خالق کائنات نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اوراُسےبے شمار نعمتوں سے نوازا، قدرت کی طرف سے عطا کردہ منجملہ نعمتوں میں سے ایک نعمت عقل بھی ہے ۔عقل نے انسان کے لئے ساری کائنات مسخر کر دی، عقل سے محرومی انسان کو جانوروں سے بھی بدتر بنا دیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ منشیات کے استعمال کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرےمیں نشے کی لعنت بڑھتی ہی جا رہی ہے ،خاص طور پر ہماری نوجوان نسل قابل رحم ہے، صورت حال یہ ہے کہ آج ہزار ہا ہزار گھرانے تباہی اور بربادی کے دھانے پر ہیں، خاندان بکھر رہے ہیں، اخلاقی بے راہ روی بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ نشے میں دھت ہو کر مر رہے ہیں، حادثات کا سلسلہ جاری ہے،پھر بھی منشیات کا سلسلہ شباب پر ہے۔ مختلف چیزوں اور مختلف شکلوں میںمنشیات کا زہر نوجوانوں کی صحت اور کردار کو تباہ و برباد کر رہا ہے۔ آج تمام میڈیکل تحقیقات منشیات کے نقصان دہ ہونے پر متفق ہو چکی ہیں۔ منشیات کا سب سے بڑا ضرر انسان کی صحت ،جسم و قوت کو پہنچتا ہے ۔ طبی تحقیقات نیز تجربات اور مشاہدات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ انسان کا جسم منشیات کی وجہ سے مختلف ہولناک امراض کا مجموعہ بن جاتا ہے ۔ایک امریکی ڈاکٹر محقق و مصنف کے مطابق امریکہ میں ایڈز کے چالیس فیصد مریض ایسے ہیں کہ جن کو منشیات کے بے محابا استعمال نے اس اسٹیج تک پہنچایا ہے ۔بے شک منشیات کی لعنت انتہائی پیچیدہ و نفسیاتی امراض کا ذریعہ بھی بنتی ہے اور یہ امراض نشہ باز کے ساتھ اس کے بیوی بچوں کی زندگی کو بھی اجیرن کر دیتے ہیں۔ منشیات کے مضرات کا ایک پہلو مالی نقصان بھی ہے، منشیات کا فروغ معاشرےکی معاشی اور اقتصادی قوت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کےمترادف ہے۔ نشے کے معاشرتی نقصانات بھی بڑے دُکھ دہ ہوتے ہیں۔ اس کے ذریعے بغض و عداوت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، لڑائیاں اور تنازعے شروع ہوتے ہیں ،زوجین کے تعلقات بگڑتے ہیں ،خاندانوں کے رشتے بکھرتے ہیں ،گھر برباد ہوجاتے ہیں اور فتنہ و فساد پیدا ہوجاتےہیں۔ منشیات کے بیشمار نقصانات کا سب سے اہم حصہ دینی و اخلاقی نقصانات ہیں، مختصر یہ کہ منشیات ہزاروں بُرائیوں کا سرچشمہ ہے۔ ہمارےمعاشرہ میں منشیات کی لعنت کے اسباب و محرکات میں سے چند نمایاں امور یہ ہیں ۔ایمانی جذبہ اور خوف خدا کی کمی ، اخلاقی تعلیم و تربیت کا فقدان ، بےکاری اور بڑھتی ہوئی بے روز گاری ، یورپ کی اندھی نقالی ، ذہنی پریشانیاں اور خانگی جھگڑے وغیرہ ۔ لہٰذا سماج میں بڑھتے ہوئے منشیات کے رواج کو ختم کرنے اور معاشرے کو اس بُرائی سے بچانے کے لیے مثبت تدابیر اختیار کرنا لازمی ہے۔ جن میں ایمانی جذبات اور خوف خدا کو بیدار کرنا ، موثر دینی و اخلاقی تربیت ، قرآنی و دینی تعلیم ، بےکاری اور بے دینی کے خاتمے کی کوشش کرنا ،بُری صحبت سے گریز اور اچھی صحبت کا التزام کرنا شامل ہے۔معاشرے کے تمام طبقات کو منشیات کے استعمال کے نقصانات سے باخبر کرنے کی ضرورت ہےاور اُن تمام اسباب و عوامل پر بند لگانے کی کوشش کی جائے جو منشیات کے فروغ میں معاون ہوسکتے ہیں۔تاہم اگر ایک طرف منشیات کے سدباب کے لئے کوششیں جاری رکھی جائیں اور دوسری طرف منشیات کی خریدو فروخت کا سلسلہ جاری رہے تو اس تضاد کا نتیجہ معاشرے کے بگاڑ کی بھیانک شکل کے سوا اور کیا ہوگا ؟ اس لئے جب تک منشیات کے خلاف ہر سطح پر منظم تحریک نہیں چلائی جائے گی،اس لعنت کا خاتمہ نہیں کیا جا سکے گا۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ منشیات مخالف پروگرام کو قریہ قریہ، بستی بستی اورنگر نگر منعقد کرکے عوام الناس کو سمجھایا جائے اور انہیں اس سے بچنے کی ترغیب دی جائے۔ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر قسم کے منشیات کی خریدو فروخت پر مکمل طور پر پابندی عائد کرے۔چنانچہ اس وقت سرکاری سطح پر یا ذرائع ابلاغ کے ذریعے منشیات کی تباہ کاریوں کوجس پیمانے پر پیش کیا جارہا ہے ،وہ قابل ستائش ہےاور منشیات کے استعمال کے خاتمے کے لئے جو مہم جاری ہے ،وہ بھی قابل قدر ہے۔اسی طرح دینی ،سماجی اور سیاسی تنظیمیں بھی اس ناسور کے خاتمے کے لئے جو رول ادا کررہی ہیں،وہ بھی قابل ِ سراہنا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کو صحیح سمجھ عطا فرمائے ،تاکہ وہ اس لعنت کو دور بھگانے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرنے میں کسی قسم کی غفلت نہ بھرتیں۔
����������������