سرینگر//ملک گیر مطالبات کے حصہ کے طور سوموارکوپورے جموں کشمیر میں سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز نے احتجاج کیا۔ ایک بیان کے مطابق کارکن، کسان، زرعی مزدوروں نے یکجا ہوکروزیراعظم کی نریندرمودی کی قیادت والی مرکزی سرکار کے خلاف مہم میں تیزی لائی سینٹرآف انڈین ٹریڈ یونینز نے جموں کشمیرمیں سرینگر جموں اور دیگر ضلع صدرمقامات پر سماجی فاصلوں کالحاظ رکھتے ہوئے احتجاج کیا۔احتجاجیوں کے مطالبات میں انکم ٹیکس ادانہ کرنے والے کنبوں کو نقدی7500روپے کی امداد،ان تمام کو راشن سہولیات جنہیں اس کی ضرورت ہو،مفت ٹیکہ کاری،کووڈسے فوت ہوئے افراد کے کنبوں کی مالی معاونت ودیگر سمیت تین زرعی قوانین کو واپس لئے جانا شامل ہیں ۔ کسان رہنماغلام نبی ملک،عبدالرشیدپنڈت،محمد ایوب اشمندری،نے کہاکہ اگست2019سے جموں کشمیر کے روایتی شعبوں سے وابستہ لوگوں کی آمدن میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ان میں سے کچھ جن میں تعمیراتی مزدور، آٹواوربس ڈرائیور،چھوٹے دکاندار اور روزانہ کام کرنے والے شامل ہیں ،کافی زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 23کروڑ لوگ غریبی کی سطح سے نیچے آگئے ہیں اوراپریل2020میں ہرایک گھنٹے میں 170,000 لوگوں نے روزگار کھویا۔ملک میں بھوک اورکم غذائیت میں اضافہ ہوا ہے اورخاص طور سے بچے اس کی زدمیں آئے ہیں۔