نئی دہلی// وزیراعظم نریند ر مودی نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر طالبان کا قبضہ ہونے کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منگل کے روز ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔ وزیراعظم کی رہائش گاہ پر بلائی گئی سکیورٹی امور کی کابینی کمیٹی کی میٹنگ میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر اوروزیر خزانہ نرملا سیتا رمن شریک ہوئے ۔ قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے ) اجیت ڈوبھال، خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا اور افغانستان میں ہندوستان کے سفیر رودریندر ٹنڈن بھی میٹنگ میں موجود تھے۔ ٹنڈن آج ہی افغانستان سے ہندوستان واپس ہوئے ہیں۔ سیکورٹی تشویشات کے درمیان حکومت نے کہا ہے کہ وہ مسلسل واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کابل سے ہندوستانی سفارت خانے کے سفارت کاروں اور عملے کی واپسی کے درمیان ، حکومت نے منگل کو کہا کہ وہ افغانستان سے تمام ہندوستانیوں کی محفوظ واپسی کے لیے پرعزم ہے اور افغان شہریوں کو ویزا خدمات بھی فراہم کر رہی ہے ۔وزارت خارجہ نے کہا کہ اسے پہلے ہی افغان سکھ اور ہندو برادریوں کے رہنماؤں کی جانب سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور وہ ان سے رابطے میں ہیں۔ افغانستان سے آنے اور جانے کے لیے اہم چیلنج کابل ہوائی اڈے کی آپریشنل حیثیت ہے ، جہاں تجارتی آپریشن پیر سے معطل تھے ۔وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "اس پر ہمارے ساتھیوں کے ساتھ اعلی سطح پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ، بشمول وزیر خارجہ ایس جے شنکر امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کے ساتھ تبادلہ خیال شامل ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی حکومت تمام ہندوستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے پرعزم ہے اور کابل ایئر پورٹ کو تجارتی آپریشن کے لیے کھولے جانے کے بعد پرواز کا انتظام شروع کردے گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ پہلے ہی افغانستان میں ہیں ان پر فوری طور پر واپس آنے کی تاکید کی گئی ہے جبکہ دیگر کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ وہاں سفر نہ کریں۔ بیان کے مطابق ، "ہماری فوری ترجیح اس وقت افغانستان میں موجود تمام ہندوستانی شہریوں کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنا ہے ۔ ان سے اور/یا ان کے آجروں سے درخواست کی جاتی ہے کہ متعلقہ تفصیلات وزارت خارجہ کے خصوصی افغانستان سیل کے ساتھ شیئر کریں۔