بانہال // بانہال کے پنچائتی نمائندوں ،ٹرانسپورٹروں اور عام لوگوں نے بانہال قاضیگنڈ فورلین ٹنل کے آرپار مقامی گاڑیوں کے ٹول ٹیکس کو معاف کرنے کیلئے ایک ٹول پلازہ لامبر بانہال میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا اور انتظامیہ کو متنبہ کیا گیا کہ وہ آئندہ دس روز میں مقامی مسافر گاڑی والوں کا ٹول معاف کرانے کے بارے میں اقدامات کریں ورنہ اس کے خلاف منظم احتجاج کیا جائیگا۔جمعرات کی سہہ پہر ٹول پلازہ بانہال پر کئے گئے اس احتجاجی مظاہرے کی قیادت سیاسی اور سماجی لیڈر اور سرپنچ بنکوٹ محمد الیاس بانہالی کر رہے تھے جبکہ بانہال کے سرکردہ سرپنچ ، پنچ اور ٹرانسپورٹر بھی اس احتجاج کا حصہ تھے۔ اس موقع پر الیاس بانہالی اور دیگران نے اپنی تقریروں میں کہا کہ ضلع رامبن کی رجسٹریشن والی JK-19 نجی اور مسافر گاڑیوں کا ٹول ٹیکس معاف کیا جائے اور کم از کم بانہال اور اس کے بیس کلومیٹر کے دائرے سے تعلق رکھنے والی گاڑیوں کو ٹول ٹیکس سے مستثنی رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بانہال سے نوگام تک جانے والی گاڑی کو بھی جب ٹول ادا کرنا پڑے تو پھر اس ٹول ٹیکس والوں کو ایسٹ انڈیا کمپنی ہی کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی گاڑی والوں نے لاکھوں روپئے کا بنک لون نکال کر آؤ زمینیں بیچ کر گاڑیاں خریدیں ہیں اور اب قدم قدم پر ٹول ٹیکس کی ادائیگی سے ان کی ماہانہ قسطیں بھی ادا نہیں وہ رہی ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ، نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا اور ٹول ٹیکس وصولنے والی کمپنی کو متنبہ کیا ہے کہ وہ مقامی گاڑی والوں کے ٹول ٹیکس کو فوری طور معاف کرنے کا حکم جاری کریں ورنہ دس روز بعد اس زیادتی کے خلاف منظم احتجاجی مہم شروع کی جائے گی۔