سرینگر // جموں وکشمیر میں منشیات کے کاروبار اور نشہ خوروں سے نشہ چھڑوانے کی خاطر جموں وکشمیر حکام نے کورونا سے کچھ ماہ قبل ڈی ایڈیکشن پالیسی متعارف کرائی تھی جس میں کمشنر سیکریٹری ہیلتھ اتل ڈلونے کہا تھا کہ پالیسی کے تحت اس بدت کا قلع قمع ہو گا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی کورونا کی نذر ہو گئی اور حکام اس پر سوچنے کے بجائے دیگر مسائل میں الجھ کر رہ گئی ۔ وادی میں اس وقت صرف 2 ہی انسداد منشیات مراکز کام کر رہے ہیں ایک جموں وکشمیر پولیس کے زیر استعمال ہے جبکہ دوسرا رعنا واری اسپتال میں قائم کیا گیا ہے ۔کورونا وائرس کے دوران ومعالجہ کی خاطر 4 ہزار سے زیادہ نشہ کرنے والے افراد نے اپنا علاج کرایا جبکہ پولیس کا ڈی ایڈکشن سینٹر بھی عید گاہ سرینگر میں کام کر رہا ہے ۔جموں و کشمیر میں نشیلی ادویات کے استعمال اور کاروبار کو روکنے کیلئے محکمہ صحت و طبی تعلیم کی جانب سے بنائی گئی ڈرگ ڈی ایڈکیشن پالیسی میں ریاست کے دونوں صوبے میںمزید سینٹر قائم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ ڈرگ ڈی ایڈکیشن پالیسی میںکہا گیا تھا کہ سکمز میڈیکل کالج بمنہ کے علاوہ جموں و کشمیر میں تعمیر ہونے والے 5نئے میڈیکل کالجوں میں بھی ڈی ایڈکیشن سہولیات میسر ہونگی۔پالیسی میں ریاستی سرکار نے کہا ہے کہ ضلع اسپتالوں اورسب ضلع اسپتالوں میں قائم ڈی ایڈکیشن سینٹروں کو بھی ترقی دی جائے گی اور ضلع سطح پر موجود ڈی ایڈکیشن سینٹروں میں او پی ڈی خدمات کے علاوہ ایمرجنسی سہولیات، تشخیصی لیبارٹری اور مفت ادویات کی سہولیات شروع کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں گے۔معالجین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی میں معالجین کے رول کے علاوہ پولیس ، زراعت ، اساتذہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے رول کی بات کی گئی تھی، لیکن پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کے نتیجے میں اس وقت نہ صرف کہیں کوئی جانکاری پروگرام ہو رہے ہیں اور نہ ہی مریضوں کو بہتر علاج مل رہا ہے اور نہ سکولوں اور کالجوں کے باہر کوئی جانکاری دی جاتی ہے ۔ ڈرگ ڈی ایڈیکشن سنٹر رعنا واری کے انچارج پروفیسر یاسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ابھر کر سامنے آرہا ہے کہ افیم کا استعمال کرنے والے ہر تین میں سے 1شہری ہپٹاٹس سی کا شکار ہو رہا ہے اور اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو آنے والے ایام میں ان کی زندگیوں کو بچانا بھی مشکل ہو جائے گا ۔ان کا کہنا ہے کہ وادی میں افیم کے استعمال سے ہونے والے اثرات کے بارے میں نوجوانوں کو مکمل جانکاری ہونا ضروری ہے اور تب جا کر اس کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکار نے پہلے ہی ڈرگ ڈی ایڈیشن پالیسی کو منظوری دی ہے اور اس پر کام بھی شروع کیا جاتا لیکن بدقسمتی سے کویڈ 19نے جموں وکشمیر کو جکڑ لیا ۔انہوں نے کہا کہ سرکار کی جانب سے رعنا واری ہسپتال میں او پی ڈی کو کھلا رکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں وہاں علاج ومعالجہ کیا جا رہا ہے ۔ کشمیر عظمیٰ نے اس تعلق سے کمشنر سکریٹری اٹل ڈلو سے بات کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے فون نہیں اٹھایا ۔