عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے 12 سالہ دور اقتدار میں ہونے والی تبدیلیوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت کی تمام پالیسیوں کا بنیادی مرکز غریبوں کی فلاح و بہبود، شفافیت اور قومی ترقی رہا ہے۔ اس عرصے کے دوران ہندوستان نے ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور عالمی سطح پر ایک بڑی تبدیلی کا مشاہدہ کیا ہے۔ان 12 سالوں کے دوران رونما ہونے والی نمایاں ترین تبدیلیوں اور اقدامات کی تفصیل درج ذیل ہے:غریبوں کی فلاح و بہبود (Garib Kalyan):حکومت کا سب سے بڑا زور پسماندہ طبقات کی ترقی پر رہا ہے۔ Prime Minister of India پورٹل کے مطابق، کروڑوں لوگوں کو بنیادی سہولیات جیسے مکانات، بیت الخلاء ، اور مفت راشن کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ڈیجیٹل انقلاب اور شفافیت:جن دھن، آدھار اور موبائل (JAM) کی تکون کے ذریعے لاکھوں کروڑ روپے براہ راست مستحقین کے بینک کھاتوں (DBT) میں منتقل کیے گئے ہیں، جس سے بدعنوانی اور لیکج میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ڈیجیٹل انڈیا اور یو پی آئی (UPI):ملک نے مالیاتی شمولیت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے، جس سے عام آدمی کی معاشی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں۔معاشی اور ساختی اصلاحات:جی ایس ٹی (GST) جیسے نظام کا نفاذ اور اسٹارٹ اپ کلچر کو فروغ دیا گیا، جس سے ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری میں بہتری آئی۔عالمی سطح پر بڑھتا اثر و رسوخ:ہندوستان کی سفارتی اور تزویراتی (Strategic) پوزیشن عالمی سطح پر مستحکم ہوئی ہے اور دنیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارمز پر ہندوستان کی آواز کو عالمی رہنما تسلیم کرتے ہیں۔ اس عرصے کے دوران حکومت کی پالیسیوں کا ایک اہم مرکز ملک کی ‘‘ناری شکتی’’ یعنی خواتین کی ترقی اور بااختیاری رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی کی رہنمائی میں شروع کی گئی متعدد فلاحی اسکیمیں خواتین کے لیے حقیقی معنوں میں گیم چینجر ثابت ہوئی ہیں۔ ان منصوبوں نے خواتین کو نہ صرف سماجی وقار عطا کیا بلکہ انہیں معاشی طور پر بھی خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حال ہی میں وزیر اعظم نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی کئی خواتین اور مستفیدین کی حوصلہ افزا کہانیاں شیئر کیں جنہوں نے سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھا کر اپنی زندگیوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کی۔خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مودی حکومت نے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ پی ایم آواس یوجنا کے تحت ملک بھر میں کروڑوں خاندانوں کو پکے مکانات فراہم کیے گئے، جن میں بڑی تعداد میں گھروں کی رجسٹری خواتین کے نام پر کی گئی۔ اس اقدام نے دیہی خواتین کو سماجی تحفظ، وقار اور اعتماد فراہم کیا۔ اسی طرح پی ایم اجولا یوجنا کے ذریعے کروڑوں غریب اور دیہی خواتین کو مفت ایل پی جی گیس کنکشن دیے گئے، جس سے انہیں لکڑی اور کوئلے کے دھوئیں سے نجات ملی۔ اس منصوبے نے خواتین کی صحت، سہولت اور معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔خواتین کو مالی طور پر مضبوط بنانے کے لیے حکومت نے کاروبار کے دروازے بھی کھولے ہیں۔ پی ایم مدرا یوجنا کے تحت بغیر ضمانت قرض کی سہولت فراہم کی گئی، جس سے لاکھوں خواتین نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار شروع کیے۔ مدرا یوجنا کے مستفیدین میں تقریباً 70 فیصد خواتین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لکھپتی دیدی یوجنا کے تحت سیلف ہیلپ گروپس (SHGs) سے وابستہ خواتین کو مالی اور تکنیکی تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکیں اور معاشی طور پر خودمختار بن سکیں۔بیٹیوں کی تعلیم اور مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے شروع کی گئی سکنیا سمردھی یوجنا بھی ایک اہم اسکیم سمجھی جاتی ہے۔ یہ منصوبہ آج کروڑوں متوسط اور غریب خاندانوں کے لیے بچت اور سرمایہ کاری کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے، جس سے بچیوں کی اعلیٰ تعلیم اور مستقبل کی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل رہی ہے۔مودی حکومت نے خواتین کو صرف معاشی طور پر ہی نہیں بلکہ سیاسی طور پر بھی بااختیار بنانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت کی جانب سے منظور کیا گیا ‘‘ناری شکتی وندن ادھی نیم’’ خواتین کی سیاسی نمائندگی کو بڑھانے کی سمت ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس قانون کا مقصد خواتین کو قانون ساز اداروں میں زیادہ مواقع فراہم کرنا اور انہیں قومی پالیسی سازی کے عمل میں مزید مؤثر کردار دینا ہے۔مجموعی طور پر گزشتہ 12 برسوں میں خواتین کی فلاح و بہبود، معاشی خودمختاری، سماجی وقار اور سیاسی شمولیت کے لیے شروع کی گئی مختلف اسکیموں نے ملک کی لاکھوں خواتین کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کا دعویٰ کیا ہے، جسے حکومت اپنی بڑی کامیابیوں میں شمار کرتی ہے۔