عظمیٰ نیوزسروس
نئی دہلی// جموں و کشمیر کے ہر شہری کو یکساں طور پر انصاف تک رسائی یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ ست شرما نے راجیہ سبھا میں ایک غیر ستارہ شدہ سوال کے ذریعے مرکزی زیر انتظام علاقے میں مفت قانونی امداد کی خدمات کی مؤثریت کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے حکومت سے “دشا سکیم‘‘کی کارکردگی کے جائزے اور معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے قانونی امداد کو مضبوط بنانے اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر کم کرنے کے لیے کی جانے والی اصلاحات کی تفصیلات طلب کیں۔تحریری جواب میں مرکزی وزارتِ قانون و انصاف، جس کے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال ہیں، نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ کوالٹی کونسل آف انڈیا کی جانب سے کرائے گئے ایک آزادانہ تیسرے فریق کے جائزے میں دشا سکیم کو مؤثر قرار دیا گیا، جس کے بعد اس میں توسیع کرتے ہوئے دشا 2.0کے نام سے 2026تا 2031کے لیے نافذ کیا گیا ہے، جس میں جموں و کشمیر بھی شامل ہے۔
وزارت نے بتایا کہ اس جدید پروگرام کے تحت ٹیلی لا،نیائے بندھو، قانونی خواندگی اور بیداری کی مہمات کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ودھی سنجیونی پلیٹ فارم کو مربوط کیا گیا ہے تاکہ قانونی خدمات کو زیادہ آسان، کم خرچ، تیز رفتار اور عوام کے لیے زیادہ قابل رسائی بنایا جا سکے۔جواب میں جموں و کشمیر میں قانونی خدمات کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا کہ 30جون 2026تک ٹیلی لاپروگرام کے تحت پنچایت سطح پر قائم کامن سروس سینٹروں کے ذریعے مقدمات دائر ہونے سے پہلے 7لاکھ 63 ہزار سے زائد قانونی مشورے فراہم کیے جا چکے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ نچلی سطح پر انصاف تک رسائی کو مضبوط بنانے کے لیے دس امنگ بلاکس میں آٹھ نیائے سہایک خدمات انجام دے رہے ہیں، جنہوں نے اب تک 1,222قانونی امدادی کالوں میں رہنمائی فراہم کی ہے۔اسی طرح جموں و کشمیر بار کونسل کے 197وکلاء نے نیائے بندھو پرو بونو لیگل سروسز پروگرام کے تحت اندراج کرایا ہے تاکہ اہل مستحقین کو بلا معاوضہ قانونی امداد فراہم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر قانونی بیداری اور آگاہی کی مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں۔وزارت نے مزید بتایا کہ دشا 2.0کے تحت ودھی سنجیونی کے نام سے ایک مربوط ڈیجیٹل ڈیش بورڈ متعارف کرایا جائے گا، جس میں مصنوعی ذہانت سے لیس نیائے سیتو چیٹ بوٹ شامل ہوگا، جس کے ذریعے نگرانی، خدمات کی فراہمی اور عوام تک رسائی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ آئندہ پانچ برسوں میں 50لاکھ مستفیدین تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ست شرما نے کہا کہ انصاف تک رسائی کبھی بھی کسی شخص کی مالی حالت یا رہائش کی جگہ پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی اور نچلی سطح کے اداروں کے ذریعے قانونی امداد کو دیہات، دور دراز علاقوں اور محروم طبقات تک پہنچانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں ایسے معاملات اٹھانے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام زیادہ مضبوط، آسانی سے دستیاب اور عوام دوست قانونی خدمات سے مستفید ہوتے رہیں، جبکہ نظامِ انصاف کو مزید مؤثر، شفاف اور جوابدہ بنایا جائے۔ست شرما نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو ہر شہری تک انصاف کی رسائی یقینی بنانے کے عزم پر سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت مسلسل اس بات کے لیے کام کر رہی ہے کہ کوئی بھی شخص مالی مشکلات یا جغرافیائی دوری کے باعث قانونی امداد سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات، نچلی سطح تک رسائی اور عوام دوست اصلاحات کے ذریعے نظامِ انصاف کو عام لوگوں کے مزید قریب لایا جا رہا ہے۔