قانون ساز اسمبلی کی استحقاق کمیٹی رپورٹ میں اہم انکشافات
سرینگر// جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی استحقاق کمیٹی نے مقننہ(منتخب نمائندوں)اور انتظامیہ(بیوروکریسی)کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ بعض انتظامی اقدامات جمہوری نظام کی نمائندہ حیثیت کو کمزور کر سکتے ہیں۔یہ مشاہدات کمیٹی کی پہلی رپورٹ (20252026) میں شامل ہیں، جو 31 مارچ 2026 کو اسمبلی میں پیش کی گئی۔ اہم اعتراضات میں استحقاق کمیٹی نے چند ایسے معاملات کی نشاندہی کی جن سے منتخب نمائندوں کے رول پر قدغن لگتی محسوس ہوتی ہے۔ان میںترقیاتی منصوبوں پر ارکان اسمبلی کے ناموں کی نمائش ظاہر کرنے کی حوصلہ شکنی اورضلعی سطح کی کمیٹیوں کی سربراہی کے حق سے ارکان اسمبلی کو محروم رکھنے کی انتظامی ہدایت شامل ہے۔
اس نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے طریقوں کا تسلسل جمہوری نمائندگی کو منظم انداز میں نظرانداز کرنے کا باعث بن سکتا ہے اور یہ قائم شدہ پارلیمانی کنونشنوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔کمیٹی کے مطابق اگر یہ طرز عمل جاری رہا تو یہ جمہوری نمائندگی کو کمزور کرے گا اور پارلیمانی روایات کے خلاف ہوگا۔ ارکان اسمبلی کی سہولیات پر بھی سوالا ت اٹھائے گئے ہیں رپورٹ میں ارکان اسمبلی کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میںعملے کی دستیابی ،دفتری سہولیات، رہائش اور کلب کی سہولیات شامل ہیں۔کمیٹی نے زور دیا کہ مثبت قانون سازی کے لیے مناسب سہولیات ضروری ہیں۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ:جموں و کشمیر کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں مقننہ کے آئینی کردار کو مضبوط کیا جائے ،کیونکہ پروٹوکول اور اختیارات میں ابہام کشیدگی کو بڑھا رہا ہے ۔اس میں کہا گیا ہے کہ بعض انتظامی رویے ارکان اسمبلی کے استحقاق اور وقار کے مطابق نہیں ہیں۔رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر مقننہ اور انتظامیہ کے درمیان توازن برقرار نہ رکھا گیا تو جمہوری نظام متاثر ہو سکتا ہے۔