جموں //ملازمین سے جڑے معاملات کو چندی گڑھ منتقل کرنے کے فیصلہ پر جموں وکشمیر کی وکلاء برادری نے سخت برہمی کا اظہار کیاہے ۔جموں بار ایسو سی ایشن کے صدر ابھینو شرما کاکہناہے’’جموں وکشمیر کے معاملات چند ماہ قبل ہی سنٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل کے دائرہ میں چلے گئے تھے ، ہم وضاحت کا انتظا رکررہے ہیں اور ابھی اس معاملے پر کچھ بات کرنا قبل از وقت ہے ،امید ہے کہ اس پر وضاحت ہوگی ‘‘۔تاہم بار کے سابق صدر و سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل جموںوکشمیر اے وی گپتا کاکہناہے ’’یہ اسی وقت سے طے تھاجب جموں وکشمیر کو یوٹی میں تبدیل کیاگیا، ہم صورتحال میں بہتری کی توقع کررہے ہیں تاکہ اسمبلی انتخابات ہوسکیں اور جموں وکشمیر کوریاست کا درجہ واپس ملے،لیکن ایسا لگتاہے کہ حکومت جموں وکشمیر مستقل طور پر یوٹی ہی رکھناچاہتی ہے ‘‘۔انہوں نے بتایاکہ جموں والوں کیلئے چندی گڑھ جانا پھر بھی آسان رہے گالیکن یہ بات سمجھ سے پرے ہے کہ کشمیراور لداخ کے لوگ کیسے چندی گڑھ پہنچیں گے ‘‘۔ایک اور سینئر وکیل انیل سیٹھی کاکہناہے کہ جموں وکشمیر میں بھی قابل اور ماہر لوگ ہیں اور یہیں پر ایسا کوئی ٹریبونل قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاملات کانمٹارا مقامی سطح پرہی ہوسکے ۔انکاکہناتھا’’کیوں غریب لوگوںکو چندی گڑھ جانے کیلئے مجبور کیاجارہاہے،سب امیر نہیں ہیں ،رہبر تعلیم اور رہبر کھیل ملازم کیسے چندی گڑھ پہنچیں گے ‘‘۔انہوں نے کہاکہ اس معاملے پر جموں بار ایسو سی ایشن کو ترجمانی کرناچاہئے لیکن انہیں اس سے کوئی توقع نہیں ہے ۔بار کے ایک اور سابق صدر ایس ایس سلاتھیہ کاکہناہے کہ جموں وکشمیر کی عدالتوں میں ہزاروں معاملات زیر التوا ہیں جنہیں چندی گڑھ منتقل کرنے کا مطلب یہ ہواکہ ملازمین کو اب وہیں جاناپڑے گا۔انہوںنے تجویز پیش کرتے ہوئے کہاکہ سرینگر اور جموں میں الگ الگ دو شاخوں پر مشتمل بنچ یہیں قائم کیاجاسکتاہے تاکہ نہ ہی غریب عوام اور نہ ہی وکلاء متاثر ہوں ۔ان کاکہناتھاکہ اس معاملے پر جموں اور سرینگر کے وکلاء متحد ہیں اور یہ غریب ملازمین کیلئے ممکن نہیں کہ وہ 600کلو میٹر دور جاکر معاملات کی سنوائی کیلئے پہنچیں ۔اسی طرح سے سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ایس سی گپتا کاکہناہے ’’جب ریاست کادرجہ نہ ہوتو ایسا ہی ہوتاہے ، لوگوں کو بیروزگار بنایاجارہاہے ‘‘۔ان کاکہناتھا’’مجھے اس پر بہت تشویش ہے کیونکہ ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی شناخت کھورہے ہیں ‘‘۔