کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ حضرت مفتی فیض الوحید نوراللہ مرقدہ صرف 56 برس کی عمر میں داغ مفارقت دے کر راہی ملک عدم ہو جائیں گے۔وہ گزشتہ بیس روز سے علیل تھے۔مفتی صاحب رمضان کے آخری عشرہ میں مرکز المعارف کے قریب مسجد مدینہ میں معتکف تھے۔اسی دوران 26 رمضان المبارک کو ان کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ پہلے وہ گھر منتقل ہو ئے لیکن صحت کے مزید بگڑ جانے کے باعث انھیں اچاریہ شری چندر کالج آف میڈیکل سائنس جموں علاج معالجے کے لیے داخل کیا گیا۔ چند روز کے بعد اگر چہ انھیں ہسپتال سے گھر جانے کی اجازت دی گئی تھی لیکن صحت کے دوبارہ بگڑ جانے کے باعث انھیں ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں وہ یکم جون 2021کو صبح 7بج کر 45 منٹ پر انتقال کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
مفتی فیض الوحید نو راللہ مرقدہ ریاست جموں و کشمیر کی ملت اسلامیہ کا بڑا قیمتی سرمایہ تھے۔مفتی صاحب کا شمار دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز اور ممتاز علماء میںہوتا تھا۔ان کی شخصیت ہشت پہلو تھی۔وہ ریاست کے بلند پایہ عالم دین،مفسر و مترجم قرآن حکیم،لائق و فائق مدرس،فقیہ اور منفرد لہجے کے مقرر و خطیب تھے۔گزشتہ دو عشروں سے جموں و کشمیر کی فضائیں ان کے منفرد لہجے میں قرآنی نغمات سے گونج رہی تھیں۔ قرآن فہمی کی جو ریا ضت انھوں نے ’پسِ دیوارِ زنداں‘طے کی،اس کا نچوڑملت اسلامیہ جموں و کشمیر کے سامنے پیش کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ وہ جموں و کشمیر اور لداخ کے ہر خطے تک اس پیغام کو لے کر پہنچے۔مدارس و مکاتب کے جلسوں،مساجد و مراکزکے مجلسوں اور کالج یونیورسٹیوں کے سیمناروں میں انھوں نے قرآن کا پیغام پہنچایا۔
مفتی فیض الوحیدنو راللہ مرقدہ نے دینی محنت کا مرکز جموں شہر بنایا۔تقسیم ملک کے بعد شاید مفتی صاحب پہلے ایسے عالم ہیں جنھوں نے اس شہر میں مسلمانوں کی دینی تعلیم و تربیت کا جامع منصوبہ مرتب کیا۔ 1992 میں وہ جموں تشریف لائے۔ کچھ مدت اشرف العلوم جولاکہ محلہ جموں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ مفتی صاحب نے 1994 ء میں قاری جمال الدین اور حافظ نذیر احمد کے ساتھ مل کر مرکز المعارف مدینہ ہل بٹھنڈی کی بنیاد ڈالی۔ وہ مر کز المعارف کے بانی اور روح رواں تھے ۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ 1995 میںانھیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا ۔ گیارہ ماہ بعد رہائی نصیب ہو ئی لیکن مئی 1997 ء میں دوبارہ گرفتار کیے گئے۔ ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ عاید کیا گیا۔اس باراسیر ی نے طول کھینچا اور ’جامعہ یوسفیہ‘کی ’مشق سخن‘نے وہ ہیرا تراشا جس نے مفسر قرآن مولانا احمد علی لاہوری ؒاور امیر شریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی یاد تازہ کر دی۔
مفتی فیض الوحید نو راللہ مرقدہ علمی میدان کے شہسوار تھے۔عقوبت خانوں کی بلند و بالافصیلیں ان کے عزم و ارادہ کواڑان بھرنے سے نہ روک سکیں۔انھوں نے رخصت پر عزیمت کو ترجیح دی تھی۔’جامعہ یوسفیہ ‘میں انھوں نے قرآن فہمی کا سبق از سر نویاد کرنا شروع کیا۔جس کا ظاہری سبب یہ بنا کہ مفتی صاحب کی ماں بولی گوجری میںقرآن کریم کا طبع شدہ ترجمہ ابھی تک شائع نہیں ہوا تھا۔کئی علماء نے اس ضمن میں خدمات انجام دی تھیں ۔ایسی ہی ایک کوشش مفتی صاحب کے ایک مشفق استاد حضرت مولانا عابد حسین رحمانی کو لی نے کی تھی۔ انھوں نے گوجری زبان میں تحت اللفظ ترجمہ کیا تھا جو بارہ تیرہ برس گزرنے کے باوجود شائع نہیں ہوا تھا۔مفتی صاحب کے بعض احباب نے اس ترجمہ پر نظر ثانی کا مشورہ دیا۔ مفتی صاحب نے جیل کی تنہائی اور فرصت کو اس کام کے لیے موزوں سمجھا۔جیل ہی میں ان تک مسودہ پہنچا دیا گیا۔ جب انھوں نے ترجمہ کا مطالعہ شروع کیا تومحسوس ہوا کہ قرآن حکیم کی تفہیم کی سلیس اور رواں کوشش کی جانی چاہئے ۔مفتی صاحب نے اس حوالے سے مولانا عابد حسین رحمانی کو بھی اعتماد میں لیا اور ان سے اجازت کے بعدقرآن کریم کے ترجمہ پر نظر ثانی شروع کی۔ انھوں نے تفسیری نوٹ حاشیے پر تحریر کیے تاکہ گوجری زباں میں اوّلیں ترجمہ ہونے کے ساتھ ساتھ تفسیر بھی لکھی جا سکے تاکہ قارئین قرآنی مفاہیم سمجھنے میں کوئی دقت محسوس نہ کریں۔
