ثمیہ ملک
علی الصبح محلے کے ایک شاندار بنگلے کے کمرے کی بالکونی میں ایک نوجوان کرسی پر بیٹھا تھا، نگاہیں آسمان کی طرف کئے افق پر اترتے ہوئے سورج پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ خاموشی سے چائے کے کپ سے چھوٹے چھوٹے گھونٹ لے رہا تھا۔ جیسے وقت اس کے لئے ٹھہر سا گیا ہو۔ کچھ دیر بعد، اس نے آدھا کپ یونہی چھوڑ دیا اور اٹھنے ہی والا تھا کہ اچانک چیخ و پکار کی آواز اُبھری۔ لمحوں میں شور بڑھتا چلا گیا، مگر وہ بدستور ساکت رہا۔ وہ اب بھی کرسی پر بیٹھا آسمان کو تک رہا تھا، گویا اس کے کانوں تک کوئی آواز پہنچ ہی نہ رہی ہو۔
آخر وہ اٹھا اور کمرے میں داخل ہوا۔ سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی، جو اسے سر سے پاؤں تک تیز نظروں سے گھور رہی تھی۔ “یہ چیخنے کی آوازیں کیسی تھیں؟ کیا ہوا تھا؟” وہ بولا
“تمہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ پوچھنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔” لڑکی نے بے رحمی سے جواب دیا۔
“فرق پڑتا ہے، کم از کم یہ تو بتاؤ کہ ہوا کیا” فیروز نے کہا۔ “بوا صحن میں پھسل گئیں۔ پاؤں میں شدید سوجن آگئی ہے، خون بھی بہہ رہا تھا۔ لیکن تم کیوں فکر کر رہے ہو”۔ صائمہ نے بے رحمی سے کہا۔
“اب کیسی ہیں وہ؟” فیروز نے فکرمندی سے پوچھا ۔
“اب بہتر ہے، آرام کر رہی ہیں۔ مگر تمہیں وہاں ہونا چاہیے تھا فیروز۔” صائمہ نے کہا ۔
“ہاں شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ مگر مجھے اندازہ نہیں تھا کہ معاملہ اتنا سنگین ہوگا۔” فیروز میز پر کپ رکھتے ہوئے بولا ۔
“جب کوئی چیخ رہا ہو تو تم کس بات کی امید رکھتے ہو۔” صائمہ لگاتار طعنے کس رہی تھی۔
وہ خاموش ہوگیا۔
دوپہر کے بارہ بجے پورا گھرانہ کھانے کی میز پر جمع ہوا۔ طرح طرح کے لذیذ پکوان سجے ہوئے تھے، مگر فضا میں ایک انجانی کشیدگی موجود تھی۔
“ہمیں پکنک پر جانا چاہیے، فیروز بھائی!” صائمہ خوشی سے بولی۔
“ہاں، مگر بوا اس حالت میں کیسے سفر کریں گی؟ وہ ابھی ٹھیک نہیں ہیں۔ پھر کبھی دیکھیں گے۔” ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
“اگر وہ بیمار نہیں بھی ہوتیں، تو بھی تم کون سا ساتھ دیتے؟ آخر تمہیں کسی سے کیا فرق پڑتا ہے؟” شامی نے تلخی سے کہا۔
“بالکل! اسے اپنے سوا سب برے ہی نظر آتے ہیں، ہم بھی اس کے بھائی بہن!” مائرہ نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ “اس کا ہمیشہ سے یہی رہا ہے غلطی خود کرو اور الزام دوسروں پر ڈال دو!” شامی نے دوبارہ کہا۔
غلطی؟ الزام؟ فیروز نے حیران نظروں سے پوچھا۔ “میں نے کس پر الزام لگایا اور میں نے کیا غلطی کی؟” “بس رہنے دو اب!” مائرہ نے بیزاری سے کہا۔ “نہیں بتاؤ!” فیروز کی آواز بلند ہوگئی۔ “تم وہی ہو نا، جس کی لاپرواہی یا یوں کہوں خود غرضی کی وجہ سے ہمارے پرانے گھر میں آگ لگی اور ابا کی جان چلی گئی؟ بولو۔” مائرہ غصے سے چیخ پڑی۔ “یہ جھوٹ ہے!” فیروز کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ “وہ آگ تمہارے شوہر نیاز کی وجہ سے لگی تھی، اور اس نے الزام مجھ پر ڈال دیا!” اس کا وہ جرم ثابت بھی ہوا، وہ اصل مجرم تھا اور میں بس ایک ملزم۔ “نہیں! میں تمہیں اچھی طرح جانتی ہوں۔ یہ سب تمہاری ہی کارستانی تھی، کیونکہ تم خود غرض ہو!” مائرہ نے سختی سے کہا۔
“خود غرض میں ہوں یا تم سب؟” فیروز نے کرب سے کہا۔ “وہاں جتنی جانیں گئیں، سب تمہارے اپنے حرص و حسد کی وجہ سے گئیں۔ اگر نیاز حسد میں آکر آگ نہ لگاتا، اور تم لوگ اس کا ساتھ نہ دیتے، تو یہ سب کبھی نہ ہوتا!” “مگر ملزم میں ٹھہرا، کیونکہ میں نے تم لوگوں کی بات نہیں مانی، میں نے کسی کو قتل نہیں کیا!”
“میری واحد غلطی یہ ہے کہ میں نے تمہیں مجھ پر کیچڑ اچھالنے نہیں دیا۔ میں نے اپنے وجود کو تماشہ بننے نہیں دیا۔ میں نے تمہارے جھوٹے الزامات کو اپنے کانوں میں اترنے نہیں دیا۔” “کیا یہی خود غرضی ہے؟ آخر تم میری امیدوں کا گلا گھونٹ کر مجھ پر یہ الزام کیسے لگا سکتے ہو؟ بولو، مائرہ!” اس نے غصے میں میز پر ہاتھ دے مارا۔ “فیروز تم۔” “دیکھو صائمہ میں نے وہ آگ نہیں لگائی تھی۔”
“یہاں کوئی نہیں ہے بھائی، تم کس سے بات کر رہے ہو، یہاں کوئی نہیں ہے اور میں جانتی ہوں، وہ آگ تم نے نہیں لگائی تھی۔” “اب اس بات کو چھوڑ دو، پانچ برس گزر چکے ہیں۔”
���
ٹکر، کپوارہ، کشمیر
[email protected]