موجودہ جدید دور میں دنیا جس تیزی کے ساتھ سائنسی ،ڈیجیٹل اور فکری تبدیلیوں سے گزر رہی ہے ،اُس سے تعلیم کے حصول کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، عالمی رابطوں اور اطلاعاتی نظام نے گہرائی کے ساتھ اپنا اثر انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر ڈال دیا ہے۔اب تو کسی بھی قوم کی ترقی محض معاشی وسائل پر نہیں رہی بلکہ
اُس قوم کے تعلیمی نظام، تخلیقی فکر، سائنسی مزاج، تنقیدی شعور اور انسانی اقدار پر منحصر ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ اب ترقی یافتہ قوموں نے تعلیم کو محض کتابی علم تک محدود نہیں رکھاہے، بلکہ اسے تحقیق، مکالمے، برداشت اور انسان دوستی کے فروغ کا ذریعہ بنایا ہے۔ہمارے ملک میں بھی اگرچہ تعلیمی نظام کے سامنے کئی چیلنجزہیں،پھر بھی نئی تعلیمی پالیسی، ڈیجیٹل تعلیم، آن لائن تدریسی ذرائع، سائنسی تحقیق اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی توسیع نے اُمید کی نئی فضا پیدا کردی ہے۔مگر دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کمی، اساتذہ کا فقدان، تعلیمی عدم مساوات اور معیاری تعلیم تک محدود رسائی آج بھی برقرار ہے۔ دوردراز علاقوں کےغریب اور پسماندہ طبقات اب بھی معیاری تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں، جس کے باعث تعلیم بعض اوقات سماجی انصاف کے بجائے طبقاتی تفاوت کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ لاکھوں بچے آج بھی معیاری تعلیم سے محروم کیوں ہیں اور کیا صرف نئی پالیسیوں کے اعلان سے تعلیمی انقلاب ممکن ہے؟ظاہر ہے کہ معیاری تعلیم کا اصل مقصدمحض معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ سچائی، تحقیق، تنقیدی فکر اور حقیقت پسندانہ شعور کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ ایک غیر جانبدار تعلیمی نظام طلاب کو آزادانہ سوچنے، سوال کرنے اور مختلف نظریات کو متوازن انداز میں سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہےاور اگرنظام ِ تعلیم جانبدارانہ طریقوں،متعصب رویوں،سیاسی مفادات یا نظریاتی فکریات کا شکار ہوجائےتو یقیناً تحقیقی اور فکری آزادی متاثر ہوجاتی ہےاور طلاب مختلف نظریات اور متوازن انداز میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم رہ جاتے ہیں اور یک رُخی سوچ کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں،جس سے جمہوری معاشروں کی ترقی و خوشحالی کی راہیں نا ہموار رہ جاتی ہیںاور معاشرتی استحکام اور قومی ترقی کمزور پڑجاتی ہے۔بے شک ایک صحت مند تعلیمی نظام ہی نئی نسل کو سوال کرنے، اختلافِ رائے کو سمجھنے اور حقیقت کو تعصب سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہےاور اگر تعلیم ذہنوں کو کھولنے کے بجائے محدود کرنے لگے تو معاشرے علمی ترقی کے باوجود فکری جمود کا شکار ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران ملک میںنصابی کتابوں اور تعلیمی پالیسیوں میں بعض تبدیلیوں سے شدیدبحث پیدا ہوئی ہے۔ بعض علمی حلقوں کوخدشہ ہے کہ تاریخ کی نئی تعبیر کے نام پر نصاب میں ایسے تغیرات سے تعلیمی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے۔ بعض تاریخی شخصیات کے ابواب کو مختصر یا حذف کئے جانے اور مذہبی و ثقافتی متون کو زیادہ اہمیت دینے جیسے اقدامات پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ این سی ای آر ٹی کے نصابات میں تبدیلیوں پر بھی بحث ہوئی ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر تاریخ کو متوازن تناظر کے بجائے نظریاتی ترجیحات کے مطابق ڈھالا جائے تو نئی نسل حقیقت کو وسیع انداز میں سمجھنے سے محروم ہو سکتی ہے۔یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ ہر ملک اپنے نصاب میں تہذیبی اور ثقافتی عناصر شامل کرتا ہے، مگر اصل اہمیت توازن، شمولیت اور علمی دیانت کی ہوتی ہے۔ اگر نئی نسل کو صرف ایک نظریاتی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے تو اس کی تنقیدی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔ تعلیمی ادارے اُس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب وہاں تحقیق، مکالمہ اور اختلافِ رائے کے لئے جگہ موجود ہو،ورنہ طلاب کی تخلیقی فکر کمزور پڑ جاتی ہے اور نئی نسل مختلف خیالات کو سمجھنے سے قاصر رہ جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ دور کے تقاضے کے مطابق تعلیم کو سیاسی کشمکش، مذہبی عصبیت اور نظریاتی مفادات سے بالاتر رکھا جاناچاہئے۔ نصابی اصلاحات ضروری ہیں، مگر ان کا مقصد فکری وسعت، علمی دیانت، سماجی ہم آہنگی، تحقیق اور حقیقت پسندی کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔
����������������
! موجودہ ددور کا تقاضا اور ہمارا تعلیمی نظام