مفتی فیض الوحید نو ر اللہ مرقدہ کی قید کی تنہائیاں اب قرآن حکیم کے لیے وقف ہو گئی تھیں۔ وہ قرآنی علوم میں غوطہ زن ہو گئے۔ 5 جنوری 1999 ء کو ترجمہ و تفسیر کا کام ’زنداں مرکزی جموں‘ میںمکمل ہوا جو بعد میں 2004 میں مرکز المعارف جموں سے ’’فیض المنان ‘‘ نام سے شائع ہوا۔ ایام اسیری میںانھوں نے پوری قوت سے کلام الٰہی کو اپنی قید کے ساتھیوں تک بھی پہنچایا۔ انھیں جب کبھی موقع ملا جیل میں قرآنی دروس کے حلقے لگا کراس کی تاریکی کو نور سے منور کیا۔پھر اللہ کریم نے اس قیمتی ہیرے کوضائع ہونے سے بھی محفوظ رکھا۔ ورنہ کتنے آفتاب و ماہتاب عقوبت خانوں کی نذر ہو کرصفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے۔ اگست 2000 ء میں انھیں رہائی نصیب ہوئی۔ وہ دوبارہ مرکز المعارف میں درس و تدریس کے کام میں مصروف ہو گئے۔
مفتی صاحب نے جیل کی تنہائیوں میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کے ان دو ارشادات پر خوب غور کیا ہوگا جو انھوں نے مالٹا جیل کی اسیری ختم ہونے کے بعددارالعلوم دیوبند میں ایک بڑے جلسے میں ارشاد فرمائے تھے۔انھوں نے ارشاد فرمایا تھا:
’’میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہو رہے ہیںتو اس کے دو سبب معلوم ہوئے۔ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا اور دوسرے ان کے آپس کے اختلافات۔اس لیے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے اور مسلمانوں کے باہمی جنگ وجدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے۔‘‘
مفتی فیض الوحید نور اللہ مر قدہ نے حضرت شیخ الہند ؒکے نقش قدم پر چلتے ہوئے قرآن کریم کے پیغام کو عام کرنے کے لیے اپنے خطبوں کا ماخذ قرآنی آیات بنایا۔کوئی بھی موضوع ہو مفتی صاحب کی زبان سے صرف قرآن جاری ہوتا تھا۔یوں محسوس ہوتا تھا جیسے قرآنی علوم ان پر نازل ہو رہے ہیں:
ترے ضمیر پر جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف
(اقبال)
مفتی صاحب نور اللہ مرقدہ نے قرآن کو عام لوگوں تک پہنچانے اور سمجھانے کے لیے تفسیری حلقے بھی قائم کیے۔رمضان شریف کا مہینہ تو قرآن کے لیے وقف تھا۔قرآن کریم کا ایک پارہ روزانہ ترجمہ و تفسیر کے ساتھ بیان ہوتا تھا۔ یہ سلسلہ مدینہ مسجد میں سال 2014 میںشروع ہوا۔ مدینہ مسجد بٹھنڈی میںقرآن کی تفسیر وترجمہ کا کئی ادوارہوئے۔ان تفسیری مجلسوں میں علماء کے علاوہ مروجہ تعلیم سے آراستہ اونچے عہدوں پر فائز جدید ذہن کا نوجوان طبقہ خاص طور پر شریک ہوتا تھا۔مفتی صاحب نے اس طبقہ پر بہت محنت کی۔جموں وکشمیر میں نوجوانوں کی بڑی تعداد ان سے متاثر ہو کر صوم و صلوٰۃ کی پابندی کے علاوہ دینی ماحول میں رنگ گئی۔
مفتی صاحب نے قرآنی پیغام کو عام کرنے کے لیے سو شل میڈیا کا سہارا بھی لیا۔ عظیم داعی ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے بیان القرآن کے بعد مفتی صاحب کے قرآنی حلقوں کا ترجمہ وتفسیرآڈیو صورت میں سوشل میڈیا پر عوام تک پہنچا۔
مفتی صاحب ایک مثالی شخصیت تھے۔ان کی ذات تمام طبقات کے لیے قابل قبول تھی۔وہ مسلمانوں کی وحدت کے علمبردار تھے۔جموں ایک حساس مقام ہے جہاں مسلمان اقلیت میں ہونے کے باوجودمختلف مسلکی وفروعی تنازعات کا شکار ہیں۔لیکن مفتی صاحب کی موجودگی تمام لوگوںکے لیے باعث سکون اطمینان تھی۔ موسم سرما میں چھ ماہ کے لئے سیکریٹریٹ کی منتقلی کے ساتھ کشمیر کے اعلیٰ آفیسر جموں جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ طلباء و تاجر پیشہ لوگوں کی بڑی تعداد جموں میں سال بھر مقیم رہتی ہے۔ ان تمام لوگوںکے لیے مرکز المعارف اور مفتی صاحب کی ذات ایک جانا پہچانا نام تھا۔
افسوس صد افسوس! مفتی صاحب اپنے کام میں ہمہ تن مصروف تھے کہ بیماری نے آگھیرا۔ صرف بیس دن کے عرصے میں صحت بگڑتی گئی اور بالآخر ہزاروں محبان،سینکڑوں طلباء اورپانچ بچیوں کوسوگوار چھوڑ کر اپنے رب سے جاملے۔ اللہ تعالیٰ جنت نشیںفرمائے ۔ آمین
رابطہ۔ 8491096996