا کمال تھا کہ ان کا سامع ان پر جان نچھاور کرنے کی حدتک محبت رکھتا تھا۔
صاحب موصوف مولانا رومیؒ، حضرت علمدارکشمیرؒ اور حضرت اقبالؒ کے اشعار جب اپنے خطبات میں ایک خاص لے اور رقت آمیز لہجے میں بیان کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ کوئی عارف و صوفی توحید و معرفت کی طغیانی کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ جب وہ اسلام کی سر بلندی اور باطل کے نظام کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ببانگ دہل اعلان حق و صداقت فر ما رہے ہوتے تھے تو ایک مجاہد اور ایک نڈر قائد کی صورت میں جلوہ گر ہوتے تھے۔ جب کبھی شرک و بدعت اور رسوم بد کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے تھے تو ایک پکے اہل الحدیث کی شکل میں نظر آے تھے اور جب حقوق العباد اور صلہ رحمی کا بیان فرماتے تھے تو ایک عاجز و مسکین اور بے بس عام انسان کا روپ دھار لیتے تھے۔ وہ کئی علمی دریائوں کا ایک بحر تھے جو اپنے اندر کئی طوفان اور موجیں سمیٹے ہوئے تھے۔ مولانا مرحوم وحدت ملت و امت کا ایک منارہ تھے۔ جس درد نے انہیں اندر سے کھوکھلا کیا تھا وہ اس درد کو لیکر اپنی پوٹلی میں سمیٹے رخصت ہوئے اور یہی ان کا سرمایہ تھا۔ ملت کے تئیں ان کا درد اور اتفاق واتحاد کے ضمن میں ان کے سینکڑوں خطبات دلدادگانِ دین اور شریعت کے لئے نظر فروز ہیں۔ ان کے خطبات اور مواعظ عامیانہ زبان میں اور ایک خاص الخاص اسلوب میں بیان ہوتے تھے۔ وہ ہمیشہ دقیق مسائل، فروعی بیانات، گہرے علمی اصطلاحات اور لاحاصل اسرار وکیفیات سے اجتناب فرماتے تھے۔
اللہ نے مولانا مرحوم کی ذات میں کئی اوصاف مجتمع کئے تھے۔ وہ ایک استاد، ایک عالم ، ایک داعی، ایک قائد ہونے کے ساتھ ساتھ ملت او ر امت کو درپیش مسائل کے ضمن میں ایک وسیع اور منفرد جدید نظریہ رکھتے تھے۔ ان کا طریقہ کار اور دین کی تبلیغ اور اشاعت زمانے کے بدلتے تقاضوں کے عین مطابق تھا۔ وہ ایک دور رس اور مجتہدانہ صلاحیت کے حامل عالم تھے۔ وہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ دینی تعلیم اوردینی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بالکل دریا کے دو دھاروں کی طرح ہیں جنہیں متوازی طور ایک ہی چینل میں بہنا چاہیے۔ وہ مسلمانوں کی غفلت، دینی لاچاری، تعلیمی پسماندگی، سماجی نابرابری، انحصار علی الاغیار، سیاسی نا پختگی اور معاشرتی بے غیرتی کوکسی گناہ اور بے غیرتی سے کم نہیں سمجھتے تھے۔ وہ اکثر اپنے خطبات اور مواعظ میں علمائے سوء اور جہل سے نالاں رہتے تھے، اس لحاظ سے کہ جس قدر نقصان اور ضرر ان علمائے جہل نے دین و شریعت کو پہنچایا ہے، اس سے بڑا نقصان کسی خارجی قوت کے ذریعے سے دین کو نہیں ہو سکتا۔
مولانا مرحوم کی رخصتی سے ایک بہت بڑا خلاء پیدا ہوگیا ہے جس کو پُر کرنا بہت مشکل ہے۔ نبی کریم صلی علیہ وسلم نے کیا برحق فرمایا کہ عالم حق کی موت ایک مصیبت ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک ایسا ستارہ ہے جو موت کی وجہ سے بے نور ہوگیا۔ ایک اور حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ عالم کی موت سے علم اٹھایا جاتا ہے۔ یعنی انسانیت ان برکات اور فیوض سے محروم ہو جاتی ہے جو ایک عالم کی موجودگی میں میسر رہتی ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ علاقہ ترال کو مولانا مرحوم کا ایک نفیس نعم البدل مل جائے تاکہ تشنگان دین و شریعت کی تشنگی کا موثر ازالہ ہوسکے۔ اللہ پاک مولانا مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے بتائے ہوئے اور نبی کریم صلی علیہ وسلم کے لائے ہوئے کامل اور سچے دین پر ثابت قدم رکھے۔ آمین
کار ما امید و بیم نیست ہر کسے
را جرات تسلیم نیست
ہم فقط خوف و امید سے منسلک ہیں
جراتِ تسلیم ہر شخص کی تقدیر نہیں
کار مردان ا ست تسلیم و رضا
ہر ضعیفاں راست ناید ایں قبا
مردانِ حق کا کام تسلیم و رضا ہے
یہ دستار کسی ناتواں کے سر نہیں باندھی جاتی
زندگی محکم ز تسلیم و رضاست
موت نیرنج و طلسم و سیمیاست
زندگی اپنی قوت تسلیم و رضا سے حاصل کرتی ہے
موت تو فقط اک طلسم اور باطل التباس ہے
رابطہ ۔ترال کشمیر
ای میل۔[email protected]