۔4دنوں کے بعد لاش برآمد ،عوام میں شدید رنج و غم ،فوری انصاف کا مطالبہ
محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے سرحدی گاؤں اڑائی میں کمسن بچی اقراء بانو دختر مشتاق احمد بھٹی کے پراسرار قتل نے پورے خطے کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے پر عوامی حلقوں میں شدید رنج و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تحقیقات کو تیز کرتے ہوئے ملوث عناصر کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔اہل خانہ کے مطابق اقراء بانو 30 مئی کو اپنے گھر کے قریب واقع ایک دکان پر اشیائے خورد و نوش خریدنے کے لیے گئی تھی، تاہم واپس نہ لوٹنے پر اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے اس کی تلاش شروع کر دی۔ بچی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملتے ہی پولیس تھانہ منڈی نے وسیع پیمانے پر تلاش مہم شروع کی اور مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن جاری رکھا گیا۔
پولیس، سیکورٹی ایجنسیوں اور مقامی رضاکاروں کی مسلسل کوششوں کے باوجود بچی کا سراغ نہ مل سکا۔ بعد ازاں 3 جون کو ساتھرہ کے مقام سے ایک کمسن بچی کی لاش برآمد ہوئی، جسے فوری طور پر ضلع ہسپتال پونچھ منتقل کیا گیا۔ قانونی اور طبی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اہل خانہ نے لاش کی شناخت اقراء بانو کے طور پر کی، جس سے پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔معصوم بچی کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر عوامی نمائندوں، سماجی کارکنوں، علماء کرام اور مختلف تنظیموں کے ذمہ داران نے متاثرہ خاندان سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے مکمل یکجہتی کا یقین دلایا۔علاقے کے عوام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس لرزہ خیز جرم میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کر کے سخت ترین سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔فلاح ملت ٹرسٹ اڑائی، شرعی عدلیہ اڑائی، ماسٹر جلال الدین ایجوکیشنل ٹرسٹ، پیر پنچال عوامی ترقیاتی فورم اور دیگر سماجی و فلاحی تنظیموں نے بھی واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اقراء بانو کے قتل نے والدین میں شدید خوف و تشویش پیدا کر دی ہے اور لوگ اپنی بچیوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں۔ مقامی شہریوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ تحقیقات کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور متاثرہ خاندان کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ادھر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی سنجیدگی کے پیش نظر مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں اور حقائق تک پہنچنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اقراء بانو کی المناک موت نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے، جبکہ ہر زبان پر ایک ہی مطالبہ ہے کہ معصوم بچی کے قاتلوں کو جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور عوام کا قانون پر اعتماد برقرار رہے۔